چیئر مین قومی احتساب بیورو آفتاب سلطان کا استعفا منظور، نیب نے عمران، بشری ٰ بی بی، شاہ محمود، فواد، خٹک کو طلب کر لیا

چیئر مین قومی احتساب بیورو آفتاب سلطان کا استعفا منظور، نیب نے عمران، بشری ٰ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین قومی احتساب بیوروآفتاب سلطان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم شہباز شریف نے منظور کر لیا، چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے وزیراعظم سے ملاقات میں کہا کہ وہ اس ماحول میں کام نہیں کر سکتے۔ آفتاب سلطان نے کہا میں نہیں چاہتا سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی طرح کا کردار ادا کروں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آفتاب سلطان پر کچھ گرفتاریوں کے لیے دباؤ تھا لیکن انہوں نے گرفتاریوں سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل آفتاب سلطان نے نیب ہیڈکوارٹر میں اپنے الوداعی خطاب میں کہا  بہت خوش اور مطمئن ہوں کہ اپنے اصولوں کو برقرار رکھا، کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکا، اپنی زندگی اور پیشہ ورانہ کیریئر میں قانون کے مطابق کام  کرنے کی کوشش کی۔ آفتاب سلطان نے مزید کہا کہ میں نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، ہمارا  آئین ہمارے تمام مسائل کا حل فراہم کرتا ہے، آئین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آج ہم سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہیں، سیاسی عمل اور انتخابات کا تسلسل ضروری ہے۔سبکدوش چیئرمین نیب نے کہا کہ میں کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ نہیں چلا سکتا، نہ کسی کے خلاف قائم ریفرنس محض اس بنیاد پر ختم کر سکتا ہوں کہ ملزم کسی بڑی شخصیت کا رشتہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے نوجوان افسران پر یقین ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو برقرار رکھیں گیچیئرمین نیب آفتاب سلطان کے مستعفی ہونے کے بعد ڈپٹی چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے قائم مقام چیئرمین کا چارج سنبھال لیا،حکومت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف انکوائری شروع کرنے کے لئے فہرست قائم مقام چیئرمین کو بھجوا دی ہے۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بعد آئندہ چند ہفتوں میں تحریک انصاف کے مزید رہنماؤں کو نیب طلب کرنے کے لئے نوٹسز کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق  آفتاب سلطان کے استعفے کے بعد ڈپٹی چیئرمین نیب  ظاہر  شاہ نے قائم مقام چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ظاہر شاہ  نیب کے افسر ہیں وہ ڈی جی راولپنڈی، ڈی جی آپریشنز سمیت مختلف  اہم عہدوں پر تعینات رہے ہیں، عمران خان  دور حکومت میں ظاہر شاہ کو سنیارٹی کی بنیاد پر ڈپٹی چیئرمین لگایا گیا تھا۔ چیئرمین نیب آفتاب سلطان مستعفی ہونے پر حکومت نے نئے چیئرمین نیب کی تلاش شروع کر دی۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد وفاقی حکومت نے نئے چیئرمین نیب کے لئے تین ناموں پر غور شروع کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق نئے چیئرمین نیب کیلئے اعظم سلیمان، عرفان الٰہی اور یوسف کھوکھر کے نامور پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
چیئرمین نیب

  اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) قومی احتساب بیورو (نیب) نے توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کیلئے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 9 مارچ کو طلب کرلیا۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 9 مارچ کی صبح نیب راولپنڈی میں طلب کیا گیا ہے۔ نیب کے نوٹس میں عمران خان سے توشہ خانہ سے لیے گئے 7 تحفوں کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔نوٹس میں شامل تحفوں میں 6 رولیکس گھڑیوں کا سوال پوچھا گیا۔ اس کے علاوہ قطری مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے دیے گئے ایک آئی فون کے بارے میں بھی سوال شامل ہے۔نیب ذرائع کے مطابق توشہ خانہ کیس میں 7 مارچ کو تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی کو بھی طلب کیا گیا ہے جبکہ فواد چوہدری کو  8 مارچ کو طلب کر لیا گیا ہے۔ڈی جی نیب راولپنڈی توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں، واضح رہے سابق وزیر اعظم عمران خان پر توشہ خانہ کے تحائف لیتے ہوئے اشیاء  کے کم ریٹ لگانے کا الزام ہے۔توشہ خانہ کیس میں فواد چودھری اور شاہ محمود قریشی کو بھی نیب نے طلب کیا ہے، اس کے علاوہ نیب نے توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کیلئے ٹیم دبئی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے تحقیقات کرنے والی نیب کی ٹیم جلد متحدہ عرب امارات روانہ ہوگی۔دوسری طرف سیشن کورٹ اسلام آباد نے توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق کیس میں عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی 28 فروری تک ملتوی کر دی،۔ جج نے ریمارکس دئیے کہ عمران خان کی پمز سے طبی رپورٹ بنوا لیتے ہیں، عمران خان کا ایم ایل سی دکھا دیں تاکہ انجری کی نوعیت دیکھ لیں۔ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق عمران خان کے خلاف فوجداری کیس کی سماعت ہوئی، عمران خان اور الیکشن کمیشن کے وکیل سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے۔ وکلا نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی، وکیل گوہر علی خان نے عدالت کو بتایا کہ 28 فروری کو عمران خان کا ایکسرے ہوجائے گا، آج عمران خان کا اسلام آباد آنے کا مسئلہ تھا، جج نے ریمارکس دئیے کہ ایسے رہا تو ٹرائل لمبا ہوتا چلا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر اعتراض اٹھادیا، وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں اپنے پاں پر کھڑے ہو کر گئے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے عمران خان کا پمز سے طبی معائنہ کروانے کی استدعا کردی۔ معززجج نے ریمارکس دئیے کہ عمران خان کی پمز سے طبی رپورٹ بنوا لیتے ہیں، عمران خان کا ایم ایل سی دکھا دیں تاکہ انجری کی نوعیت دیکھ لیں۔ جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو آج بھی ذاتی حیثیت میں عدالت نے طلب کر رکھا تھا، ہر تاریخ پر حاضری سے استثنی دیا جا رہا ہے۔ وکیل گوہر علی خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ گئے، اسلام آباد کچہری میں پیشی تھوڑی مشکل ہے، کیس غیرسنجیدہ ہے، ڈاکٹروں کی ہدایت اور سکیورٹی وجوہات کے باعث عمران خان نہیں آئے، عمران خان پر انسدادِ دہشت گردی اور دیگر عدالتوں میں بھی کیسز ہیں۔ جج نے عمران خان کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ ہم مسلسل آپ لوگوں کی مان ہی رہے ہیں، صرف کاپیاں فراہم کر کے فرد جرم عائد کرنی ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے وکلا کو کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ فیصلے کیخلاف احتجاج پر درج مقدمے سے دہشتگردی کی دفعات خارج کرنے کی درخواست پر عمران خان کو بائیومیٹرک کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان اور علی نواز اعوان کی مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے کی درخواست پر سماعت جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی۔جسٹس محسن اخترکیانی نے عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری سے سوال کیا کہ آپ نے ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کیوں نہیں کی؟ آپ چاہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ انسداد دہشت گردی عدالت کے پراسیکیوٹر کو ڈائریکشن دے؟جسٹس طارق محمود جہانگیری کے استفسار پر وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ ابھی تک چالان پیش نہیں ہوا، پراسیکیوٹر انسداد دہشت گردی عدالت کو ہم نے درخواست دی ہے، ہم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ دفعہ حذف کی جائے۔عدالت نے عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا پراسیکیوٹر کو ہم ہدایت دیں گے؟عدالت نے ٹرائل کورٹ کو درخواست دینے سے متعلق قانون پڑھنے کی ہدایت کی اور سوال کیا کہ کیا پراسیکیوٹر کے پاس دہشت گردی کی دفعہ نکالنے کا اختیار ہے؟وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ پراسیکیوٹرکی ڈیوٹی ہے کہ وہ دیکھے کہ دہشت گردی کی دفعہ لگتی ہے یا نہیں، چالان پیش نہیں ہوا، ابھی تفتیش جاری ہے۔عدالت نے سوال کیا کہ تفتیش کے دوران کیسے پٹیشن قابل سماعت ہے؟ کیا پراسیکیوٹر نے درخواست پرکوئی آرڈر کیا ہے؟عدالت نے دہشت گردی کی دفعات حذف کرنیکی عمران خان کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ سنا دیا۔
نیب طلبی

مزید :

صفحہ اول -