قوموں کی ترقی‘ مادری زبانوں میں تعلیم فراہمی ناگزیر قرار 

قوموں کی ترقی‘ مادری زبانوں میں تعلیم فراہمی ناگزیر قرار 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور(سٹی رپورٹر) قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤنے مادری زبانوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ قوموں کی ترقی کا راز مادری زبانوں میں بنیادی تعلیم کی فراہمی میں پہناں ہے۔انھوں نے کہا کہ عدم توجہی کی بدولت مادری زبانیں اپنی اہمیت کھو رہی ہے لہٰذا حکمران اس طرف خصوصی توجہ دے کر مادری زبانوں کی اہمیت اجاگرکرنے کیلئے کردار ادا کرے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایک انسان کی شخصیت کی تعمیر میں جن عناصر کی شمولیت سے نکھار پیدا ہوتا ہے اس میں مادری زبان کے استعمال اور اس کے تحفظ کے احساسات کا کلیدی کردار ہوتاہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے وطن کور پشاور میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں قومی وطن پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین ہاشم بابر،طارق احمد خان،سید فیاض علی شاہ،ڈاکٹر عالم یوسفزئی،ڈاکٹر فاروق افضل،عوامی ورکرز پارٹی کے صوبائی صدر اخونزادہ حیدر زمان اور،پشتو زبان کے دانشوروں،ادبااورشعراء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سکندر شیرپاؤ نے پشتو زبان کی ترقی و تریج کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جن اقوام نے اپنی مادری زبانوں کو اپنانے سمیت اپنی نئی نسل کو اپنی تاریخ سے روشناس کرایا انھوں نے ہر میدان میں ترقی کی۔انھوں نے کہا کہ ترقیافتہ قوم کی ترقیافتہ زبان ایک ترقی یافتہ کلچر بناتا ہے جو کہ معاشرے کو خوبصورتی،ترقی اور امن کا پیغام دیتا ہے اور یہی پیغام قومی وطن پارٹی کا ہے جس کیلئے پارٹی کی کوشش جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ یہاں پر بھی مادری زبانوں میں تعلیمی نظام رائج کرنے پر توجہ دی جائے اور مادری زبانوں کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ سنگین صورتحال میں شعراء،ادبااوردانشوروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر قوم کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے جدوجہد کرے۔انھوں نے کہا کہ آج پختون قوم کوحکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی بدولت بے تحاشہ مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت تمام مادری زبانوں کی ترویج اور اشاعت کے لیے جامع اقدامات اٹھائیں۔انھوں نے پختون شاعروں،دانشوروں اور ادیبوں پر بھی زور دیا کہ وہ پشتو زبان کی ترقی کے لیے اپنا کلیدی کردار اداکرے۔انھوں نے بعض پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی طرف سے پشتو زبان پر قد غن لگانے کی مزمت کی اور اس اقدام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انھوں نے کہا کہ تمام مادری زبانوں کے ادباء و شعراء و محققین کو سرکاری سرپرستی دیکر ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ قومی وطن پارٹی کو جب بھی موقع ملا مادری زبانوں کے شعراء و ادبا کی تصانیف کی اشاعت کیلئے عملی اقدامات اٹھائے گی۔