سیاسی تحریک چلانے والی این جی او کیخلاف کاروائی ہوسکتی ہے؟

سیاسی تحریک چلانے والی این جی او کیخلاف کاروائی ہوسکتی ہے؟
سیاسی تحریک چلانے والی این جی او کیخلاف کاروائی ہوسکتی ہے؟

  

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے نتیجہ میں 17 جنوری 2013ءکو وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ جو معاہدہ طے پایا تھا اس پر علامہ ڈ اکٹر طاہر القادری نے پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین کی حیثیت سے دستخط کئے ہیں جبکہ معاہدہ میں انہیں منہاج القرآن انٹرنیشنل کا بانی رہنما بھی بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کے نمائندوں نے جس ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کئے وہ ایک تو منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی رہنما ہیں اور دوسرا وہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ان ہر دو حیثیتوں میں قانونی طور پر کوئی ایسا معاہدہ کرنے یا اعلامیہ پر دستخط کرنے کے مجاز تھے جیسا 17 جنوری 2013ءکو اسلام آباد میں طے پایا۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل ایک غیر سرکاری، غیر سیاسی اور غیر طبقاتی تنظیم ہے۔ یہ ادارہ ایک این جی او کے طور پر رجسٹرڈ ہے جس کی 100 سے زیادہ ممالک میں شاخیں ہیں۔ قانونی طور پر ایک این جی او ان اغراض و مقاصد سے بڑھ کر کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہو سکتی جن کی بنیاد پر وہ رجسٹرڈ ہوتی ہے، کوئی این جی او سیاسی جماعت کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ لانگ مارچ کے لئے منہاج القرآن کا پلیٹ فارم استعمال کیا گیا۔ حکومتی نمائندوں اور ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان آئندہ مذاکرات بھی منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ لاہور میں ہونا طے پائے ہیں۔ ادارہ منہاج القرآن 1981ءمیں قائم ہوا۔ خود ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی غیر سیاسی تنظیم ہے۔ ایک این جی او کی حیثیت سے منہاج القرآن نے حکومت سے متعدد مراعات حاصل کر رکھی ہیں جن میں ٹیکسوں میں چھوٹ اور سستے داموں سرکاری اراضی کا حصول بھی شامل ہے۔ ادارہ منہاج القرآن سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ مجریہ 1860ءکے تحت رجسٹرڈ ہے جبکہ برطانیہ میں یہ ادارہ خیراتی کمیشن کے قانون کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ ادارہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے اغراض و مقاصد میں صوفی ازم اور روحانیت کی ترویج، بنیادی حقوق، خواتین کے حقوق، انتہا پسندی کو روکنا اور امن کو فروغ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ متعلقہ دستاویزات کے مطابق ان مقاصد کے حصول کے لئے تعلیم اور تربیت کا طریقہ کار اختیار کیا جانا ہے جس کے لئے منہاج القرآن نے دنیا بھر میں سینٹر اور تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ قانون کے مطابق اگر کوئی این جی او اپنی حدود سے تجاوز کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے حتیٰ کہ اس کی رجسٹریشن منسوخ کرکے اس کی قانونی حیثیت بھی ختم کی جا سکتی ہے۔ اب یہ رجسٹرار سوسائٹیز کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ ادارہ منہاج القرآن سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا قانونی طور پر کس حد تک مجاز ہے اور یہ کہ کیا لانگ مارچ اس کے رجسٹرڈ اغراض و مقاصد کی حدود سے تجاوز اقدام ہے تو اس کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟ بادی النظر میں تو ایک این جی او کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا غیر قانونی اقدام ہے، دوسرا یہ کہ ایسی کسی این جی او کے رہنما سے حکومتی سطح پر سیاسی معاہدہ کرنا بھی قانون کے منافی ہے۔

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 17 جنوری کے اعلامیہ / معاہدہ پر پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین کی حیثیت سے دستخط کئے ہیں۔ کیا دہری شہریت کا حامل کوئی شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار ہو سکتا ہے؟ قانونی طور پر اس کا جواب نفی میں ہے۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر مجریہ 2002ءکی شق 5 کے تحت وہ شخص جو پارلیمینٹ کا رکن بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو، وہ کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں ہو سکتا۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر میں واضح طور پر تحریر ہے کہ دستور پاکستان کے آرٹیکل 63 کے تحت نااہل شخص کو کسی سیاسی جماعت میں کوئی عہدہ نہیں دیا جا سکتا۔ آئین کے آرٹیکل (1) 63 جی کے تحت دہری شہریت کا حامل شخص پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا رکن نہیں بن سکتا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا کی شہریت بھی اختیار کر چکے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ آئین کے آرٹیکل (1) 63 جی اور پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی شق 5 کے تحت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نہیں ہو سکتے۔وہ خود تو انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہناہے کہ ان کی پارٹی الیکشن میں حصہ لے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ پارٹی کی سطح پر کیا جائے گا اور اگر فیصلہ ہو گیا تو عوامی تحریک پوری قوت سے انتخابی عمل میں شامل ہو گی۔ انہوں نے لانگ مارچ اعلامیہ میں بھی عوامی تحریک کے مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ ایسی صورت میں پاکستان عوامی تحریک کی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے اس سیاسی جماعت کو اپنے نئے سربراہ کا چناﺅ کرنا ہو گا یا پھر موجودہ سربراہ ڈاکٹر طاہر القاعدری کو کینیڈا کی شہریت چھوڑنا ہو گی۔ 2002ءکے عام انتخابات میں پاکستان عوامی تحریک کے امیدواروں نے ٹرک کے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لیا تھا اور عوامی تحریک کو صرف ایک نشست پر کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ مجموعی طور پر اس جماعت کو صرف 0.7 فی صد ووٹ ملے تھے یعنی حق رائے دہی استعمال کرنے والے 1000 میں سے صرف 7 ووٹروں نے پاکستان عوامی تحریک کی حمایت کی تھی۔ اس طرح طاہر القادری کو ایک ایسی سیاسی جماعت کا نمائندہ بھی قرار نہیںد یا جا سکتا جسے عوامی مقبولیت حاصل ہو۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ پر جن رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کا اندراج ہے۔ ان کی فہرست میں پاکستان عوامی تحریک کا نمبر 35 واں ہے۔ اس ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر محمد طاہر القادری پاکستان عوامی تحریک کے صدر ہیں جبکہ وہ خود آج کل اس پارٹی کے چیئرمین کے طور پر سرگرم عمل ہیں اور لانگ مارچ اعلامیہ پر بھی انہوں نے چیئرمین پاکستان عوامی تحریک کی حیثیت سے ہی دستخط کئے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ غلط ہے یا ڈاکٹر طاہر القادری خود بھول چکے ہیں کہ ان کا پارٹی عہدہ کیا ہے؟ یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ معاہدہ کسی دوسری جگہ کسی اور نے تیار کیا ہو اور اسے تیار کرنے والے ڈاکٹر طاہر القادری کے حقیقی پارٹی عہدہ سے ناواقف ہوں۔

مزید :

تجزیہ -