خواتین

خواتین

ثقافت ، کلچر اور روایت کسی بھی قوم ملک اور قبیلے کی پہچان ہوتی ہے، آج جب ہم دنیا کی مختلف قوموں پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ثقافت کے پھول، بہار دکھاتے نظر آتے ہیں، قازقستان، تبت اور کافرستان خاص طور پر قابل ذکر ہیں جو صدیوں سے اپنا ثقافتی اثاثہ سنبھالے ہوئے ہیں، جس طرح موسموں کے کئی رنگ ہوتے ہیں اسی طرح ثقافت کے بھی کئی رنگ ہوتے ہیں، ہمارے ہاں سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب کی ثقافت بھی صدیوں پر محیط ہے اور اپنے اندر کئی زمانے بسائے ہوئے ہیں، وقت جیسا بھی ہو لیکن ثقافت کے رنگ پھیکے نہیں پڑتے بلکہ ان کی دلکشی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

شادی بیاہ کی رسمیں اپنے کلچر کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں، شادی بیاہ کا سیزن آتے ہی سرخ ملبوسات کی مانگ بڑھ جاتی ہے جس طرح لہو کا رنگ سرخ ہے اسی طرح شادی کی تقریب بھی سرخ پہناوﺅں، سرخ پھولوں اور سرخ لپ سٹک سے مہک اٹھتی ہے، جدھر دیکھو سرخ رنگ بہار دکھا رہا ہوتا ہے، زندگی کے ہزار رنگ ہیں، جدھر دیکھو زندگی کی گہما گہمی ہے، بھاگ دوڑ اور ایک تحریک نظر آتی ہے مگر شادی کی تقریب میں یوں لگتا ہے جیسے شہر بھر کے سارے ہنگامے تھم گئے ہوں، وقت آہستہ قدموں سے چلنے لگتا ہے، دل کی دھڑکنوں میں اعتدال آ جاتا ہے، آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر ہنسی ہوتی ہے جب دلہن کو سرخ جوڑے میں دیکھتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جسے وقت رک گیا ہو، جی چاہتا ہے یہ منظر ہمیشہ دیکھتے رہیں۔ اس موقع پر گھر کی سینئر خواتین کا کردار بھی دیدنی ہوتا ہے وہ دلہن کی بلائیں لیتی ہیں، اس پر صدقے واری جاتی ہیں اور پھر مہمانوں کی تواضح کا بھی خاص خیال رکھتی ہیں، نوجوان لڑکیاں تو اس محفل کی جان ہوتی ہیں، تیز تیز قدموں سے کبھی ادھر اور کبھی ادھر سرخ تتلیوں کی طرح اڑتی نظر آتی ہیں۔شادی کی تقریب زندگی کی خوبصورت اور خوشیوں بھری تقریبات میں سے ایک ہے، اتنی پرکشش اور رنگا رنگ کہ آنکھوں میں رنگ ہی رنگ بھر جاتے ہیں۔

شادیوں کا سیزن ہر طرف چہل پہل بڑھا دیتا ہے، سرخ جوڑوں کی پرچیز سے یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف سرخ رنگ کا راج ہونے والا ہے، سرخ پھول، سرخ پہناوے، سرخ لپ سٹک اور سرخیوں بھری سجاوٹ سے دل باغ باغ ہو جاتا ہے، سرخ رنگوں کے استعمال کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ زیورات میں سرخ موتیوں کا جڑاﺅ کیا جاتا ہے تاکہ سرخ لباس کے ساتھ اس کی میچنگ میں کوئی فرق نہ آئے، شادی کی تقریب ایک طرح سے سرخ ملبوسات کی نمائش بن جاتی ہے، جسے دیکھو وہ اپنے لباس میں سرخ ٹچ ضرور دیئے ہوتا ہے۔ خواتین کو ایسا موقع خدا دے ، اس موقع سے خواتین خوب فائدہ اٹھاتی ہیں اور دل کھول کر خریداری بھی کرتی ہیں اور بڑی خوشی کے ساتھ بناﺅ سنگھار بھی کرتی ہیں۔بالی عمر کی لڑکیوں کے لئے تو شادی کی تقریب عید کے چاند کی طرح ہوتی ہے، یہ تو پھولے نہیں سماتیں، خوشیوں بھری تقریب کو اپنے قہقہوں اور گیتوں سے چار چاند لگا دیتی ہیں، پاﺅں میں پازیبیں اور کلائیوں میں سرخ چوڑیاں خوب بہار دکھاتی ہیں، اس پر طرح طرح کے مزے دار لذیذ کھانے شادی کی تقریب کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو زندگی کے موسموں کی طرح ہر موسم کا اپنا رنگ ہوتا ہے، پت جھڑ میں درختوں کے پتے زرد ہو جاتے ہیں اور بہار میں سبز، اسی طرح زندگی کے رنگوں میں ایک رنگ شادی کی خوشیوں کا رنگ بھی ہے، جس میں ہمیں سرخ پھولوں کی طرح خوشی سے تمتماتے ہوئے سرخ چہرے بھی نظر آتے ہیں، سرخ لباس، سرخ چوڑیاں، کیوں نا ہر طرف سرخ رنگوں کی بہار نظر آئے کہ یہی رنگ تو خوشیوں کا رنگ ہے، شادی کا رنگ ہے اور ہماری ثقافت کا رنگ ہے، ہماری دھرتی اور ہمارے موسموں کا رنگ ہے، یہی ہماری ثقافت ہے وہی ثقافت جو صدیوں سے ہماری پہچان ہے اور ہماری جان بھی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...