بحرین میں حقوق انسانی کے کارکن کو ٹویٹ پر سکیورٹی اداروں کے خلاف پوسٹ پر چھ ماہ قید کی سزا

بحرین میں حقوق انسانی کے کارکن کو ٹویٹ پر سکیورٹی اداروں کے خلاف پوسٹ پر چھ ...

 ما نا مہ( آن لائن )خلیجی ملک بحرین میں حقوق انسانی کے ایک نمایاں کارکن کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سکیورٹی اداروں کے خلاف پوسٹ پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔نبیل رجب پر عوامی اداروں اور فوج کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ بحرین کے سکیورٹی اداروں نے جہادیوں کے لیے نظریاتی انکیوبیٹر کے طور پر کام کیا۔عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے نبیل رجب کو پانچ سو ڈالر کے عوض ضمانت کرانے کا حق دیا ہے۔نبیل رحب نے سال 2002 میں بحرین میں حقوق انسانی کی تنظیم بنائی تھی اور اس وقت سے انھیں متعدد بار جیل بھیجا جا چکا ہے۔انھوں نے ٹویٹ کے ذریعے سزا ہونے کی تصدیق کی ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا ہے کہ بحرین میں قانون اور عدالیہ کو تشدد کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔انھوں نے اپنی سزا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز کو روکنے کے لیے ان کے گلے پر تلوار رکھی گئی ہے۔انھوں نے برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے بھی کیس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔دوسری جانب حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نبیل رجب کو سزا دینے کی مذمت کرتے ہوئے اس آزادی رائے پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا ہے۔تنظیم کے مطابق رجب کی سزا بحرین میں حکام کی جانب سے حقوق انسانی کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کا ایک نیا واقعہ ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...