ہائبرڈ گندم، زرعی یونیورسٹی ملتا ن میں کسان کنونشن

ہائبرڈ گندم، زرعی یونیورسٹی ملتا ن میں کسان کنونشن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان(سٹی رپورٹر)ایم این ایس زرعی یونیورسٹی اور فاطمہ فرٹیلائزر کے تعاون سے ہائبرڈ گندم کے موضوع پر کسان کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔کنونشن میں کسانوں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور سائنسدانوں نے شرکت کی۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے گندم کی پیداوار بڑھانے اور اس (بقیہ نمبر44صفحہ7پر )
میں ہائبرڈ گندم کے کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مکئی میں ہائبرڈ بہت زیادہ مقبول اور کامیاب ہے جو کہ ہر سال کسانوں کو اچھی پیداوار دیتی ہیں۔اسی طرز پر ہائبرڈ گندم سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرکے ہم تحفظ خوراک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہم فاطمہ گروپ کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں جس سے ہائبرڈ گندم کو بڑے پیمانے تک پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ زرعی یونیورسٹی ملتان نے ہمیشہ انڈسٹری کو اپنے ساتھ زرعی تحقیق اور ترویج میں شامل رکھا ہے۔ آسٹریلوی سائنسدان ڈاکٹر رچرڈ ٹریتھون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائبرڈ گندم نہ صرف آسٹریلیا میں بلکہ عالمی سطح پر ایک اہم فصل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ اقسام سے گندم کی بیماریوں میں کافی حد تک کمی واقع کی جاسکتی ہے۔ آسٹریلوی سائنسدان نے ہائبرڈ گندم کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے پر زرعی یونیورسٹی کے سائنسدانوں اور فاطمہ فرٹیلائزر کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ گندم کو کسانوں تک پہنچانا ایک اہم مرحلہ ہے جس پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق نے گندم کے رسٹ کو قابو کرنے کے حوالے سے حکمت عملی پر لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے رسٹ میں کمی لا کر کسان گندم کی پیداوار میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ گندم کی رسٹ میں کمی لانے کے لئے ہائبرڈ گندم بہت مفید ہے۔ فاطمہ گروپ سے نصیراللہ خان نے ہائبریڈ گندم کے مستقبل اور فوڈ سکیورٹی میں اس کی اہمیت بیان کی،اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہائبرڈ گندم پر زرعی یونیورسٹی ملتان کے ساتھ مل کر دو سالوں سے کام کر رہے ہیں۔مزید یہ کہ اس سے نہ صرف پاکستان اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے بلکہ گندم ایکسپورٹ کرنے کے قابل بھی ہو سکتا ہے۔ترقی پسند کاشتکار سید فخر امام نئے ہیں بریڈ گندم سرسید کسان کنونشن منعقد کروانے پر زرعی یونیورسٹی ملتان اور فاطمہ فرٹیلائزر کوسراہا۔خالد کھوکھر نے گندم میں کسانوں کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ گندم کی پیداوار کھاد کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔سی ای او پارب ڈاکٹر عابد محمود نے کہا کہ ہائبرڈ گندم زراعت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔کسانوں کو ہائبرڈ گندم کی اہمیت کے بارے میں بتانا ایک اہم مرحلہ ہے۔تقریب میں شامل کسانوں نے یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا اور مستقبل میں ہائبرڈ گندم لگانے کے حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ترقی پسند کاشتکار انیلا ربانی کھر،فاطمہ فرٹیلائزر سے سید حسن احمد،رابیل سدوزئی،عمران حمید،جنید خان،اسفندیار،پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید،پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف رضا،دیگر فیکلٹی و سٹاف موجود تھے۔