لوکل ٹرین ۔۔۔ سب سے سستی اور تیز رفتار سواری ہونے کی وجہ سے اس کی بڑی مانگ رہتی تھی 

 لوکل ٹرین ۔۔۔ سب سے سستی اور تیز رفتار سواری ہونے کی وجہ سے اس کی بڑی مانگ ...
 لوکل ٹرین ۔۔۔ سب سے سستی اور تیز رفتار سواری ہونے کی وجہ سے اس کی بڑی مانگ رہتی تھی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:25
 اب جب کینٹ اسٹیشن تک آ ہی پہنچے ہیں، تو آپ کو بتاتا چلوں کہ یہاں ایک مقامی ریل گاڑی بھی چلا کرتی تھی جو لوکل ٹرین کہلاتی تھی ۔تقریباً ہر دس پندرہ منٹ کے بعد ایک ٹوٹ پھوٹ کا شکار،تھکی ہاری اور گرد سے اٹی ہوئی گاڑی آتی تھی، جس میں چھ سات بوگیاں ہوتی تھیں ۔یہ ڈرگ روڈ سے بن کر چلتی اور راستے میں آنے والے ہر اسٹیشن پرٹھہرتی ہوئی آتی تھی۔کچھ لوگوں کو اتارتی اور کچھ نئے مسافروں کو لے کر آگے سٹی اسٹیشن کی طرف چلی جاتی تھی۔اور پھر وہاں کچھ دیر قیام کرکے الٹے پاﺅں پھر کرواپسی کا سفراختیار کرلیتی تھی۔ یہ سلسلہ صبح سویرے شروع ہو کر شام ڈھلے تک چلتا رہتا تھا ۔ سب سے سستی اور تیز رفتار سواری ہونے کی وجہ سے اس کی بڑی مانگ رہتی تھی اوربیرون شہر سے ملازمت کے لیے کراچی آنے والے اس کو ترجیح دیتے تھے۔اس کو پیار سے لوکل ٹرین کہا جاتا تھا۔
ریل کے محکمے کو اپنے مالیاتی نظام پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ اس گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے مسافروں کے ٹکٹ چیک ہی نہیں کیا کرتے تھے ۔اس سے فائدہ اٹھا کر اکثر آوارہ بچے اور موالی مفت میں ہی ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک چکر لگاتے رہتے تھے۔ان میں سے کچھ توریل کے سفر کا مزے لینے کے لیے اور کچھ وقت گزاری کے لیے اس ٹرین میں گھومتے پھرتے اور ٹکٹ چیکر کے ہاتھ نہ آتے تھے۔
پھر یوں ہوا کہ پاکستان کے دوسرے محکموں کی طرح اس کا انتظام بھی بد عنوان اور نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا ۔ پہلے گاڑیوں کی تعداد میں کمی ہوئی ، اور وقت کی پابندی بھی نہ رہی،جس سے لوگ گھنٹوں اسٹیشن پر خجل خوار ہوتے رہتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بھی موقوف ہوا اور ایک دن یہ بالکل ہی نظروں سے غائب ہو گئی۔یوں عوام سے یہ سستی سواری بھی چھین لی گئی ۔ 
لکی سٹار کے پاس فریئر سٹریٹ سے ملحق ایک نسبتًاً چھوٹی اور کراچی والوں کی نظر میںغیر اہم ” سمرسیٹ سٹریٹ “ ( راجہ غضنفر علی روڈ ) تھی ۔ دوسروں کے لیے ہوگی مگر میرے لیے یہ انتہائی اہمیت کی حامل تھی اس لیے کہ اس پر ہمارا پرائمری اور سیکنڈری اسکول واقع تھا اور اس کو میں اس لیے بھی نہیں بھول سکتا کہ یہاں مسلسل کئی برس تک میں حصول علم کی خاطر آتا جاتا رہا تھا۔ اس سڑک پر مڑتے ہی دائیں طرف پہلی عمارت گورنمنٹ ہائی اسکول ہی کی تھی جہاں میں پانچویں جماعت میں داخل ہوا تھااورپھر دس جماعتیں پاس کرکے ہی نکلا تھا ۔ویسے تو بڑی یادیں ہیں اس اسکول سے جڑی ہوئی، لیکن یہاں ڈرائنگ کے استاد سے کھائی ہوئی مار کبھی نہیں بھولتی ۔ یہ غالباً دنیا کے پہلے استاد تھے جو ڈنڈا مارنے سے پہلے باقاعدہ اطلاع دیتے اور اپنا ممکنہ ہدف بھی بتاتے تھے اور پھر ٹوٹی ہوئی کرسیوں کی ہتھی ٹھیک وہاں ہی جا کر چپک جاتی تھی جہاں انہوں نے اشارتاً بتایا ہوتا تھا۔وہ کہا کرتے تھے کہ ”تمھارے ایسی جگہ ماروں گا کہ تم کسی کو دکھا بھی نہیں سکو گے “۔ ان کا پسندیدہ نشانہ واقعی ایسی جگہ ہوتی تھی ،کیونکہ اس کے بعد نہ صرف بیٹھنا مشکل ہو جاتا تھا بلکہ اپنے سواکسی اور کو متاثرہ مقام دکھایا بھی نہیں جا سکتا تھا ۔ 
اپنے انہی استاد کے بے جا تشدد کی وجہ سے ہم کچھ لڑکوں نے تعلیم سے بغاوت پر آمادہ ہو کر اسکول سے بھاگنا سیکھا تھا ۔ یہی بھاگ دوڑ آج یہ کتاب لکھتے وقت میرے لیے آسانیاں فراہم کر رہی ہے کیونکہ آس پاس کی سڑکیں تو چھوڑیں ہم تو کینٹ اسٹیشن تک کو ہاتھ لگا آتے تھے۔ لیکن سکول سے بھاگنے کے بعد ہمارا سب سے پسندیدہ ٹھکانا فیرئیرہال ہوتا تھا جو اسکول سے زیادہ دور نہیں تھا اور وہاں رونق میلا بھی خوب ہوتا تھا۔
اسکول والی سمرسٹ سٹریٹ پر کثیرالمنزلہ عمارتوں میں زیادہ تر گوا کے عیسائی خاندان ا ٓباد تھے ۔ سکول کی بالائی منزلوں سے سڑک کے اُس پار ان کے گھروں میں بے ضرر سی تانکا جھانکی چلتی رہتی تھی ۔بے ضرر اس لیے کہ اس وقت ہم عمر کے اس دور میں تھے جہاں ابھی جذباتی انگڑائیاں آنا شروع نہیں ہوئی تھیں۔
یہی سڑک آگے جا کر بوہری بازار کے وسط میں سے ہوتی ہوئی ” فر ئیر روڈ “(شاہراۂ لیاقت ) سے جا ملتی ہے جو ایمپریس مارکیٹ کے سامنے سے گزرتی ہے ۔( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -