سڈنی ائیرپورٹ اب بڑھتی ہوئی پروازوں کو سمیٹنے کے قابل نہیں رہا،ہم چاروں طرف سُرعت سے پھیلتی آبادیوں کے جُھرمٹ سے نکلے

 سڈنی ائیرپورٹ اب بڑھتی ہوئی پروازوں کو سمیٹنے کے قابل نہیں رہا،ہم چاروں طرف ...
 سڈنی ائیرپورٹ اب بڑھتی ہوئی پروازوں کو سمیٹنے کے قابل نہیں رہا،ہم چاروں طرف سُرعت سے پھیلتی آبادیوں کے جُھرمٹ سے نکلے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:54
ایک خُوشنما -7 سیٹر -4 ویل ڈرائیو گاڑی صبح 10 بجے ایک لمبی سیر و سیاحت کے پروگرام کی آبیاری کے لیے چل دی۔ سواروں میں راقم بمعہ بیگم، بیٹی اَسماء ناز اور اُس کا خاوند ریحان لطیف اور اُن کے 2 بچّے صبیح ا ور عریشہ۔ کوئی 20 منٹ میں ہم بلیک ٹاؤن کی پنہائیوں میں سے جھانکے تو انٹرنیشنل سپورٹس پارک کو بڑے بڑے فٹ بال گراؤنڈ، کرکٹ گراؤنڈز اور دُوسری کھیلوں کی Installation سے مزیّن پایا۔ سڈنی ائیرپورٹ اب بڑھتی ہوئی پروازوں کو سمیٹنے کے قابل نہیں رہا۔ اب یہاں ساتھ ہی موٹر وے ایم سیون کے ساتھ ایک بڑا ائیرپورٹ بننے کی تجویز آخری مراحل میں ہے۔ اور ہاں یاد آیا۔ اِسی ایریا میں جہاں 2موٹرویز ایم سیون اور ایم فورملتے ہیں وہاں ایک بڑے Zoo بنانے کی تیاّریاں بھی زور و شور سے جاری ہیں۔
اب جو ہم دائیں بائیں آسٹریلین وکٹورین سٹائل ہاؤسز کی چاروں طرف سُرعت سے پھیلتی آبادیوں کے جُھرمٹ سے نکلے تو واہ! سیاہ و متکبّری، سفید، براؤن رنگ کی گائیوں کے فارم دائیں بائیں اور ساتھ بھیڑیں تو مقابلہ میں ضرور ہونگی۔ اِن کے فارم بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مخملیں گھاس پہ ایک چپخل اور مطمئن دوشیزہ کی طرح، قدم جمائے، شکم پروری جاری و ساری۔ وکٹورین سٹائل آبادیاں، ایک دلفریب ردھّم کا سا سماں باندھے۔
ایک 7-Elevenپٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوایا۔ یہاں 7-Eleven والوں نے Coffee کا چھوٹا گلاس ایک ڈالر کا لگایا ہوا ہے۔ اِس طرح ہر کوئی جو یہاں سے گذرتا ہے Coffee لیے بغیر تو شاذو نادر ہی جاتا ہوگا۔ بچّوں نے بھی چپس وغیرہ لیے۔ یہاں پٹرول کا ریٹ ہر جگہ، ہر پٹرول پمپ پر یکساں نہیں ہے۔ مختلف پیٹرول کمپنیاں پٹرول کی خوردہ قیمت خُود ہی متعین کرتی ہیں۔ اِس لیے اُن کے ریٹس میں بعض دفعہ بڑا فرق نظر آتا ہے۔ 
موسم کی تبدیلی نے جہاں آبادیوں میں، وہاں آسٹریلیا کے وسیع و عریض جنگلات میں بھی خُود رَو اور کاشتہ درختوں، پودوں سے شگوفوں کی نزاکت کے سندیسے اور پھُولوں کی خوشبو اور قوس و قزح کے رنگوں کی دلکشی نے جو خطّے کی کایا پلٹی تو دِلوں کی دنیا پر بھی ایسی دلفریب دستک دی، جو آنکھوں کو طراوت، دِل کو سرور اور دماغ کو ایک گوناگوں سکون کا تحفہ تھما گئی۔یہاں آسٹریلیا کے گورے مردوں نے تو کم کم ہی لیکن صنفِ نازک نے اُس سندیسے کا جواب بوجھل کپڑوں سے آزادی اور کم لباسی کوخُوش آمدید کہہ کر دیا۔ اور ہر گورے گوری آسٹریلین کے پاؤں میں ہوائی چپل آگئی۔
اب جناب ہمیں آغوش میں لے لیا، M-31 موٹر وے "Humes Way" نے۔ اِس پر اب 60 کلو میٹر چلنا ہوگا۔ سپیڈ مقرّر ہے 110 کلو میٹر فی گھنٹہ، ہر جگہ کیمرے لگے ہیں۔ اِس مقررّہ سپیڈ سے زیادہ کر کے دکھائیں چلو اوور ٹیک ہی کر کے دکھائیں جو آپ کی سپیڈ 110 سے بڑھ جائے تو جناب بس بھاری جرمانہ آپ کا مقدّر ٹھہرے گا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -