توانائی بحران کپڑے کی صنعت کو شدید متاثر کررہاہے‘پاک چائینہ جوائینٹ چیمبر

توانائی بحران کپڑے کی صنعت کو شدید متاثر کررہاہے‘پاک چائینہ جوائینٹ چیمبر

لاہور(کامرس رپورٹر)پاک چائینہ جوائینٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہُ پاکستان میں بجلی اور گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتی شعبہ جی ایس پی پلس( GSP Plus) کی سہوت سے استفادہ نہیں کر پا رہا۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی سہولت کی بنیاد پر ٹیکسٹائل برآمدات کو14بلین ڈالر تک لیجانے کا ہدف مقرر کیاگیا تھا جو کہ بجلی اور گیس کی قلت کی وجہ سے پورا نہیں ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی عدم موجودگی کپڑے کی صنعت کو شدید متاثر کرہی ہے۔اُنہوں نے کہاکہ جی ایس پی پلس کی سہولت کے حصول کے بعدملکی برآمدات کا کل حجم 7 فیصد تک کے متوقع اضافے کے برعکس محض3%تک محدود رہاہے جبکہ ٹیکسٹائل کی صنعت جس پر اس ضمن میں زیادہ انحصار کیا جا رہا تھا اسکی پیداواری صلاحیت میں 1% فیصد کا بھی اضافہ دیکھنے میں نہ آیا ۔

فیصل آفریدی نے کہا کہ جب تک ملک میں بجلی اور گیس کے بحران پر قابو نہیں پایاجاتا، جی ایس پی پلس جیسی سہولتیں ملک کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی 70%کپڑے کی صنعت پنجاب میں واقع ہے جس سے کہ بلواسطہ یا بلاواسطہ 10 ملین افراد وابسطہ ہیں ۔فیصل آفریدی نے حکومت پر زور دیا کہ صورتحال کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوے جلدازجلد صنعتوں کو اور بالخصوص کپڑے کی صنعت کو بلاتعطل بجلی اور گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے تاکہ برآمدات کی موجودہ شرح کو قائم رکھا جا سکے اور اس شعبے سے منسلک 10 ملین افرادکو بے روزگار ہونے سے بچ سکیں۔فیصل آفریدی نے بتایا کہ یورپین ممالک کی جانب سے جی ایس پی پلس کا حصول کوئی معمولی بات نہیں۔ بلکہ اس سے ثابت ہوتاہے کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی اشیاء کو معیاری اور قابل بھروصہ تصور کیاجاتا ہے ۔

مزید : کامرس


loading...