پچیس لاکھ کی گھڑی....!

پچیس لاکھ کی گھڑی....!
پچیس لاکھ کی گھڑی....!
کیپشن: Fayaz Ahmad

  

 پچھلے دنوں ہمیں ایک فرنیچر ایکسپورٹر کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا،موصوف کا دفتر کیا لش پش تھا۔دفتر کیا تھا؟ ایک چھوٹا سا محل تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر امریکی اس دفتر کو دیکھ لیں تو ہمارے ملک کی امداد بند ۔۔۔یااس میں کمی ضرور کردیں۔ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور دفتر کے ویٹنگ روم سے ہمیں ان کے میٹنگ روم میں جانے کی اجازت ملی۔موصوف بڑے تپاک سے ملے اور جب انہوں نے اپنا ہاتھ ہماری طرف بڑھا یا ان کی کلائی پر ایک شانداراور بیش قیمت گھڑی نظر آئی۔ہاتھ ملاتے ہوئے موصوف نے اپنی کلائی کو اس طرح جنبش دی کہ ہمیں گھڑی کی طرف زبردستی متوجہ کیا جائے۔ حالانکہ ہماری نظریں پہلے ہی گھڑی کے سحر میں ڈوبتی جارہی تھیں اب ہمیں ایک لمحے کیلئے یہ احساس ہونے لگا کہ ہم کسی شخصیت سے نہیں بلکہ ایک انتہائی قیمتی گھڑی سے ملاقات کررہے ہیں۔ متوسط طبقے کی ہمیشہ یہ کمزوری رہی ہے کہ وہ مصنوعی شان وشوکت سے فوری متاثر ہوجاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ بشری کمزوری ہم میں بھی تھی۔

بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا موصوف نے ملکی حالات کے تناظر میں تاجروں کو اتنا مظلوم پیش کیا کہ مجھے لگا کہ اتنی قیمتی گھڑی پہننے والا یہ شخص انتہائی مفلس اور کمزور ہے ۔ موصوف کہنے لگے کہ جناب کیا بتائیں؟ امن و امان کی صورتحال کتنی ابتر ہے؟ اور اس ملک کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔ ہرلمحہ سر پر خوف کے بادل منڈلاتے ہیں۔کوئی بھروسہ نہیںنہ جان کی ضمانت ہے ۔۔۔نہ مال کی۔اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ ہم تو اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں۔ گفتگوکے دوران موصوف کلائی کو اس انداز سے گھماتے رہے کہ گھڑی ایک لمحے کیلئے بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہ ہوئی۔ اچانک ہم نے بات بدلتے ہوئے ان سے کہاکہ مختصر انداز میں بتائیں،،،کہ آپ کی زندگی میں کامیابی کا کیا راز ہے؟یکدم بولے۔۔۔وقت۔۔۔میری توساری کامیابیاں وقت کی قدر کرنے میں مضمر ہے۔۔۔اور پھر جو ان کے دل و دماغ میں تھا وہ زبان پر آگیا۔۔۔اپنی گھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہنے لگے وقت کی قدر میری نزدیک کیا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ میں نے وقت پر نگاہ رکھنے کے لئے پچیس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔

 اس سے پہلے کہ ہم کچھ بولتے انہوں نے کلائی پر گھمنڈ کے ساتھ ہاتھ مارا اور تکبرانہ لہجے میں کہنے لگے اس گھڑی کی قیمت وقت کی طرح قیمتی ہے۔پچیس لاکھ روپے اس کی مالیت ہے۔ وقت سے بڑی چیز کیا ہے؟ میرا تو ایمان ہے کہ وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے جتنی بھی رقم لگا دی جائے کم ہے۔ اور دیکھ لیں ہماری وقت سے محبت کہ ہم نے لمحے لمحے سے فائدہ اُٹھانے کیلئے وقت بتانے کی اتنی قیمتی گھڑی اپنی کلائی میں سجا رکھی ہے۔۔۔۔اتنے میں ان کی موبائل کی بیل بجی اور انہوں نے ایک گھٹیا سا قہقہہ لگایا اور تیسرے درجے کے لہجے کے ساتھ جس طرح گفتگو شروع کی ہمیں یہ بات سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ دوسری طرف بھی کوئی پچیس لاکھ روپے کی گھڑی باندھے بیٹھا ہے۔ پھر اچانک وہ باتیں کرتے ہوئے دوسرے کمرے کی طرف چل نکلے۔ تو ان کا ملازم چائے کی ایک ٹرے لئے اندر آگیا۔ چائے میں چینی ڈالتے وقت ملازم ہم سے چینی کے حوالے سے اس طرح پوچھتا جیسے ہم سب شوگر کے مریض ہیں۔

خیر ہمارے کہنے پر اس نے چائے میں چینی ڈال دی۔ ہمیں شرارت سوجھی اور اس سے پوچھا یار آپ کے صاحب بڑے کمال کے آدمی ہیں ۔ملازم کی جرا¿ت دیکھیں کہ اس نے ہماری بات کا تقریباً برا منایا اور جل کر بولا صاحب وقت وقت کی بات ہے۔ان کے دادا ترکھان تھے، دن رات مزدوری کرکے گزارہ کرتے تھے اور کیا بتائیں جناب یہ میرے والد کی مہربانی تھی کہ اس نے انہیں اپنی شاگردی میں لے کر کچھ کام سکھا دیا۔ ہم نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے مزید تیر پھینکا اور کہا کہ یار تمہارے صاحب نے بڑی قیمتی اور شاندار گھڑی پہنی ہوئی ہے۔ کہنے لگا سرجی ہمارا بس چلے تو اس گھڑی کو کلائی سمیت کاٹ لیں۔ اُف ۔۔۔اتنی بڑی بات۔ہم جس بات کو ہلکے پھلکے انداز میں دیکھ رہے تھے ملاز م کے خیالات نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اتنے میں جناب ایکسپورٹر صاحب کمرے میں واپس آگئے اور ہم نے بھی دوسری باتیں چھوڑ کر گھڑی کے بارے میں پوچھ لیا۔

بس پھر کیا تھا؟ انہوں نے گھڑی کی قیمت کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیاں گنوانا شروع کردیں بتانے لگے کہ اس میں خالص ہیرے لگے ہوئے ہیں۔ یہ رات کے اندھیرے میں بھی چمکتی ہے اور جب کلائی پر بندھی ہو تو بندے کے دل و دماغ زمیں پر نہیں ٹکتے۔۔۔۔بات کا سلسلہ ختم ہوا تو ہم ان کے ساتھ کمرے سے باہر نکلے تو وہی ملازم سامنے کھڑا تھا۔ موصوف نے ملازم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔اوئے،،،کوئی چائے وائے پلائی مہمانوں کو؟ اس کے سر کی جنبش سے پہلے ہی کہنے لگے جناب یہ ہمارا خاندانی ملازم ہے بہت وفادار انسان ہے۔ اس کاباپ بھی ہمارے والد کی خدمت کرتا رہا۔ موصوف سے اجازت لیکر ہم انتہائی شاندار شوروم سے گزرتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ اگر اللہ نے دولت دی ہو تو اس کی نمائش اس طرح نہ کی جائے کہ آپ کے وفادار بھی آپ کے دشمن بن جائیں۔ مجھے قیمتی گھڑی پہننے والے صنعتکار اور اس کے ملازم کے اندر کے خیالات سے ایسا لگا کہ کسی دن اخبارات کے درمیانے صفحے پر چھوٹی سی خبر لگ جائے گی۔

مزید :

کالم -