جو ایک فیصد طلباء اعلیٰ تعلیم کیلیے باہرجاتے ہیں وہ ضرور انگریزی پڑھیں لیکن پوری قوم کے بچوں پر ایک غیر ملکی زبان کو مسلط کیا جانا قرین عقل نہ ہے

 جو ایک فیصد طلباء اعلیٰ تعلیم کیلیے باہرجاتے ہیں وہ ضرور انگریزی پڑھیں لیکن ...
 جو ایک فیصد طلباء اعلیٰ تعلیم کیلیے باہرجاتے ہیں وہ ضرور انگریزی پڑھیں لیکن پوری قوم کے بچوں پر ایک غیر ملکی زبان کو مسلط کیا جانا قرین عقل نہ ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:رانا امیر احمد خاں 
قسط:315
پاکستان میں تمام سکول ہائے سسٹم کیلئے ایک نصاب کیوں اور کیسے
کے موضوع پر 10 اگست 2019ء کو ہمدرد فاؤنڈیشن ہال میں منعقدہ سیمینار میں تعلیمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک واضح تعلیمی پالیسی اور بارہ سالہ سکولنگ کے لیے ایک نصاب ترتیب دیں۔ ہماری قوم کے تمام بچوں کی تعلیم کے لیے یکساں مواقع پیدا کریں اور انہیں متحارب طبقات میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک قومی دھارے میں لایا جائے تاکہ تعلیمی شعبے میں پائی جانے والی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کو ختم کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو ایک قوم بنانے کی طرف پیش قدمی کی جا سکے۔
سٹیزن کونسل آف پاکستان کی جانب سے منعقدہ سیمینار کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیق جالندھری نے کی۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی مسائل پر ماضی کی حکومتوں نے کماحقہ توجہ نہیں دی۔ جس کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں ہم پورے جنوبی ایشیاء میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ آج تک جتنی بھی تعلیمی پالیسیاں بنائی گئی ہیں کسی پر بھی مؤثر عملدرآمد دیکھنے میں نہیں آیا۔ وطن عزیز میں متضاد نظام ہائے تعلیم، طبقاتی کشمکش کو فروغ دینے کا باعث بن رہے ہیں لہٰذا تعلیمی پالیسی کا نئے سرے سے تعین لازمی ہے تاکہ نظریہ پاکستان اور ہماری اقدار کے مطابق طلباء کی کردار سازی ہو سکے اور اس کے ساتھ ساتھ جدید علوم کو بھی طلباء کی رسائی میں لایا جائے۔ معیارِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سکولوں کے نصاب میں افکارِ قائد، اقبالیات، پرائمری کلاسز میں مسلمان بچوں کے لیے قرآن ناظرہ اور ہائی کلاسز میں قرآن مجید باترجمہ اور کرسچن بچوں کے لیے اگر اْن کی تعداد پانچ یا پانچ سے زیادہ ہو تو بائبل کی تدریس کا اہتمام کیا جائے۔ جدید علوم میتھ، کیمپیوٹر اور سائنس کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ زبان دانی اْردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی تدریس کو معیاری بنایا جائے۔ کیونکہ آج ہماری تعلیمی پسماندگی کا یہ حال ہے کہ ہمارا گریجویٹ اْردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ایک درخواست لکھنے سے بھی قاصر ہے۔ دنیا کی اقوام میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قومی زبان اْردو کو نہ صرف علمی و تدریسی زبان بنائیں بلکہ اسے اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں بطور ذریعہ امتحان اختیار کریں اور تمام دفاتر میں بطور سرکاری زبان جاری و ساری کریں۔200برسوں سے ہم نے انگریزی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔نہ معیار تعلیم بلند ہو سکا اور نہ ہی ہماری گورننس بہتر ہوئی۔ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی میٹرک تک لازمی پڑھائیں لیکن اس میں پاس ہونا لازمی قرار نہ دیا جائے، جو ایک فیصد طلباء انگلینڈ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اعلیٰ تعلیم کے لیے جاتے ہیں وہ ضرور انگریزی پڑھیں لیکن صرف ایک فیصد بچوں کی خاطر پوری قوم کے بچوں پر انگریزی ایک غیر ملکی زبان کو مسلط کیا جانا قرین عقل نہ ہے۔ تعلیمی سہولیات کو پاکستان کے ایک ایک بچے تک پہنچانے میں حکومتی سطح پر کم بجٹ اور بڑھتی ہوئی آبادی بنیادی رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کئے بغیر سکولوں سے باہر سوا دو کروڑ بچوں کو تعلیم سے بہرہ مند کرنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ قوم کو درپیش تعلیمی مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ 
 سیمینار کا آغاز فاروق اکرم صابری نے قرآن کی تلاوت سے کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری ظفر علی راجا نے اپنا ایک نعتیہ شعر نذرِ سامعین کیا۔ جو حسب ذیل ہے:
کسی کا فیض رہا ہے کہاں صدی بہ صدی 
فقط حضورؐ ہیں رحمت فشاں صدی بہ صدی 
اس نعتیہ شعر کے بعد پروفیسر سلمان احمد خان نے ایک انگریزی نظم سنائی اس کے بعد سٹیزن کونسل آف پاکستان کے صدر رانا امیر احمد خاں نے ابتدائی کلمات حاضرین کی خدمت میں پیش کئے اور سیمینار کی اہمیت کی وضاحت کی۔ 
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -