سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان سے مکالمہ

سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان سے مکالمہ
سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان سے مکالمہ

  


جمہوریت کی پہچان پارلیمان ہے۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت کے مضبوط نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری اسمبلیاں مضبوط نہیں ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ملک میں موجود اسمبلیاں کسی بھی طرح عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے جمہوریت کے مخالفین کو جمہوریت اور پارلیمانی نظام پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ سیاستدان انتخابات پر کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلیوں کی رکنیت حاصل کر تے ہیں۔ لیکن انتخاب جیتنے اور اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد یہی ارکان اسمبلیوں کی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے۔ وزراء اسمبلی کی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے۔ قائد ایوان اسمبلی کی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے۔ اسمبلیوں کی کارروائی میں کورم پورا نہیں ہو تا۔ اسمبلیاں عوام کی امنگوں کی ترجمان نہیں ہیں۔ اسمبلیوں کے حوالہ سے اس تمام تاثر پر پاکستان کی سب سے بڑی اسمبلی پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال خان کے ساتھ ایک طویل نشست ہوئی۔ جس میں ان تمام امور پر پر گفتگو ہوئی۔

سندھ اسمبلی کے سپیکر نے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفیٰ قبول کر لئے ہیں۔ شائد سینٹ انتخابات کی صف بندی شروع ہوگئی ہے۔ اسی لئے رانا محمد اقبال خان سے سب سے پہلے تحریک انصاف کے استعفوں پر بات کی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ تحریک انصاف کے ارکان مستعفیٰ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ان کے معزز ارکان ہیں۔ ان کو تمام مراعات حاصل ہیں۔ ان سے کوئی مراعات واپس نہیں لی گئیں۔ میاں محمود الرشید کا قائد حزب اختلاف کا نوٹیفکیشن منسوخ نہیں کیا گیا۔ جب تک استعفوں کی تصدیق نہ ہو جائے وہ معزز رکن ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ رانا اقبال خان کی پالیسی وہی ہے جو قومی اسمبلی کے سپیکر کی ہے۔ کچھ فرق نہیں ۔ اس لئے موضوع بدلنے کی ضرورت ہے۔ وزراء کی غیر حاضری پر ہم نے سپیکر صاحب کو کافی آڑے ہاتھوں لیا۔ کہ وزراء حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اگر وہ موجود نہیں تو حکومت غائب۔ اس حوالہ سے سپیکر صاحب نے دو توجیہات پیش کیں۔ ایک تو ان کا موقف تھاکہ وزراء کی غیر حاضری سے اسمبلی کی کارروائی میں کسی بھی قسم کا تعطل پیدا نہیں ہوتا۔ محکموں کے پارلیمانی سیکرٹری اسی لئے نامزد کئے جاتے ہیں تا کہ وہ وزراء کی غیر موجودگی میں اسمبلی کارروائی میں اپنے اپنے محکموں کے سوالات کا جواب دے سکیں۔ ان محکموں کے حوالہ سے حکومت کی نمائندگی کریں۔رانا محمد اقبال خان کے مطابق اگر محکمہ کا پارلیمانی سیکرٹری موجود ہے تو وزیر کی غیر حاضری اسمبلی کارروائی میں تعطل کا باعث نہیں۔ میں نے کہا کہ وزراء تو ایک طرف۔ قائد ایوان میاں شہباز شریف بھی اسمبلی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے ۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اگر قائد ایوان اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینا شروع کر دیں تو اسمبلی مزید فعال ہو جائے۔ سپیکر صاحب مسکرائے۔ کہنے لگے میں اسمبلی قواعد سے باہر نہیں جا سکتا۔ جب وزیر اعلیٰ اسمبلی کارروائی کے لئے کسی وزیر کو نامزد کر دیتے ہیں کہ وہ ان کی طرف سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دے ۔ اور دوسری کارروائی میں ان کی نمائندگی کرے تو اسمبلی کارروائی میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہو تا۔ میں نے پھر کہا کہ آپ قواعد کو ایک طرف رکھیں۔ کام تو چل ہی رہاہے ۔ لیکن کیا اسمبلی سے وزیر اعلیٰ اور وزراء کی غیر حاضری سے فرق نہیں پڑتا۔ تو سپیکر پنجاب اسمبلی نے کافی آہستہ اور نرم لہجہ میں کہا کہ میں کسی کو زبردستی اسمبلی میں نہیں لا سکتا۔ میرے پاس اسمبلی قواعد کے تحت ایسی کوئی طاقت نہیں ہے کہ میں کسی بھی رکن کو اس بات پر مجبو کر سکوں کہ وہ اسمبلی اجلاس میں ضرور شرکت کرے۔ یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

رانا محمد اقبال خان پنجاب اسمبلی کی قانون سازی کی رفتار سے کافی مطمئن نظر آئے۔ ان کے خیال میں قانون سازی کی رفتار باقی اسمبلیوں سے بہتر ہے۔ بلدیاتی قوانین پر جب بات کرنا چاہی تو کہنے لگے اسمبلی کی کارروائی میں میری کوئی رائے نہیں۔ نہ ہی میں کوئی رائے دونگا۔ میری حیثیت ایک جج کی ہے۔ وہ بھی ایسا جج جس نے کوئی فیصلہ نہیں دینا بلکہ عددی اکثریت کی بنیاد پر قانون سازی اور ترامیم کا فیصلہ کرنا ہے۔ خواتین ارکان کی کارکردگی پر سوالات کا جواب بھی یہی تھا کہ وہ بطور سپیکر خواتین یا مرد ارکان میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ان کے لئے سب معزز ارکان ہیں۔ البتہ وہ اس بات پر متفق نظر آئے ۔ کہ ارکان اسمبلی کی ٹریننگ کے لئے ایک مربوط نظام ہو نا چاہئے تا کہ ارکان اسمبلی کو اسمبلی کی کارروائی میں فعال طریقہ سے حصہ لینے کے لئے تیار کیا جائے۔ وہ اس بات پر بھی متفق نظر آئے کہ ارکان کی ٹریننگ سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔

سپیکر پنجاب اسمبلی بے شک اسمبلی کارروائی سے مطمئن ہیں۔ لیکن ان سے زیادہ عوام کا مطمئن ہونا ضروری ہے۔ پنجاب میں پٹرول کے اس بحران میں بھی پنجاب اسمبلی کی خاموشی کوئی جمہوریت کے لئے خوش آئند نہیں ۔ یہ درست ہے کہ اس پارلیمانی سال کے 51دن مکمل ہو چکے ہیں۔ لیکن اگر اس موقعہ پر اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جاتا تو جمہوریت مضبوط ہو تی۔ ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے اسمبلیوں کو مضبوط کرنا ہو گا۔

مزید : کالم


loading...