مستقبل کے حالات کی اس وقت تک نشاندہی ہو سکتی ہے جب تک ہم ماضی میں کی گئی غلطیوں کو دور کرنے کیلیے تعمیر ی اقدامات نہیں کرتے

مستقبل کے حالات کی اس وقت تک نشاندہی ہو سکتی ہے جب تک ہم ماضی میں کی گئی ...
مستقبل کے حالات کی اس وقت تک نشاندہی ہو سکتی ہے جب تک ہم ماضی میں کی گئی غلطیوں کو دور کرنے کیلیے تعمیر ی اقدامات نہیں کرتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:8
میں نے کہا: ”جب تم نے اپنی زندگی کے تمام حالات کا تجزیہ کیا اور جائزہ لیا اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ تم اب کس مقام پر ہو تو پھرتم نے کیا لائحہ عمل اختیار کیا؟“
میرا یہ دوست کہنے لگا: ”آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے ”اپنی وفات کی خبر“ لکھنے کا کام دیتے وقت یہ کہا تھا کہ ماضی کے تجربات و حالات کے ذریعے مستقبل کے حالات و واقعات کی اس وقت تک نشاندہی ہو سکتی ہے جب تک ہم ماضی میں کی گئی غلطیوں کو دور کرنے کے لیے مثبت تعمیر ی اور حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔ ”اپنی وفات کی خبر“ کی تحریر سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میرے علاوہ میرے دوست تمام دوستوں اور عزیزوں کی زندگی بھی بہت زیادہ حد تک بدترین صورت حال اختیار کر رہی ہے۔ لہٰذا، سیمینار سے گھر واپس پہنچ کر میں نے فوری طور پر کچھ ایسے مثبت اقدامات اور طریقے اختیار کیے جن کے باعث میری زندگی کے حالات صحیح ہوگئے۔ میں نے اپنے خاندان پر زیادہ توجہ دینی شروع کر دی اور اب ہمارے تعلقات کی نوعیت بہت ہی اچھی ہے۔ میں نے مثبت انداز فکر کے مالک نئے دوست بنائے۔ میں نے اپنے کام میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینا شروع کی اور اب میں اپنی فرم میں ایک پاٹنر (حصے دار) ہوگیا۔ اور جہاں تک میرے مالی حالات کا تعلق ہے، میں مالی طور پر بہت، بہت ہی کامیاب جا رہا ہوں۔“
جب ہم ائیر پورٹ پر ایک دوسرے سے رخصت ہوئے تو میں سوچ رہا تھا: ”کوئی بھی شخص اپنے ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتا لیکن جب ماضی کی خامیوں اور کمزوریوں اور غلطیوں کو دور کرنے کے لیے مثبت اقدامات اور طریقے اختیار کیے جاتے ہیں تو ہم مستقبل کو تبدیل کرکے اسے ماضی کی نسبت زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مزید براں، صرف ایک ”خواب“ کے ذریعے ہی کامیابی کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔
محض قوت اور طاقت تو حقیر سی چیز ہے جو جاندار خواب اور تصور سے بھی محروم ہے:
مال و دولت سے محرومی، مال و دولت میں کمی یا غربت، عزت و احترام میں کمی کا باعث نہیں ہے لیکن جب ایک شخص دوسرے شخص سے اس کے مال و دولت کی وجہ سے حسد کرتا ہے، اپنے دل میں نفرت کے جذبات پیدا کرتا ہے، تو یہ امر یقینا، اس شخص کی عزت و احترام میں کمی کا باعث ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ جب کوئی شخص اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے مستحکم اور پختہ منصوبہ بندی پر مشتمل ”خواب“ نہیں دیکھتا تو یہ شخص مکمل طور پر عزت و احترام کے مرتبے سے نیچے گر جاتا ہے۔
اسے دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں جو غریب ہیں یا غربت کا شکار ہیں۔ ان غریب اور غربت کا شکار لوگوں کی ایک قسم وہ ہے جن کے پاس قلیل مال و دولت موجود ہوتی ہے لیکن وہ زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی توقع اور امید سے سرفراز نہیں ہوتے اور نہ ہی زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کے خواب اپنی آنکھوں میں بساتے ہیں۔ غریب اور غربت کا شکار لوگوں کی دوسری قسم وہ ہے جن کے پاس مال و دولت کی کمی تو ہوتی ہے لیکن وہ زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی امید اور توقع سے مالا مال اور سرفراز ہوتے ہیں اور وہ اپنی آنکھوں میں امیر بن جانے کے سپنے اور خواب سجا کر رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -