فروری کا مہینہ گاؤں میں کتنی تیزی سے گزرا کچھ پتہ ہی نہیں لگا، مری جانے کا وقت آگیا نا چاہتے ہوئے مجھے ایک بار پھر برف پوش وادیوں میں واپس جانا پڑا

  فروری کا مہینہ گاؤں میں کتنی تیزی سے گزرا کچھ پتہ ہی نہیں لگا، مری جانے کا ...
  فروری کا مہینہ گاؤں میں کتنی تیزی سے گزرا کچھ پتہ ہی نہیں لگا، مری جانے کا وقت آگیا نا چاہتے ہوئے مجھے ایک بار پھر برف پوش وادیوں میں واپس جانا پڑا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:190
 اسی عرصے میں ایک اور قابل ذکر واقعہ ہوا جس نے ہم بہن بھائیوں کی زندگی پر براہ راست تو کوئی خاص اثر نہیں ڈالا لیکن ابا جان کی زندگی میں بہت خو بصورت تبدیلی آ گئی اور وہ اپنی ڈگر پر آگئے۔ ماں کی وفات کے بعد ابا جان ٹوٹ کر رہ گئے تھے وہ اپنے آپ کو بہت تنہا محسوس کرنے لگے تھے، میرے اور میری بہن پروین کے سوا تینوں بچے ابھی چھوٹے تھے، پروین ماں کی وفات کا صدمہ سیدھا دل پر لے بیٹھی تھی اور ان ہی کی طرح ہر وقت بیمار رہنے لگی تھی، چھوٹی بہن ابھی 12 سال کی تھی، گھر کو نوکروں پر بھی نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، بچوں کی تعلیم، مناسب رشتے، شادیاں، زمینوں کی دیکھ بھال غرض ذمہ داریوں کا ایک انبار تھا جس سے ابا جان کو نبٹنا تھا۔ ابھی تک ماں کی زندگی کے صدقے سارے کام خود ہی ہوتے جا رہے تھے اور انھوں نے گھریلو مسئلوں میں ابا جان کو کبھی پریشان نہیں ہونے دیا تھا، جیسے تیسے کر کے گھر کو سنبھالا ہوا تھا۔ مگر اب حالات بالکل مختلف تھے، سب کو ابا جان کی تنہائی دیکھ کر خوف آتا تھا وہ خود بھی بڑے بے بس اور لاچار نظر آنے لگے تھے۔
 آخر سب گھر والوں نے آپس میں مشورہ کیا اور طے پایا کہ ابا جان کا عقد ثانی کر دیا جائے تا کہ گھر کا نظام چلتا رہے، گھر میں کوئی خاتون ہو گی تو بکھری ہوئی زندگی سمٹ جائے گی۔ یہ ایک ایسی تجویز تھی جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہ تھا، مجھ سے بھی پوچھا گیا، میں نے بھی یہ کہا کہ یہ ان کا حق بنتا ہے، انھوں نے تقریباً ساری زندگی تنہا ہی گزاری ہے، اب اس عمر میں یقیناً ان کو ایک غم گسار اور مددگارشریک حیات کی ضرورت ہے جو قدم قدم پر ان کا ساتھ دے، ان کا سہارا بنے اور گھر کا بکھرا ہوا نظام دوبارہ سنبھال لے۔ 
پھر ایسا ہی ہواکہ ہماری نئی والدہ محترمہ آئیں اور انھوں نے انتہائی ذمہ داری سے سارا گھر سنبھالا اور ہم نے بھی ان کو ان کا جائز مقام اور بہت زیادہ عزت دی۔ ابا جان بھی مطمئن تھے اور ہم بھی۔ اور جیسا کہ توقع تھی ان دونوں نے مل کر اپنی اور بچوں کی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد نہیں دی اگردی بھی ہوتی تب بھی مجھے یقین ہے کہ ہمارے رشتوں پر کوئی آنچ نہ آتی کیونکہ ہم سب بہن بھائی بہت ہی پیار اور خلوص سے حالات کے مطابق اپنے روئیوں کو ترتیب دے لیتے ہیں۔
یہ تو وہ ہی جگہ ہے
فروری کا مہینہ گاؤں میں کتنی تیزی سے گزرا کچھ پتہ ہی نہیں لگا، اور پھر مری واپسی کا وقت آگیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ایک بار پھر ان برف پوش وادیوں میں واپس جانا ہی پڑا۔
مارچ کے پہلے ہفتے میں بارشیں شروع ہوگئیں، برف پگھلنے لگی، ہر طرف ہریالی، پھول پرندے اور مقامی افراد واپس لوٹ آئے تھے۔ پھٹے ہوئے پانی کے پائپ ویلڈ کروائے گئے، گھروں پر نئے رنگ و روغن شروع ہو  گئے اور مری کے باسی ایک بار پھر مہمانوں اور موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہو گئے۔
بھاری کپڑے اتار پھینکے گئے۔ خواتین اور بچے بھی واپس آنا شروع ہوگئے اور گھر نئے سرے سے سجنے لگے۔ مال روڈ کی رونقیں دوبالا ہو گئیں، چار مہینے سے بند دوکانیں کھلنے لگیں اور ہر طرف ایک نیاجہاں آباد ہو گیا۔ حسب معمول موسم بہار آتے ہی مال روڈ پر ٹریفک بند ہو گئی اور سیاحوں کے جتھے قہقہے لگاتے ہوئے ادھر سے ادھر گھومنے پھرنے لگے۔ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بکھر گئیں۔
لوگوں کی آمد و رفت بڑھ جانے کی وجہ سے کام کے اوقات کار بھی طویل ہوتے گئے۔ راولپنڈی زونل آفس سے ہنگامی امداد آنے کے باوجود ہم رات کو9بجے سے پہلے فارغ نہیں ہو پاتے تھے اور حسرت بھری نظروں سے کھڑکیوں کے باہر جھانکتے لوگوں کی آنیاں جانیاں دیکھا کرتے۔ کبھی کبھی ہنستی کھیلتی دنیا کو قریب سے دیکھنے کے لیے ہم کچھ دیر کے لیے بینک سے باہر آکر سیڑھیوں پر بھی کھڑے ہو جاتے۔ سامنے سینما تھا، جس کے مالک ہمارے کھاتہ دار اور دوست تھے، ہم اپنے بینک کے اوقات میں ڈنڈی مار کر تھوڑی تھوڑی فلم روز دیکھ آتے تھے اس کے لیے وہاں بیٹھنا ضروری نہیں ہوتا تھابلکہ ہم ہال کے اندر گھس کر دروازے کے ساتھ ہی دیوار سے لگ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ بسا اوقات کسی فلم کا کوئی خاص گانا بھی توجہ کا مرکز ٹھہرتا اور ہمیں بار بار سینما جانے پر مجبور کردیتا تھا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -