مسلم لیگ (ن) کے دور میں مجموعی قومی پیداوار میں 112ارب ڈالر ارضافہ ہوا: اسحاق ڈار

مسلم لیگ (ن) کے دور میں مجموعی قومی پیداوار میں 112ارب ڈالر ارضافہ ہوا: اسحاق ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ  مسلم لیگ(ن) کے پانچ سالہ دور حکومت میں مجموعی قومی پیداوار کے حجم میں 112ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ پاکستان کے چار سالہ دور حکومت میں ناقص معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں محض 26 اربڈالر کا ہی اضافہ ہو سکا،سے 2018 کے دوران پائیدار بلند شرح نمو کے نتیجہ میں پاکستان کی معیشت دنیا میں 24ویں نمبر پر آ گئی تھی، دنیا کے معتبر ادارے پاکستان کی ترقی کے معترف تھے جبکہ حکومت کی جانب سے معاشی اشاریوں سے متعلق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے ادوار کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا  مسلم لیگ(ن) کے پانچ سالہ دور حکومت میں مجموعی قومی پیداوار کے حجم میں 112 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ پاکستان کے چار سالہ دور حکومت میں ناقص معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں محض 26 اربڈالر کا ہی اضافہ ہو سکا۔ 112 ارب ڈالر کے اضافے کا موازنہ صرف 26 ارب ڈالر کے اضافے سے آپ خود کر سکتے ہیں جب2013 میں مسلم لیگ(ن) نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تب پاکستان کی فی کس آمدنی 1389 ڈالر تھی اس میں مضبوط معاشی پالیسیوں اور ہمارے قائد کے وژن کی بدولت یہ 379 ڈالر کے واضح اضافے کے ساتھ 1768 ڈالر تک پہنچ گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے سطحی قسم کے اقدامات کی وجہ سے محض 30 ڈالر کا ہی اضافہ کر کے فی کس آمدنی کو 1798 ڈالر تک ہی پہنچا سکی۔انہوں نے کہا کہ!پاکستان سٹاک ایکسچینج جس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2018میں 100 ارب ڈالر تھی جو کہ پاکستان پر سرمایہ داروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی تھی کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 26 ارب ڈالر پر لاکھڑاکیا۔ یہ کی سرمایہ داروں کے پاکستان تحریک انصاف حکومت پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتامسلم لیگ(ن) کی حکومت ہمیشہ سے ملکی قرضوں میں کم سے کم اضافے کی کوشش کرتی ہے 2018 میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو قرضوں کا حجم 24,953 ارب روپے تھا جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے چار سالہ دور حکومت میں بڑھ کر 44,383 ارب روپے ہو گیا۔ یہ قرضوں کا حجم جو کہ 2018 میں جی ڈی بی کا63.7 فیصد تھا بڑھ کر 2022 میں %73.5 ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں ہماری سالانہ قرضوں کی ادائیگی اس مالی سال میں 5,000 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی۔2013 سے 2018 کے دوران پائیدار بلند شرح نمو کے نتیجہ میں پاکستان کی معیشت دنیا میں 24ویں نمبر پر آ گئی تھی۔ دنیا کے معتبر ادارے پاکستان کی ترقی کے معترف تھے۔ جاپان کے معروف ادارے JETRO نے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)کے حوالے سے پاکستان کو دنیا کا دوسرا پسندیدہ ترین ملک قرار دیا تھا۔ اسی طرح پاکستان سٹاک اینچ جنوبی ایشیا میں اول نمبر پر تھی۔انہوں نے کہا کہ!معزز اراکین کو یاد ہوگا کہ 18-2017 میں معیشت کی نمو 6% سے تجاوز کر چکی تھی۔ افراط زر کی شرح %5 سے کم تھی۔ کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی میں سالانہ اوسط اضافہ صرف %2 تھا۔ ان حالات میں اچانک ایک ایسی غیر سیاسی تبدیلی لائی گئی جس نے ایک کامیاب اور بھر پور مینڈیٹ کی حامل حکومت کو اپاہج کر دیا۔ پھر 2018 کے الیکشن میں ایک سلیکٹڈحکومتوجود میں آئی۔ اس سلیکٹڈ حکومت کی معاشی ناکامیوں پراتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جو ملک دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بن چکا تھا وہ 2022 میں گر کر 47ویں نمبر پر آ گیا۔میں اس معزز ایوان کے توسط سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاشی تنزلی کی وجوہات جاننے کیلئے ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس تہہ تک پہنچے کہ ملکی مفاد کے خلاف یہ سازش کیسے اور کس نے کی جس کے نتیجے میں قوم آج ایک بھاری قیمت ادا کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ!موجودہ حکومت کو ایک بیمار معیشت ورثے میں ملی۔ مالیاتی خسارہ موجودہ دور کی بلند ترین شرح یعنی 7.9 فیصد پر تھا۔ بیرونی ادائیگیوں کا خسارہ 17.4 ارب ڈالر تھا اور تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر پر پہنچ چکا تھا۔ معیشت تباہی کے دھانے پر تھی۔ ہم نے 2018 تک معیشت کو مضبوط معاشی بنیادوں پر کھڑا کیا تھا۔ ہمارے پیش روں نے اسے برباد کر کے رکھ دیا۔موجودہ حکومت کو آئے ہوئے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے اور معیشت کو سنبھالا دیا جا رہا تھا کہ تاریخی سیلاب کی ناگہانی آفت نے اپوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں سے بیشتر بے گھر ہوئے اور 1,730 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس قدرتی آفت سے مجموعی نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر یعنی تقریبا 8 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے۔ وزیر  خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے میسرز روتھ چائلڈ اینڈ کو کے منیجنگ ڈائریکٹر ایرک لالو پارٹنر اور مسٹر تھیباؤڈ فورکیڈ نے منگل کو فنانس ڈویڑن میں ملاقات کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اور فنانس ڈویڑن کے سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وفد کو خوش آمدید کہا اور ملک کے معاشی صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت ملکی معیشت کو استحکام اور ترقی کی جانب گامزن کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بطور وزیر خزانہ انہوں نے ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کیا ہے اور موجودہ حکومت موجودہ پروگرام کو مکمل کرنے اور تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ وفد نے وزیر خزانہ کو کمپنی کے پروفائل اور دنیا بھر کے مختلف ممالک کو فراہم کی جانے والی اس کی مالیاتی خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وفد نے حکومت کی جانب سے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لئے اٹھائے گئے پالیسی اقدامات کی حمایت کی اور حکومت کی عملی پالیسیوں کی بدولت پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول پر اعتماد کا اظہار کیا۔ 
اسحاق ڈار

مزید :

صفحہ اول -