آخر ہمارا کیا بنے گا   

 آخر ہمارا کیا بنے گا   

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 وہ سیلزمین سے شرمندہ ہوتے ہوئے بولا"کیا اس سے تھوڑا کم کوالٹی والا آٹا نہیں ملے گا؟"سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں مجھے سارا معاملہ سمجھ آگیا۔وہ ضعیف اور باریش بزرگ مہنگائی کا مارا انسان تھا۔وہ خوددار انسان آٹا خریدنے کیلیے آیا تھا مگر جب سیلزمین نے اسے آٹے کی قیمت بتائی تو وہ اندر ہی کئی ہزار ٹکڑوں میں کٹ گیا۔سیلزمین کے انکا ر پر وہ خوددار آٹا لیے بغیر سٹور سے نکل گیا۔میری آنکھوں میں وہ منظر سلوموشن کی طرح ریکارڈ ہوگیا۔اس خوددار انسان کی وہ مایوسی اور خودی مجھے دنیا سے بیزار کر گئی۔تجسس کی کیفیت میں میں اس انسان کے پیچھے سٹور سے باہر نکلا تاکہ دیکھ سکوں کہ اس باریش بزرگ کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔سٹور سے باہر اس کی توجہ ساتھ ہی واقع دوسرے سٹور کی جانب مبذول تھی۔وہاں سبسیڈائزڈ آتا تقسیم ہورہا تھا لیکن کوئی عزت نفس رکھنے والا انسان اس بھیڑ کی جانب بڑھنے کا سوچ بھی نھی سکتا تھا۔سٹور کے باہر سینکڑں لوگوں کا ہجوم موجود تھاجو اس آٹے کے حصول کیلیے جمع ہوا تھا، لوگ ایک دوسروں کے کندھوں کے اوپر سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ لوگ زیادہ تھے اور آتا کم تھا۔ہر شخص آٹے کو حاصل کرنے کی کوشش میں تھا۔سٹور ملازمین اس ہجوم کے سامنے بے بس ہو کر ایک کونے میں کھڑے تھے اور ہجوم نے پورے سٹور کو گھیرے میں لیا ہوا تھا اس ہجوم میں خواتین بھی شامل تھیں ان سب لوگوں نے اپنی فیمیلیز کا پیٹ بھرنا تھا اور آٹے کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی بدولت وہ یہاں سستا آٹا لینے کیلیے آئے تھے۔لیکن مجال تھی کہ کسی کو عزت کے ساتھ آٹا ملتالوگ ایک دوسرے کے اوپر چڑھ کر آگے بڑھنے کی کوششیں کر رہے تھے۔  

 باریش بزرگ نے کچھ دیر ہجوم کی طرف دیکھا اور پھر ہجوم اور ذلت دیکھ کر اپنے قدم پیچھے ہٹالئے اور نامراد واپس لوٹا۔میں زندگی بھر وہ منظر نہ بھول سکوں گاجس بے بسی کے ساتھ میں نے اس بزرگ کو نامراد لوٹتے دیکھا تھا، اپنی پیشانی پر ہزار گلے شکوے سجائے وہ اس سسٹم کی ناکامی کا چیخ چیخ کر اعتراف کررہاتھالیکن وہاں کوئی ایسا صاحب بصیرت موجود نہیں تھا کہ جو اس مجبور انسان کی شناخت کر سکتااسی لمحے مجھے بھی ریاست اور ریاستی اداروں کی ناکامی کا احساس ہوچکا تھا۔میری نظروں نے دیر تک اس کاتعاقب کیا لیکن پھر وہ اچانک ایک گلی میں غائب ہوگئے،میں نے دوبارہ ہجوم کی جانب ایک نگاہ ڈالی اور وہاں سب کی عزت نفس مجھے بار بار ریاست کی ناکامی کا احساس دلا رہی تھی،اسی لمحے مجھے یقین ہوچکا تھا کہ اگر اب ہم نے اپنے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو ہمیں غرق ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ہماری ایک روایت بن چکی ہے کہ ہم کوئی بھی الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتے۔ ہر حکومت اپنی ناکامی کا ذمہ دار پچھلی حکومت کو ٹھہراتی ہے اور ہر سیاسی لیڈریہی کہتا ہے کہ ہمیں ملک تباہ شدہ ملا تھا لیکن آخر یہ بہانے کب تک چلیں گے؟۔ 


مہنگائی اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کی وجہ سے غریب عوام کاکیا حشر ہوا ہے اس بارے میں سوچنے کا فائدہ ہی کیا؟ کونسا کسی کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ایسا کونسا نمائندہ ہے جو غریب کیلیے آواز اٹھاتا ہے۔اس غریب کا کون پوچھے گا جس کو دو وقت کی روٹی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔کیا غریب عوام صرف الیکشنزاور جلسوں دھرنوں کے لئے ہیں؟روزانہ  کے حساب سے لوگ غربت،بیرزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کرتے ہیں ان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا موجودہ حکومت جو صبح شام عمران خان اور تحریک انصاف کو پچھاڑنے میں لگی ہوئی ہے۔اوپر سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد مہنگائی مزید بڑھ جائے گی اس کا غریب طبقے پر کیا اثر ہوگا؟کسی کو پرواہ ہے؟ کیونکہ سب کو اپنے مفادات عزیز ہیں۔ حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں اور حکومت وقت کے ارکان صرف عوام کو جھوٹی تسلیاں دے سکتے ہیں اس کے علاوہ غریب عوام کاکون سوچے گا معلوم نہیں اور شاید سچ ہے کہ میں غریب عوام صرف الیکشنز اور جلسوں دھرنوں کے لئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -