ٹریفک وارڈنز یا پھر روائتی ٹریفک پولیس

ٹریفک وارڈنز یا پھر روائتی ٹریفک پولیس
ٹریفک وارڈنز یا پھر روائتی ٹریفک پولیس
کیپشن: Ch Bashir

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


آج سے تقریباََ آٹھ سال قبل پنجاب میں ٹریفک وارڈنز کانظام رائج کیا گیا تھا اور ٹریفک کے نظام میں بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی بِلاشُبہ شروع میں سابق ٹریفک پولیس کے مقابلے میں بہتری نظر بھی آئی تھی ، جس پر میں نے آئی جی پنجاب کو نئے نظام کے حق میں تعریفی خط بھی ارسال کیا تھا مگر اب ٹریفک وارڈنز کی چمک ماند پڑتی نظر آ رہی ہے۔
اس سے قبل میں نے ٹریفک مسائل کے موضوع پر ایک آرٹیکل لکھا تھا، جس کا عنوان ©”ٹریفک حادثات اور ہماری ذمہ داری“ تھا یہ روزنامہ جنگ لاہور کی مورخہ 28فروری 2007ءکی اشاعت میں شائع ہوا تھا ۔ اس آرٹیکل میں ٹریفک حادثات کے موجب بہت سے عوامل زیر بحث آئے ۔ اُس میں یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ ٹریفک کراسنگ یا چوراہوں میں ٹریفک پولیس کے اہلکاران تعینات کئے جاتے ہیں، تاکہ وہ وہاں ٹریفک کو ریگولیٹ کریں اور اس میں ربط پیدا کریں۔ اگر وہاں ٹریفک سگنل لگاہوا ہو تواسے مانیٹر کریں تا کہ کوئی ڈرائیور اشارہ نہ توڑے۔ اکثر یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ اگر ایک کراسنگ پر چار ، پانچ اہلکار تعینات ہیں تو وہ تمام کراسنگ سے تھوڑا ہٹ کر ایک ہی جگہ پر کھڑے ہو کر گپ شپ میں مصروف ہوں گے اور اشارہ بند ہونے پر آخری ایک ، دو ڈرائیوروں کو روک کر یہ بحث چھڑ جائے گی کہ آپ نے اشارے کی خلاف ورزی کی ہے ۔
 ڈرائیور کی دلیل اکثر یہ ہوتی ہے کہ سگنل ابھی سرخ نہیں ہوا تھا اور میں نے زرد بتی میں کراس کیا ہے ۔ پولیس اہلکار کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ آپ نے بتی سرخ ہو نے پر کراس کیا ہے ۔ میری دانست میں زرد اور سرخ بتی کے درمیان چند سیکنڈ کا جو وقفہ رکھا جاتا ہے وہ اس لئے ہوتا ہے کہ ڈرائیور اس کی مدد سے ایڈجسٹمنٹ کر سکے یعنی اگر وہ بتی زرد ہوتے وقت کراسنگ لائن پر پہنچ گیا ہے تو کراس کر جائے تا کہ ٹریفک کا فلوبرقرارر ہے اور اگر اس نے وہاں بریک لگائی تو پیچھے آنے والی گاڑی اس کی گاڑی سے ٹکرا سکتی ہے اور اگر کراسنگ لائن تک کچھ فاصلہ باقی ہے تو ڈرائیور پیچھے دیکھ کر سپیڈ کو کم کرے اور رک جائے ۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایک طرف کی بتی سرخ ہونے کے بعد دوسری طرف کی زرد بتی جلتی ہے اور پھر سبز بتی جلتی ہے۔ اس طرح دونوں اطراف کا زرد بتی کا وقفہ دگنا ہو جاتا ہے، تا کہ سگنل کراس کرنے یا نہ کرنے میں فیصلہ کرتے وقت غلط فہمی کا تھوڑا ازالہ ہو سکے اور حادثے سے بچا جا سکے ۔ یہ بات مُسلمَہ ہے کہ قانون کو کتنا بھی واضح اور عام فہم بنا دیا جائے مگر اس پرعمل کرنے کے لئے انسانی دماغ کا استعمال پھر بھی ضروری ہوتا ہے ۔

آج پانچ ، چھے سال کے بعد دوبارہ ٹریفک کے بارے میں قلم اٹھانے کو اس لئے دل چاہا کہ وارڈ ن سسٹم آنے کے تقریباََ آٹھ سال بعد اس کی چمک بھی ماند پڑتی نظر آرہی ہے اور ٹریفک وارڈن نے بھی سابق ٹریفک پولیس کا روپ دھار لیا ہے ۔ میں مورخہ 4دسمبر 2013ءکو شام کے تقریباََ چار بجے اپنے دفتر سے گھر جا رہا تھا ۔ واپسی پرمیں اکثروحدت روڈ سے بھیکے وال موڑ اور وہاں سے علامہ اقبال ٹاو¿ن کو داخل ہوتا ہوں۔ گاڑی ڈرائیوکرتے وقت غیر شعوری طور پر بھی میں مشاہدہ کرتا رہتا ہوں کہ دوسرا ڈرائیور اپنی لین میں جا رہا ہے یا لین توڑ کر آگے والی گاڑیوں کو دائیں یا بائیں سے کراس کرتا آگے نکل رہا ہے ۔ وحدت کالونی کے آخری موڑ پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ رکشے سامنے سے غلط ہاتھ پر آرہے ہیںاور اسی جگہ پر ٹریفک وارڈن اپنے موٹر سائیکل کے پاس کھڑا میری طرح بے بسی کے عالم میں محض مشاہد ہ کر رہا ہے ۔
وہاں سے آگے بھیکے وال موڑ سے میں نے دائیں طرف ٹرن لینا تھا ٹریفک کے ساتھ ہی میں نے دائیں طرف گاڑی موڑی تو پیچھے والی گاڑی کا ڈرائیور چوک میں ہی مجھے کراس کر کے آگے نکلنا چاہتا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ وہ میری گاڑی کے ساتھ ٹکرا نہ جائے جیسے ہی میری گاڑی علامہ اقبال ٹاو¿ن کی طرف سڑک پر مڑی تو بائیں طرف کھڑے دو ٹریفک وارڈنز نے رکنے کااشارہ کیا میں نے گاڑی بائیں طر ف کر کے روک لی اور میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ انہوں نے میرے سے پہلے آنے والے ڈرائیور کی ریش ڈرائیونگ کو نوٹ کر لیا ہے۔ اسی دوران پیچھے والا ڈرائیور گاڑی روکے بغیر آگے نکل گیا ۔ اُن میں سے ایک ٹریفک وارڈن میرے پاس آیا اور رسمی سلام دعا کے بعد کہا کہ جی آپ نے اشارہ کاٹا ہے لہٰذا آپ ڈرائیونگ لائسنس یا شناختی کارڈ دکھا ئیںمیں نے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ میں نے اشارہ نہیں کاٹا ،بلکہ ٹرن لینے کے بعد پیچھے والی گاڑی کی ریش ڈرائیونگ کی وجہ سے مجھے اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا پھر میں نے اُنہی سے پوچھا کہ میرے پیچھے آنے والی گاڑی کہاںہے انہوں نے بتایا کہ وہ تو چلی گئی ۔

مَیں نے پوچھا کہ وہ گاڑی میرے پیچھے آرہی تھی اگر آپ کے کہنے کے مطابق میں نے اشارہ کاٹا ہے تو اس نے بھی لازمی کاٹا ہو گا کیونکہ وہ میرے پیچھے آرہا تھا جواب ملا کہ اس نے گاڑی روکی نہیںمجھے اس بات پر بہت افسوس ہوا کہ میں ایسے ملک میں ہوں جہاں قانون کا احترام کرنے والوں کے گلے میں ہی قانون کا پھندہ فٹ ہوتا ہے اور جو قانون کا احترام نہ کرے وہ آسانی سے بچ نکلتا ہے ۔ میں نے انہیں بتایا کہ میری عمر 70 سال ہے ، 1964ءسے میں ڈرائیونگ کر رہا ہوں اور آج تک میں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی اس تمام عرصہ میں میرا کوئی چالان ہوا ہے ۔بہر حال میں نے ان کو اپنا شناختی کارڈ دیا اور انہوں نے چالان کرتے وقت مجھے پوچھا کہ آپکو میں 300 روپے جرمانہ کروں یا 500 روپے ۔ میں نے جواب دیا کہ میرے مطابق تو آپ چالان درست نہیں کر رہے، بلکہ اپنی مرضی کر رہے ہیں۔ لہٰذا آپ جتنا چاہیں جرمانہ کر دیں۔ میںنے انہیں بتایا کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لئے ایک آرٹیکل لکھا تھا اور آج آپ نے مجھے ہی اس کا مجرم بنا دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات سن کر اتنی مہربانی کی کہ میں جرمانے کی رقم انہیں ادا کر کے اپنا شناختی کارڈ واپس لے لوں کیونکہ مجھے بنک میں رقم جمع کروانے میںدِقت ہو گی وہ خود ہی جمع کروا دینگے۔
میرا گھر بھی اس جگہ سے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ہے ۔ گھر پہنچ کر میں نے گاڑی کھڑی کی اور کپڑے تبدیل کئے۔ مگر میرے ذہن سے یہ بات نہ نکل سکی کہ ٹریفک وارڈن نے میرے ساتھ زیادتی کی ۔ میں پیدل دوبارہ وہاں چلا گیااور ان سے رابطہ کیا۔ یہ گفتگو اچھے ماحول میں ہوئی ٹریفک وارڈن کا نام مسٹر زوار حسین تھا اور وہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایک سال قبل بھرتی ہوئے تھے۔ ان کا بیلٹ نمبر 3657 تھا ۔ اس کے ساتھ اس وقت ایک دوسرے ٹریفک وارڈن شکیل صاحب بھی تھے ۔ دوران گفتگو جب انہیں یہ پتہ چلاکہ میں ایڈووکیٹ ہوں تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ اُس وقت مجھے بتا دیتے کہ آپ وکیل ہیںتو میں آپ کا چالان نہ کرتا ۔ میں نے انہیں کہا کہ میری گاڑی کی ونڈو سکرین پر ہائی کورٹ بار کا سٹیکر لگا ہوا تھا جو ہائی کورٹ میں پارکنگ کے لئے ضروری ہوتا ہے اُس سے آپ کو پتہ نہ چلا کہ میں وکیل ہوں اور میں اپنے وکیل ہونے کی وجہ سے آپ کو یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ چالان نہیں بنتا دوسرے اگر آپ گاڑی کے پاس کھڑے ہو کر ونڈ سکرین پر سٹیکر نہیں پڑھ سکے تو ٹریفک سگنل نے دو سو میٹر دور موڑ مڑنے کے بعد آپ سگنل پر زرد بتی اور سرخ بتی میں فرق کیسے یقین کے ساتھ دیکھ اورکر سکتے ہیں۔
 اس گفتگو کے دوران انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ انہیں حکم ہے کہ ہر روز بیس چالان ضرور کرنے ہیں۔ یہ بات سن کر ٹریفک پولیس افسران کی طرف سے ایسے حکم پر بھی مجھے افسوس ہوا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی ڈرائیور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہ بھی کرے تب بھی انہوں نے بیس ڈرائیوروں کے چالان ضرور کرنے ہیں اور اگر ایک سو ڈرائیور خلاف ورزی کریں تو وہ 80 ڈرائیوروں کو چھوڑ سکتے ہیںکیونکہ پابندی صرف بیس چالان کرنے تک محدود ہے ۔میں نے انہیں بتایا کہ شاید میں یہ واقع بھی تحریر میں لاو¿ں اور ٹریفک قوانین پر دوسرا آرٹیکل لکھوں اس بات پر مسٹر زوار حسین وارڈن نے کہا کہ اگر آپ آرٹیکل لکھےںتو اس میں یہ بھی تحریر کر دیں کہ ہمیں موقع پر چالان وصول کرنے کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ عوام کو بنک میں جا کر جرمانہ جمع کروانے میں دِقت ہوتی ہے ۔ میں نے دل میں سوچا کہ وارڈن صاحب کو یہ احساس نہیں ہے کہ غلط چالان کرنے پر ایک عام ڈرائیور کو جتنی کوفت اور دقت ہوتی ہے بنک میں جرمانہ جمع کرواتے وقت اس کی شدت بہت کم ہوتی ہو گی ۔
یہ آرٹیکل لکھنے کا میرا مقصدیہ نہیںہے کہ اہلکار کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی جائے، بلکہ انہیں بہتر انداز میں معاملہ فہمی کی تربیت دی جائے ۔ چوک سے دور جا کر گاڑیاں روک کر زرد اور سرخ بتی کی بحث میں الجھنے کی بجائے وہ چوک میں کھڑا ہو کر ڈیوٹی دیں ،تاکہ وہ اشارہ کاٹنے یا نہ کاٹنے کے عمل کا بہتر انداز میں مشاہدہ کر سکیں۔ سڑکوں پر چلتی ٹریفک میں بلا وجہ لین کی بار بار دائیں اور بائیں سے تبدیلی کی روک تھام کے لئے یورپی ممالک کی طرح اَن مارکڈ وہیکلز (Unmarked Vehicles) کا استعمال کریں کیونکہ ٹریفک پولیس کی موجودہ گاڑیوں کے نشانات اور روشنیوں سے ڈرائیور کو دور سے ہی آگاہی ہو جاتی ہے اور وہ وقتی طور پر اپنا قبلہ درست کر لیتا ہے اور پھر اسی روش پر چل پڑتا ہے ۔ ٹریفک میں آج کل ایک اور چیز بہت تکلیف دہ اور خطرناک یہ ہے کہ رکشا ڈرائیور دو لینز کے درمیان میں سے رکی ہوئی ٹریفک میں سے آگے چلتے جاتے ہیں، جس سے گاڑیوں کو رگڑ لگنے سے نقصان بھی ہوتا ہے اور حادثہ کا بھی ڈر رہتا ہے۔ جن چوراہوں میں بائیں طرف مڑنے کے لئے ایک تکون بنا کر علیحدہ راستہ دیا ہوتا ہے اسے سیدھے جانے والے بائیں طرف رک کر بلاک کر دیتے ہیںاور بائیں طرف جانے والی ٹریفک رک جاتی ہے سامنے جانے والی ٹریفک کھلنے کے بعد یہ موٹر سائیکلوں والے تکون کے اوپر سے ہو کر پھر سامنے جانے والی سڑک پر آتے ہیں ۔ ان باتوں کا ٹریفک وارڈنز کو مل کر ایک جگہ کھڑے ہونے کی بجائے علیحدہ علیحدہ کھڑے ہو کر نوٹس لینا چاہئے اور قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔

مزید :

کالم -