دہائی سے رہائی فورس تک
پی ٹی آئی نے دہائی فورس سے رہائی فورس کا سفر کیا ہے۔ دہائی فورس نے اب تک خوب ہاہاکار مچائے رکھی ہے، مگر اس کی ایک نہیں سنی گئی، اس کا سبب یہ ہے کہ بعض پاکستان مخالف قوتیں اس دہائی فورس کی کاوشوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتی رہی ہیں اور جب جب دہائی فورس کے لوگ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملے، تب تب عمران خان کے نام پر ایسے ایسے ٹوئیٹ جاری کیے گئے جن کا مقصد پاک فوج کی بدنامی تھا، لوگوں کو یہ گمان ہے کہ خان ڈٹ کے کھڑا ہے لیکن خان کے نام پر پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا کر معاشرے کو تقسیم کرنے کے عمل کا نام اگر ڈٹ کے کھڑا ہونا ہے تو ایک بے کار عمل ہے۔ سیاست میں اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہونے کا مطلب اپنے لئے زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا کرنا ہوتا ہے، دستیاب شدہ گنجائش کو کم کرنا نہیں ہوتا، چنانچہ دہائی فورس جس طرح پاکستان مخالف قوتوں کے ہاتھ استعمال ہوئی اس کا نتیجہ ہے کہ آج راندۂ درگاہ نظر آتی ہے اور کسی کو بھی عمران خان تک رسائی نہیں دی جا رہی ۔
دہائی فورس کا مقصد بھی وہی تھا جو آگے چل کر رہائی فورس کا ہوگا، یہ الگ بات کہ جس طرح کا ردعمل حکومت کی جانب سے دیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ رہائی فورس بس اعلان کی حد تک ہی تشکیل پا سکے گی، حقیقت میں اس کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ چونکہ اس تشکیل کو عید کے بعد تک کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے، اس لئے انتظار کرلیتے ہیں کہ دیکھیں اس پٹاری سے کون سا سانپ نکلتا ہے۔ جب تک دہائی فورس مصروف عمل تھی، تب تک ایک راگ بڑی شدت سے الاپا جا رہا تھا کہ ملک میں معاشی استحکام تب تک نہیں آئے گا جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ سیاسی استحکام نہ آنے کے باوجود معاشی استحکام آگیا۔ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر آگیا، معاشی اصلاحات کا ڈول ڈال دیا گیا، اس کے نتائج آنا شروع ہو گئے اور اب حکومت نے ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے ریلیف پیکج کا اعلان بھی کر دیا۔ یقینی طور پر اس سے آگے چل کر معاشی خوشحالی کا آغاز بھی ہو جائے گا۔
افسوس تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کے بہی خواہوں نے جس مقصد کے لئے پی ٹی آئی کی درپردہ حمائت کی تھی، آج وہی مقصد ان کے گلے پڑ چکا ہے۔ نون لیگ کی مخالفت پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھی، لوگ انہیں آگ اور پانی سے تشبیہ دیا کرتے تھے، آج نون لیگ کی حمائت پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز بن چکا ہے، مخالفت کا ٹوکرا پی ٹی آئی اٹھا کر بھاگ گئی ہے، پیپلز پارٹی کے پاس سوائے ہاتھ ملنے کے کچھ نہیں رہا، ملک میں ایسے تمام طبقات جو بائیں بازو کی سیاست کے داعی تھے اور سمجھتے تھے کہ ملک کو ایک لبرل ماحول ہی بچاسکتا ہے، اکٹھے ہو کر پی ٹی آئی کے بینر تلے جمع ہو چکے ہیں اور چاہ کر بھی دوبارہ پیپلز پارٹی کی طرف رجوع کے قائل نہیں، ان حلقوں کو دوبارہ سے اپنے دائرہ اثر میں لانے کے لئے شیری رحمٰن کی کوششیں بھی بے سود گئی ہیں، اب سٹڈی سرکلز کی بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارم لوگوں کی آراء کو متاثر کرتے نظر آتے ہیں، اب ہمیں کسی اسلم گورداسپوری کی نہیں جین زی کے کسی انفلوئنسر کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی کی اساس میں ایسا خمیر ہے اور نہ ہی نون لیگ میں ہے، اس محاذ پر پی ٹی آئی سبقت لے چکی ہے اور اسی کے بل پر اپنے وجود کو قائم رکھے ہوئے ہے لیکن پی ٹی آئی کا قلع قمع کرنے کیلئے ریاست نے کمر کس لی ہے اور یہی وہ چیلنج ہے جس نے پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی بنا رکھا ہے۔ ریاست کا ماننا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اس کی مخالفت کی بجائے سیاسی جماعتوں کی مخالفت کو اپنا وتیرہ بنالے تو بات کی جا سکتی ہے، پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ ایسا کوئی بھی عمل اس کی سیاسی موت ہے کیونکہ جنرل فیض حمید کے اثرورسوخ کو ختم کرنے میں مزید چار سے پانچ سال درکار ہوں گے۔ جنرل فیض کی باقیات ابھی کئی شکلوں میں ہمارے اردگرد موجود ہیں جو اندرون و بیرون ملک متحرک ہیں اور ریاست کو بدنام کرنے میں جتی ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ باقیات یہ سب کچھ عمران خان کے نام پر کررہی ہیں کیونکہ ان کا مقصد عمران خان کی رہائی سے بڑھ کر پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ وہ عمران خان کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں اور عمران خان کی دہائی فورس خوش ہے کہ ان کا کام آسان ہو چکا ہے۔
تاہم 2022سے لے کر اب 2026تک دہائی فورس کی ساری دہائی بے کار ثابت ہوئی ہے، اسی لئے اب رہائی فورس بنانے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں، یقینی طور پر خیبر پختونخوا کے نوجوان اس کا ایندھن بنیں گے، ایسا ہر گز نہیں ہوگا کہ اس رہائی فورس کی رجسٹریشن کا آغاز سلیمان اور قاسم سے ہوتا نظر آئے۔ پی ٹی آئی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں اس کو دھکیل کر کے پی تک محدود کردیا گیا ہے، اندرون سندھ اور پنجاب میں اس کے نام لیوا تو ہوں گے، اس کے لئے کوئی سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پرامن احتجاج کے لئے بھی کوئی حامی بھرنے کو تیار نہیں ہے اگر رہائی فورس کا قیام عمل میں آگیا تو آئندہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی ایسی ایسی فاش غلطیاں کرتی نظر آئے گی کہ عمران خان کا رہا سہا کام بھی ہو جائے گا!
