دوستوں کے ٹولے کا نام ”یو این او“ رکھا ہوا تھا،کیا خبر تھی برسوں بعد واقعی یو این او میں عہدہ حاصل کرلوں گا جو سیکرٹری جنرل کا تو نہ تھا البتہ مشیر کا تھا

 دوستوں کے ٹولے کا نام ”یو این او“ رکھا ہوا تھا،کیا خبر تھی برسوں بعد واقعی ...
 دوستوں کے ٹولے کا نام ”یو این او“ رکھا ہوا تھا،کیا خبر تھی برسوں بعد واقعی یو این او میں عہدہ حاصل کرلوں گا جو سیکرٹری جنرل کا تو نہ تھا البتہ مشیر کا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:21
کالج میں متعدد ہم نصابی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں جن میں مختلف نوعیت کے کھیل بھی شامل تھے لیکن میں ان سے پرے پرے ہی رہتا تھا اورکبھی ان میں شریک نہیں ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ہمارے باسکٹ بال کے کوچ نے مجھے تربیتی کلاسوں میں شریک ہونے کے لیے کہا لیکن میں نے انکار کر دیا۔ کھیل کود میں میری عدم دلچسپی کی2 وجوہ تھیں پہلی تو یہ کہ سکول کے دنوں ہی سے مجھے کھیل کود زیادہ پسند نہیں تھا۔ دوسری یہ کہ میرا سارا دھیان انجنیئرنگ کالج میں داخلے کی تیاری کی طرف رہتا تھا تاکہ میں اس کٹھن مرحلے سے گزرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیاری کر سکوں،چونکہ اس وقت وہاں داخلہ لینا ہی میرا ہدف تھا اور اسی لیے میں اپنی ساری توانائیاں پڑھائی پر مرکوز رکھتا تھا۔    
ویسے تو وہاں بہت تقریبات ہوتی تھیں لیکن ان میں سے2 تو بہت ہی دلچسپ اور یادگار ہوتی تھیں جس میں بہت طلبہ حصہ لیتے تھے۔ ان میں سے ایک میں تو 2 روایتی حریفوں یعنی گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج کے مابین کرکٹ کا سالانہ مقابلہ ہوتا تھا جس کی ہفتوں پہلے سے تیاریا ں کی جاتی تھیں۔ مقابلے کے دن دونوں اطراف کی ٹیموں کے حامی خوب ڈھول ڈھمکے کے ساتھ سیٹیاں اور ہارن بجاتے ہوئے میدان میں داخل ہوتے اور اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے خوب نعرے لگاتے۔ پھر مقابلے کی فاتح ٹیم خوب جشن مناتی تھی اور ان کے کھلاڑی کالج کے احاطے میں پریڈ کی شکل میں گشت کرتے تھے۔ اگلے دن پرنسپل صاحب عام تعطیل کا اعلان کر دیتے تھے۔
دوسری بڑی تقریب کالج یونین کی طرف سے منعقد کئے جانے والے تقریری مقابلے ہوتے تھے۔ تب بھی یہاں ہال میں اپنے اپنے  مقرروں کے لیے خوب تالیاں بجتی تھیں۔ اور ہاں،اس مقابلے میں تقریر کے لیے موضوعات بڑے دلچسپ ہوتے تھے مثلاً ایک دلچسپ موضوع کچھ یوں تھا کہ ”لسی کولا سے بہتر ہوتی ہے“؛ مقابلے والے دن کمپنی والے ٹرک بھر کے بوتلیں لائے اور طلبہ بڑی چالاکی سے مفت میں کولا کے مزے اڑاتے اور پھر جب ووٹنگ ہوتی تو وہ لسی کو ووٹ دے آتے تھے۔ گورنمنٹ کالج سے اپنے زمانے کے بہترین مقرر نکلے تھے جن کی آبیاری اسی کالج میں ہوئی تھی۔ ہمارے وقتوں میں نغمانہ اختر نغمہ کا اردو اور نرگس وہاب کا انگریزی کے بہترین مقرروں میں شمار ہوتا تھا۔
اب ایسا بھی نہیں تھا کہ ہوسٹل میں ہم ہر وقت پڑھاکو ہی بنے رہتے تھے کبھی کبھار ہم اپنے لیے کچھ فرحت اور ہنسی مذاق کے کچھ لمحات بھی نکال ہی لیتے تھے۔ ہم دوستوں کا ایک ٹولہ تھا جس میں میرے علاوہ بشیر الدین، اقبال طاہر اور شریف بھٹی شامل تھے۔ اس کا نام ”یو این او“ رکھا ہوا تھا۔ کیا خبر تھی کہ برسوں بعد میں واقعی یو این او میں ایک عہدہ حاصل کرلوں گا جو یقیناً ان کے سیکرٹری جنرل کا تو نہ تھا البتہ مشیر کا تھا۔ شریف بھٹی کھانے پینے اور خوراک کے معاملات میں بہت دلچسپی لیتا تھا، سو اس کو وزیر خوراک بنا دیا گیا اور گروپ میں کھانے پینے کی تقریبات کے انعقاد کی ذمہ داری بھی اسے سونپ دی گئی۔ ہمارے گورنمنٹ کالج سے رخصتی کے بعد بھی یہ عہدہ اسی کے پاس رہا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دن ہوسٹل میس میں طلبہ کے درمیان ایک مقابلے کا اہتمام ہوا کہ دیکھیں ایک وقت میں کون زیادہ سے زیادہ روٹیاں کھا سکتا ہے۔ اس مقابلے میں کچھ دوسرے طالب علموں نے بھی حصہ لیا۔ ہماری طرف سے شریف بھٹی کو آگے کیا گیا، خوب مقابلہ ہوا، پھر مخالف فریق نے ہاتھ کھڑے کردئیے اور اپنی شکست تسلیم کر لی۔ تب تک شریف بھٹی 16 روٹیاں کھا کر سترویں پر ہاتھ ڈال چکا تھا۔ ہم نے اس کی جیت کا جشن ایک شاندار چائے پارٹی کی صورت میں منایا۔ اس کے علاوہ بھی دوستوں کی منڈلی میں چھوٹی موٹی شرارتیں چلتی رہتی تھیں۔ جب ہمیں خبر ملتی کہ کسی دوست کے گھر سے مٹھائی آئی ہے تو ہم ایک جتھے کی صورت میں اس کے کمرے پرہلہ بول دیتے اور پھر تب ہی وہاں سے نکلتے جب مٹھائی کا مکمل صفایا ہو جاتا تھا۔ اس دوران وہ متاثرہ دوست خوب چیختا چلاتا اور احتجاج کرتا تھا مگر اس کی کوئی نہیں سنتا تھا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -