بنوں میں فتنہ الخوارج کا سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ، لیفٹیننٹ کرنل ا ور سپاہی شہید، 5دہشتگردہلاک 

      بنوں میں فتنہ الخوارج کا سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملہ، ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                                                بنوں،راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج نے بزدلانہ حملہ کیا جس سے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہو گئے، آپریشن میں 5 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے قافلے کو بنوں ضلع میں بھارتی پر اکسی فتنہ الخوارج نے اس وقت نشانہ بنایا جب خوارج کی موجودگی، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا جا رہا تھا۔بتایا گیا ہے سکیو رٹی فورسز کے اگلے دستے نے گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو بروقت روک لیا اور اس کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا، یہ دہشتگرد بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنیوا لے اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، یوں ایک بڑے سانحے کوناکام بنا دیا گیا۔یہ بھی بتایا گیا ہے آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگا کر شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سکیورٹی فورسز نے پا نچ خوارج کو جہنم واصل کر دیا تاہم مایوسی کے عالم میں خوارج نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی۔آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ٹکرانے سے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہو گئے، مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز ایک بہادر کمانڈنگ آ فیسر تھے اور اپنی جرات مندانہ کارروائیوں کیلئے معروف تھے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں میں پاک فوج کی گاڑی پر خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جا ملے۔سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ بنوں خودکش حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کر لی، اتحاد المجاہدین کا تعلق فتنہ الخوارج کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے، اس گروہ کا مرکزی سرغنہ گل بہادر اور اس کے اہم کمانڈر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، حافظ گل بہادر گروپ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی اور فتنہ انگیزی میں ملوث ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال 4 مارچ 2025 کو رمضان المبارک کے دوران بھی اسی گروہ نے بنو ں کینٹ پر حملہ کیا تھا جس کی منصوبہ بندی افغانستان سے ہوئی۔ذرائع کے مطابق 2 ستمبر 2025 کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں میں ہونیوالے فتنہ الخوارج کے حملے کے دوران میجر عد نا ن شہید نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر علی سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہونیوالے متعدد حملوں کی ذمہ داری اس گر و پ نے قبول کی، بعدازاں ثابت ہوا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بھی افغانستان سے کی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سر غنوں کی افغانستان میں موجودگی کاثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی سے واضح ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ذرائع کے مطابق شواہد سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اکستان میں دہشتگردی کے واقعا ت میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کی سرپرستی خطے میں امن کی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہی ہے۔ خوارج رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت ایک بار پھر خوارج کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہی ہے، پاکستان کسی قسم کا ضبط و تحمل نہیں برتے گا اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے ذمہ داروں کیخلاف ان کی موجودگی سے قطع نظر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ آصف علی زرداری نے  لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ شہداء کی عظیم قربانی قوم کا سرمایہ ہے۔انہوں نے شہداء_  کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور درجات کی بلندی اور صبرِ جمیل کے لیے دعا کی اور کہا کہ عزم ہے کہ فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشنز بلا امتیاز اور بھرپور قوت سے جاری رہیں گے، قوم کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ماہِ رمضان کے تقدس کو پامال کرنے والے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔وزیراعظم سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کی اور پاکستان فوج کے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے  فتنہ الخوارج کے مزموم عزائم ناکام بناتے ہوئے  پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی  کی اورکہا کہ فتنہ  لخوارج کی جانب سے رمضان کے بابرکت مہینے میں دہشت گردی کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔وزیراعظم  نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شہر جو بڑے نقصان سے بچایا، عزم استحکام کے ویڑن کے تحت سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے، ہم ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت  پیش کیا اور شہید کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا۔محسن نقوی  نے کہا کہ شہید کرنل شہزادہ گل فراز نے جرات اور شجاعت کی تاریخ رقم کی، شہید کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کو سلام۔انہوں نے کہا کہ کرنل شہزادہ گل فراز نے جان دے کر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، شہید کرنل شہزادہ گل فراز کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، شہدائکی عظیم قربانیوں کی قوم ہمیشہ مقروض رہے گی۔ چیئرمین پیپلز پارتی بلاول بھٹو نے بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشتگرد حملے کی شدید  مذمت کی ہے  اور لیفٹیننٹ کرنل اور ایک جوان کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا   اور شہدا کو خراج تحسین پیش کیا۔

خود کش حملہ

مزید :

صفحہ اول -