ایک غیور آدمی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک بات ناقابل برداشت ہے اور وہ ہے… رحم

 ایک غیور آدمی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک بات ناقابل برداشت ہے اور وہ ...
 ایک غیور آدمی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک بات ناقابل برداشت ہے اور وہ ہے… رحم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر: ظفر سپل
قسط:130
ضمیر کے بوجھ اور مذہبی مالیخولیا کو وراثت میں لے کر آنے والا سورین کیر کے گارڈ 5 مئی 1811 کو ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں پیدا ہوا جو اس وقت ثقافتی اور فکری و علمی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ انتہائی بے ڈھب خدوخال اور کبڑے پن نے ساری عمر اس کو نفسیاتی خلفشار اور اذیت کی کھونٹی پر لٹکائے رکھا۔ وہ خود کہا کرتا تھا،”میں آدھا آدمی ہوں۔“ قدرت نے اس کی بدصورتی کی تلافی اس کو غیر معمولی ذہانت دے کر کی، مگر اسی غیر معمولی ذہانت اور جسم کی بدہیئتی کے ادراک نے تادم آخر اس کو مریضانہ حساسیت کا شکار بنائے رکھا۔
 اس کا باپ مائیکل کیر کے گارڈ(1756ئ۔1838ء) جٹ لینڈ کا رہنے والا ایک دہقان تھا جس کا بچپن نہایت تنگ دستی اور افلاس میں مال مویشی چراتے ہوئے گزرا۔ بستر مرگ پر اس نے اپنے بیٹے سورین کیر کے گارڈ کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ بہت مشقت اور جبر کے دن تھے اور ایک دن ڈھور ڈنگر چراتے ہوئے جب وہ نہایت دل شکستہ حالت میں ایک ٹیلے پر کھڑا تھا تو اس نے عالم بے اختیاری میں آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے انگلی کے اشارے کرکے خدا کو اپنے تمام مصائب کا ذمے دار ٹھہرایا اور اسے لعن طعن کی… یہ ضمیر کا پہلا بوجھ تھا جو پھر وہ ساری عمر اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرا۔12سال کی عمر میں اس نے جٹ لینڈ کو خیر باد کہا اور اپنے ماموں کے پاس کوپن ہیگن چلا آیا۔ یہاں اس نمراد دہقان کی محنت رنگ لائی اور وہ بہت جلد کپڑے کے ایک کامیاب کاروبار کا مالک بن گیا۔ یہیں پر اس کا اس عورت سے تعلق بنا، جسے اس کی دوسری بیوی اور سورین کیر کے گارڈ کی ماں بننا تھا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ یہ عورت مائیکل کیر کے گارڈ کی پہلی بیوی کی نوعمر ملازمہ تھی۔ پہلی بیوی کی وفات کے بعد وہ اس نوعمر لڑکی سے بدکاری کرتا رہا اور جب وہ حاملہ ہوئی تو اس کے ساتھ شادی کرلی۔ یہ ضمیر کا دوسرا بوجھ تھا، جس کو پھر وہ اپنی 82 سالہ زندگی میں اپنے ساتھ لیے پھرا۔ یاسیت اور شدید ڈپریشن کے شکار اس آدمی کو افسردہ دلی کے دورے پڑتے تھے۔ یہی سب کچھ اس نے اپنے بیٹے سورین کو منتقل کیا، جس کو وہم تھا کہ اس کے والدین کے گناہ کی پاداش میں اس کا خاندان تباہ وبرباد ہو کر رہے گا اور یہ وہم یقین میں بدل گیا، جب اس کے بڑے بھائی عین عالم جوانی میں یکے بعد دیگرے مر گئے۔ وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے:
میرے خاندان پر جرم کی پرچھایاں پڑ رہی ہیں۔ خدا نے اسے ملعون قرار دے دیا ہے اور وہ اپنے قوی ہاتھوں سے اسے ملیا میٹ کر دینا چاہتا ہے۔
باپ کی وفات سورین کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ وہ جٹ لینڈ کے ان میدانوں کی سیاحت کے لیے نکل گیا جہاں اس کے باپ نے تنگ دستی کی زندگی بسر کی تھی اور جب وہ واپس آیا تو اسے وہم ہوگیا کہ وہ چند روز کا مہمان ہے اور زندگی کے یہ باقی دن اس نے بدکاری اور شراب کے نشے میں گم ہو کر گزارنے کا فیصلہ کیا۔ انہی دنوں وہ ایک لڑکی ریجینا اولسن(Regina Olsen) کے عشق میں گرفتار ہوا، جو پڑھنے لکھنے میں مدد حاصل کرنے کے سلسلے میں اس کے پاس آیا کرتی تھی۔2 سال اس کے عشق میں خاموش آہیں بھرنے کے بعد اس نے بالآخر8 ستمبر1940ءمیں اس سے اظہار عشق کر دیا اور اس حسینہ نے بھی اس کبڑے دانشور کو مایوس نہیں کیا۔ جلد ہی ان کی منگنی ہوگئی مگر منگنی کے دوسرے ہی دن وہ ذہنی خلفشارکا شکار ہوگیا اور منگنی توڑنے کا ارادہ کر لیا۔ اس کا پراگندہ ذہن اس فیصلے کی کئی توجیہات پیش کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ اپنی محبوبہ کے سامنے اپنے اور اپنے والدین کے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہتا تھا مگر ماں باپ کی رسوائی کے خیال سے ایسا نہیں کر سکتا تھا اور دوسرے اپنی خود ساختہ عظمت کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اس نے اپنے اندرون سے خدا کی یہ آواز سنی تھی کہ ”اپنی منسوبہ کو چھوڑ دو۔“ لیکن حقیقتاً اس کی 2ہی وجوہات ہو سکتی ہیں:
1۔ ایک کبڑے اور بدصورت آدمی کا شدید احساس کم تری۔ اس بات کا ثبوت ان کے آپس کے جھگڑے سے ملتا ہے جس میں ریجینا نے اس سے کہا کہ میں نے تمہیں اس لیے قبول کیا ہے کہ مجھے تم پر رحم آتا ہے۔ کیر کے گارڈ خود لکھتا ہے،”ایک شریف اور غیور آدمی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک بات ناقابل برداشت ہے اور وہ ہے… رحم۔“
2۔ آتشک کا مرض۔ اپنی یادداشتوں میں کیر کے گارڈ”پہلو میں چھپے ہوئے کانٹے“ کا ذکر کرتا ہے۔ اگرچہ اس کے سوانح نگار اس”کانٹے“ کی نشاندہی نہیں کر سکتے لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ باپ کی وفات کے بعد جنسی بے راہ روی اور کسبیوں کے پاس جانے سے اسے آتشک کا مرض لاحق ہوگیا تھا جس نے اسے عورت کے پاس جانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
 سو کسی نہ کسی طرح ایک سال تک قائم رہنے والی یہ منگنی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔(جاری ہے )
نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -