نامیاتی خوراک کے شعبہ پر توجہ دی جائے،نجم مزاری

  نامیاتی خوراک کے شعبہ پر توجہ دی جائے،نجم مزاری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

   لاہور(پ ر) آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے آرگینک برآمدات کو عروج دینے کیلئے جامع منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تو آرگینک شعبہ نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ دیہی معیشت بھی فروغ پا سکتی ہے۔اپنے بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ ملک میں بیشتر آرگینک کاشتکار چھوٹے رقبوں پر کام کرتے ہیں جس کے باعث انفرادی سرٹیفکیشن مہنگی اور پیچیدہ ہو جاتی ہے، اس مسئلے کا حل کلسٹر فارمنگ ماڈل میں پوشیدہ ہے جس کے تحت ایک ہی علاقے کے کاشتکار مشترکہ طور پر آرگینک پیداوار اور سرٹیفکیشن حاصل کریں،اس ماڈل سے سرٹیفکیشن کی لاگت میں کمی،معیاری نگرانی،اجتماعی برآمدی کنٹریکٹس کا امکان اور ٹریس ایبلٹی نظام کو بہتر بنایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی طرز پر آرگینک مصنوعات کے لیے بھی مخصوص زون قائم کیے جائیں جہاں علیحدہ اسٹوریج اور کولڈ چین سہولیات،کیمیکل سے پاک پراسیسنگ یونٹس، لیبارٹری ٹیسٹنگ مراکز،پیکجنگ اور لیبلنگ کی جدید سہولتیں میسر ہوں۔

،اس اقدام سے امریکہ اور یورپ کی منڈیوں میں داخلے کے امکانات روشن ہوں گے۔ آرگینک سرٹیفکیشن، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور عالمی نمائشوں میں شرکت کے اخراجات چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لیے بڑا چیلنج ہیں اس لئے حکومت آرگینک سرٹیفکیشن فیس پر سبسڈی،آرگینک برآمدات پر ابتدائی پانچ سال کے لیے ٹیکس ریلیف،اسٹیٹ بینک کے ذریعے کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی اورآرگینک پراسیسنگ مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی جائے۔ نجم مزاری نے کہا کہ آرگینک خوراک اور مصنوعات کی برآمدات کے لئے عالمی نمائشوں اور تجارتی میلوں میں موثر شرکت ناگزیر ہے اوراس کے لئے عالمی سطح پر برانڈنگ کے بغیر آرگینک مصنوعات کی پہچان ممکن نہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ طور پر بین الاقوامی فوڈ ایکسپوز، تجارتی میلوں اور آرگینک نمائشوں میں شرکت کریں جس کے تحت اجتماعی قومی پویلین قائم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ سرٹیفائیڈ آرگینک پروڈیوسرز کا قومی ڈیٹا بیس بنایا جائے،سرکاری آرگینک ایکسپورٹ پورٹل قائم کیا جائے،بلاک چین یا کیو آر کوڈ کے ذریعے ٹریس ایبلٹی نظام متعارف کروایا جائے اورسوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے برانڈ اسٹوری سنائی جائے،اس حکمت عملی سے چھوٹے برآمد کنندگان بھی براہ راست بین الاقوامی خریداروں تک پہنچ سکیں گے۔