روس۔یوکرین جنگ کے نئے ہر اول گروپ

روس۔یوکرین جنگ کے نئے ہر اول گروپ
روس۔یوکرین جنگ کے نئے ہر اول گروپ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یوکرین ہم سے ہزاروں میل دور ہے۔ گزشتہ برس آج ہی کے دن (22فروری 2022ء کو) روسی صدر پوٹن نے اپنی افواج کو حکم دیا تھا کہ وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملہ کر دیں اگرچہ یومِ حملہ (D-Day) تو اگلے روز 23فروری کو قرار دیا جاتا ہے لیکن حملہ آور فورسز کی نقل و حرکت 22اور 23فروری 2022ء کی درمیانی شب شروع ہو گئی تھی۔ اس کے بعد آج تک کے 365 دنوں اور راتوں میں جو کچھ یوکرینی فوج پر بیتی وہ ایک تاریخ ہے۔ اس جنگ کے مختلف پہلوؤں پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس ایک سال میں دنیا کے جدید ترین اسلحہ سے مسلح افواج ایک دوسرے سے نبردآزما رہیں۔ لیکن اس میں نہ تو فریقین کی ائر فورسز نے حصہ لیا اور نہ بحری افواج نے…… صرف گراؤنڈ فورسز ایک دوسرے پر حملے کرتی رہیں۔ کون نہیں جانتا کہ روس ایک ورلڈ ملٹری پاور ہے۔ اس کے سامنے یوکرین ایک چھوٹی سی ریاست ہے اور اس کی فوج بھی چھوٹی سی ہے۔ دونوں میں کوئی مقابلہ نہیں۔


میں گزشتہ ایک برس میں اس جنگ کے مختلف پہلوؤں پر کئی کالم لکھ چکا ہوں جو قارئین ان کو پڑھ چکے ہیں وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ اس جنگ کو مغربی دنیا میں دو برابر فریقوں کے درمیان جنگ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی رسائی چونکہ رشین زبان تک نہیں، اس لئے جو کچھ ویسٹرن میڈیا انگریزی زبان میں لکھتا اور کہتا رہا ہے ہمارے قارئین اس پر یقین کرنے پر مجبور ہیں۔ البتہ جن قارئین نے دوسری عالمی جنگ میں روسی افواج(زمینی، فضائی اور بحری) کی حربی کارکردگی کی تاریخ کا مطالعہ کر رکھا ہے ان کو معلوم ہوگا کہ روس اس جنگ میں دشمن کا کتنا نقصان کر چکا ہے اور یوکرین کتنا نقصان اٹھا چکا ہے۔
جنگوں کی تاریخ اقوامِ عالم کے لئے ہمیشہ سبق آموز رہی ہے۔ دورانِ جنگ اور جنگ کے بعد کسی جنگ کے واقعات فریقینِ جنگ پر کیا اثر ڈالتے ہیں ان کا مطالعہ ہمیشہ سے سبق آموز رہا ہے۔ اس مطالعہء جنگ سے بعد از جنگ، زمانہ ء امن پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی اہمیت ایک حقیقتِ ازلی کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اسی لئے میں اپنے قارئین سے ہمیشہ گزارش کرتا رہتا ہوں کہ وہ پاکستان کے سیاسی حالات و واقعات کو ضرور زیرِ نظر رکھیں لیکن ان حالات و واقعات پر ملک کی چھوٹی بڑی جنگیں اور دوسرے ملکوں کی جنگیں کیا اثرات مرتب کرتی ہیں ان کو بھی نگاہ میں رکھیں۔


اس ایک سالہ جنگ میں فریقین کا بہت سا جانی، تعمیراتی،مادی اور انصرامی نقصان ہو چکا  ہے……  اس کی کچھ نہ کچھ تفصیل آپ پڑھتے رہے ہوں گے۔ اس جنگ کی بعض خبریں بالکل انوکھی، اچھوتی اورحیرت انگیز ہیں۔مثلاً دونوں فریق ”کرائے کی افواج“ استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ لیکن اس پر غور کیجئے کہ ایک کرائے کی فوج تو وہ تھی جس کو برطانوی دور میں برٹش انڈین آرمی کہا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں اس فوج کا سائز 26لاکھ نفوس پر مشتمل تھا جن میں آفیسرز، عہدیدار (JCOs, NCOs) اور وہ غیر وردی پوش سویلین شامل تھے جو فوج کے ہمراہ رہ کر مختلف محاذوں پر مسلح اور وردی پوش سپاہ کی سپورٹ میں لڑتے رہے تھے۔1945ء میں جب یہ جنگ ختم ہوئی تو اس 26لاکھ کی نفری میں سے ایک چوتھائی فوج کو باقی رکھا گیا اور اس کے علاوہ دوسرے تین چوتھائی افراد کو سبکدوش (Disband)کر دیا گیا۔
اس دوسری عالمی جنگ میں گو اتحادیوں کو فتح حاصل ہوئی تھی اور برطانیہ اتحادیوں میں شامل تھا لیکن یہ فتح برطانیہ کے لئے شکست سے بھی بدتر اور دوررس نتائج کی حامل تھی۔ یعنی برطانیہ، یہ جنگ جرمنی اور جاپان سے جیت کر بھی ہار گیا تھا۔ یہ ”ہار“ اتنی بڑی تھی کہ صرف دو برس کے اندر اندر برطانیہ کو برصغیر چھوڑ  کر واپس انگلستان جانا پڑا…… ہم ہندوستانی یہ سمجھے کہ برطانیہ نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں آزادی کی نعمت ’عطا‘ کر دی ہے۔ لیکن یہ ایک ”سٹرٹیجک جھوٹ“ تھا جو بولا گیا۔ اور چونکہ اتحادیوں کا سرغنہ امریکہ تھا اس لئے امریکی دانشوروں اور سیاسی مدبروں نے جو کہا، ہم بے چارے ہندوستانی اس پر ایمان لے آئے۔ اگست1947ء میں پاکستان اور بھارت اسی ہندوستان کو تقسیم کرکے بنائے گئے۔ ہم پاکستانیوں کو چونکہ نہ کوئی گہرا سیاسی شعور حاصل تھا اور نہ عسکری رموز و اسرار سے کچھ آگہی تھی اس لئے ہمارا حکومتی ہنڈولا شروع ہی سے ڈولتا اور بے قابو ہوتا رہا۔ بار بار کے مارشل لاؤں نے اس متزلزل حکومتی تار و پود کا ستیا ناس مار کر رکھ دیا۔


میں کرائے کی سپاہیوں کی بات کررہا تھا…… کاروبارِ جنگ میں روس اور یوکرین کے سپاہی ایک نیا مظہر (Phenominon) سامنے لائے۔ اس مظہر کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔ روس کی یہ نئی فوج ویگنر (Wagner) گروپ کہلاتی ہے اور یوکرین کی نئی فوج کو موزارٹ (Mozart) گروپ کا نام دیا گیا ہے۔ ویگنر اور موزارٹ دونوں یورپ کے عظیم موسیقاروں میں شامل ہیں۔ جس طرح انڈیا کے نوشاد، مدن موہن، شنکر جے کشن اور ہمارے خواجہ خورشید انور، جی اے چشتی اور رشید عطرے وغیرہ تھے،اسی طرح یورپ کے ان مغربی موسیقاروں نے بھی کئی آرکسٹرا اور سازینے (Symphonies)ایجاد کئے  اور دنیائے موسیقی میں ان کا بڑا نام ہے۔ کسی کو بھی خبر نہیں کہ اس جنگ کے ان کرائے کے سپاہیوں کو یہ نام کس نسبت سے دیئے گئے ہیں۔ بھلا موسیقی اور جنگ کا آپس میں کیا تعلق؟…… لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتداء روس نے کی۔ صدر پوٹن نے یہ اچھوتا آئیڈیا پیش کیا کہ روسی جیلوں میں بند دلدوز  اور خوفناک جرائم کے مرتکب قیدیوں کو جن میں اکثریت قاتلوں کی تھی، جیلوں سے رہا کرکے فوجی تربیت دی جائے۔ یہ قاتل ویسے بھی موت کے منتظر تھے۔ زود یا بدیر ان کو پھانسی کی سزا ہونی ہی تھی۔ ان کو بتایا گیا کہ اگر آپ لوگ جنگ کے محاذوں سے زندہ بچ کر آ گئے تو آپ کی سزائیں معاف کر دی جائیں گی۔ یہ خوش خبری ان کے لئے حیاتِ نو کا پروانہ تھی۔ ان کو جدید ترین ہتھیاروں پر ٹریننگ دی گئی، ان کے ورثاء اور اہل و عیال کو باقاعدہ ماہانہ تنخواہیں دی گئیں، ان کا راشن ریگولر سپاہ سے زیادہ پرکشش رکھا گیا، ان کی وردیاں، رہائش گاہیں اور کھیل کے میدان وغیرہ زیادہ پُرآسائش بنائے گئے اور جب ان کی ٹریننگ ختم ہوئی تو ان کو باقاعدہ جنگی مشقوں میں شریک کرکے ٹیسٹ کیا گیا…… 


نتائج توقع سے بڑھ کر حوصلہ افزاء نکلے…… ان کی عمروں کا مسئلہ بھی سامنے آیا تو عمر کی آخری حد 65برس رکھی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے جیلیں خالی ہو گئیں اور محاذوں کے اگلے مورچے آباد ہو گئے…… روس  کے اس ”ویگنر گروپ“ کی خبر یوکرینی آرمی کو بھی ہو گئی اور یوکرین کے صدر زیلنکی نے بھی رشین صدر کی تقلید میں ”موزارٹ گروپ“ تشکیل دے دیا۔ یہ نئے حربی گروپ دونوں افواج کے ہر اول کا رول ادا کرنے لگے۔ چونکہ یہ لوگ عادی مجرم، پروفیشنل لٹیرے، خطرناک قاتل تھے اور جیلوں میں پڑے موت کی سزاؤں کے منتظر تھے اس لئے انہوں نے رہا ہو کر ریگولر ٹروپس کی نسبت زیادہ بہتر اور برتر نتائج دکھائے اور دکھا رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے موت کے منہ میں جا چکے اور زخمی بھی ہو چکے ہیں لیکن جو باقی ہیں وہ ریگولر پروفیشنل ٹروپس سے اپنے آپ کو زیادہ خونخوار اور ممتاز تصور کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔
قارئین کو شاید یہ بھی معلوم ہوگا کہ جب 1492ء میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا تو یورپ کے جیل خانوں سے بھی عادی مجرموں اور قاتلوں کو رہا کرکے ان کو اجازت دے دی گئی تھی کہ اپنے اہل و عیال اور والدین کو بھی اگر ساتھ لے جانا چاہیں تو لے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ آج امریکہ میں جو نسل حکمران ہے یا افواجِ ثلاثہ کا حصہ ہے یا مملکت کے دوسرے شعبوں میں کام کررہی ہے وہ انہی قاتلوں اور مجرموں کی آل اولاد ہے…… ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ میں امریکیوں کو ہر لحاظ سے قابلِ تحسین سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنے داغدار ماضی کو بھلا کر ایک بے داغ حال اور روشن مستقبل کا سفر اختیار کیا۔ ان میں مادۂ ایجاد و اختراع کوٹ کوٹ کر بھر ہوا تھا کوئی شک ہو اس دور کی تاریخِ امریکہ اٹھا کر دیکھ لیں۔
ہم جانتے ہیں کہ جیلوں میں جانے والے عادی مجرم، امن پسند شہریوں کے مقابلے میں زیادہ طبّاع، دلیر، جاں باز، طنّاز، طرار، ذہین اور زکی ہوتے ہیں۔
اس روس۔ یوکرین جنگ نے دنیا کو ایک بھولا ہوا سبق یاد دلا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو شخص زیادہ کٹر، اڑیل، سنگدل اور متشدد ہوتا ہے اس کی ماہیتِ قلب کر دی جائے تو وہ اتنا ہی نرم دل، لچک پذیر، فیاض اور جانثار بن جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -