کراچی چیمبر کادرآمد کنندگان کو بے جا ہراساں کرنے پر احتجاج

کراچی چیمبر کادرآمد کنندگان کو بے جا ہراساں کرنے پر احتجاج

کراچی (این این آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی ) کے صدر افتخار احمد وہرہ نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) طارق باجوہ پر زور دیا ہے کہ وہ محکمہ کسٹمز لینڈ اور ڈائریکٹریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے درآمد کنندگان کو بے جاہراساں کرنے کا نوٹس لیں۔کے سی سی آئی کے صدرنے کہاکہ درآمدی کاروبار سے وابستہ کے سی سی آئی کے کئی ممبران سمیت گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شکایت کی ہے کہ افسران اُن کے لیے مستقل مشکلات پیدا کر رہے ہیں جن کا مال ملک بھر بھیجا جاتا ہے جبکہ حیدرآباد، سکھر،ملتان اور فیصل آباد کی مختلف چیک پوسٹوں کے احاطے میں درآمدی مال اور ٹرکوں کو ایک سے دو ماہ اور اس سے بھی زائد عرصے کے لیے ضبط کر لیاجاتا ہے۔افتخار احمد وہرہ نے کہاکہ سندھ اور پنجاب کی چیک پوسٹوں پر حقیقی درآمد کنندگان کے کنٹینرز مسلسل روکے جارہے ہیں حالانکہ یہ درآمدی مال پہلے ہی کراچی کی بندرگاہوں پر تمام ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے اورمکمل جانچ پڑتال کے بعد کلیئر کیے جاتے ہیں ۔انہوں نے حیدرآباد، سکھر،ملتان اور فیصل آباد کی چیک پوسٹوں پرتعینات افسران کو” بھتہ خور“ سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ یہ کرپٹ افسران درآمد کنندگان کو مسلسل ہراساں کرتے ہیں اور ضبط کیا گیا مال اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا جب تک درآمد کنندگان اُن کے رشوت کے مطالبے کو پورانہیں کردیتے یہی وجہ ہے کہ اکثردرآمدی مال کی سپلائی تاخیر کاشکار ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں درآمد کنندگان کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔کے سی سی آئی کے صدر نے کہاکہ ملک بھرکے مختلف شہروں میں قائم چیک پوسٹوں پرحقیقی درآمدکنندگان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے اسمگل شدہ اشیاءکی روک تھام کے لیئے اِن چیک پوسٹوں کو سرحدوں پر قائم کیاجائے تاکہ اسمگلنگ کی لعنت سے مو¿ثر طریقے سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر بھی کڑی نظر رکھی جاسکے۔افتخار احمد وہرہ نے کہاکہ ٹرانسپورٹ ملکی معیشت کی لائف لائن ہے اور حب الوطنی کا یہ تقاضا ہے کہ اسلام آبادمیںموجود فیصلہ ساز اس بات کااحسا س کریں ۔

اوراس امر کو یقینی بنائیںکہ کسی بھی موڑ پریہ مرحلہ رکاوٹ کاشکار نہ بنے۔انہوںنے کہاکہ حکام کوپہلے سے پریشان حال تاجروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے سے گریزکرنا چاہیے جو سازگارکاروباری ماحول نہ ہونے کی وجہ سے اپنا کاروبار ڈوبنے سے بچانے کے لیے سخت جہدوجہدکر رہے ہیں لہٰذاقانون کی حد میں رہتے ہوئے تاجربرادری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے اُنہیںآگے آنا چاہیے۔

مزید : کامرس


loading...