سیاست پرانی، ایشو نیا

سیاست پرانی، ایشو نیا
سیاست پرانی، ایشو نیا

  


مسئلہ تو پھر وہی ہے کہ مسئلے کا حل کیسے تلاش کیا جائے؟ اور ’’حل‘‘ ہے بھی تو کس چیز میں مضمر ہے؟ نہ اس کے لئے کسی فلاسفی کی ضرورت ہے، نہ ہی دلیل کی۔ جب معاملہ، مسئلہ بن جائے تو اس کا حل ٹھندے دماغ سے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی چیز غیر حتمی نہیں۔ صرفِ صدق دل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دل شاید محمد نواز شریف اور عمران خان دونوں ہی کے پاس نہیں۔ معاملہ فریقین کے درمیان ’’جوڈیشل کمیشن‘‘ پر آ کر ’’اٹک‘‘ گیا ہے اور ایسا اٹکا ہے کہ بات آگے نہیں بڑھ رہی۔ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ 2013ء کے الیکشن کی ’’مبینہ دھاندلی‘‘ کے خلاف سپریم کورٹ کا جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ اگرچہ وفاقی حکومت اس حوالے سے تحریک انصاف کا دھرنا شروع ہونے سے پہلے ہی، یعنی 13اگست 2014ء کو ایک خط سپریم کورٹ کو لکھ چکی ہے، لیکن تاحال اور پتہ نہیں کن وجوہات کے تحت یہ جوڈیشل کمیشن ابھی تک نہیں بن سکا اور اُس کی تشکیل نہیں ہو سکی۔ رکاوٹ آئینی ہے یا کچھ اور وجوہات ہیں، اس پر سپریم کورٹ یا وفاقی حکومت ہی کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں، لیکن مروجہ آئین و قانون کی روشنی میں ایک بات ضرور سمجھ میں آ رہی ہے کہ آئینی طور پر صرف الیکشن ٹربیونل ہی اس قسم کے کیسز کی سماعت کا اختیار رکھتا ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ کے پاس لامحدود اختیارات ہیں، لیکن معاملہ انتخابی دھاندلی جیسے الزامات پر مبنی ہو تو آئین نے راستہ متعین کر دیا ہے کہ اس کے لئے صرف الیکشن ٹربیونل میں ہی جایا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کو صرف اس صورت میں سماعت کا اختیار حاصل ہے کہ اگر کسی فریق کو ٹربیونل کے فیصلے سے اختلاف ہو اور اُس کی قانونی وجوہات بھی موجود ہوں تو وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں ’’اپیل‘‘ کی صورت میں چیلنج کر سکتا ہے اور ’’ڈیڈ لاک‘‘ بھی یہی ہے کہ عمران خاں جس مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت اور اس کا فیصلہ چاہتے ہیں، سپریم کورٹ کو لامحدود اختیارات کے باوجود اس کی سماعت کا قطعی اختیار حاصل نہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عمران خان اس مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں جاتے، لیکن وہ اب تک سپریم کورٹ کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ اگرچہ اُن کے پاس حامد خاں اور احمد اویس جیسے زبردست لائرز موجود ہیں، لیکن غالباً اب تک اُن سے استفادہ نہیں کیا گیا اور نہ اس کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ اگر اُن سے مشاورت کر لی جاتی تو عمران خان کا راستہ آسان ہو جاتا۔ وہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف جس یقین سے چلے ہیں وہ اپنی جگہ بجا، ہم اُس کا احترام بھی کرتے ہیں، لیکن ہر آئینی ادارے کی اپنی حدود و قیود ہیں۔ وہ اپنے دائرہ اختیار یا دائرہ کار کے مطابق عمل کرتے ہیں اور آئین سے تجاوز کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ماورائے آئین کوئی قدم اٹھائیں گے، لیکن یہاں یہ بھی تعجب ہوتا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی جوڈیشل کمیشن کے لئے حکومت نے سپریم کورٹ کو کیسے خط لکھ دیا۔

معاملہ ابھی تک زیر التوا ہے اور شاید رہے بھی، کیونکہ سپریم کورٹ تو ماورائے آئین کوئی قدم اٹھانے سے رہا اور اسی لئے معاملہ پیچیدہ بن کر انتہائی سنگینی کی طرف جا رہا ہے۔ تحریک انصاف اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں یا کمیٹیو ں کے درمیان اب تک کئی اجلاس ہو چکے ہیں، جس میں دیگر امور کے علاوہ جوڈیشل کمیشن کے قیام پر بھی بات چیت ہوئی ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکے، جو ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے وہ سیاسی ڈیڈ لاک کا بھی باعث بن رہا ہے اور مستقبل قریب میں صورت حال کافی سنگین ہو سکتی ہے۔ ملک پہلے ہی ضرب عضب سمیت کئی طرح کے مسائل میں گِھرا ہوا ہے۔ ملک متحمل ہی نہیں ہو سکتا کہ اس میں کوئی غیر یقینی صورت حال پیدا ہو۔ ایسا ہوتا ہے تو اس کا فائدہ دہشت گرد اور دیگر انتہا پسند اٹھا سکتے ہیں۔ اس لئے ہر فریق کے لئے چاہے وہ حکومت میں ہو یا حکومت سے باہر، بڑی سنجیدگی اور تدبر کی ضرورت ہے۔ جتنی سیاسی بالغ نظری کی اب ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔ ہم میچور نہ ہوئے اور معاملات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو سب کا نقصان ہو گا۔ ملک کا تو بہت ہی زیادہ نقصان ہو گا اتنا کہ شاید اس کا ہم سوچ بھی نہ سکیں۔

سب سیاسی جماعتوں کی غیرت اور حمیت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے کو ضد اور انّا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ اس سے مسئلے حل نہیں ہوتے، بگاڑ ہی پیدا ہوتا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان سمیت تمام سیاسی زعماء محب وطن ہیں۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ملک میں انتشار کی کیفیت پید اہو اور اُن کی ضد، انا یا مصلحتوں کی بھینٹ پوری قوم چڑھ جائے ۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ایسا راستہ اختیار کریں جو آئینی بھی ہو اور معاملات کو سلجھانے میں بھی مدد کرے۔

بہت وقت گزر چکا ۔ مزید بھی گزرے گا۔ اس لئے دیر نہ کی جائے جوڈیشل کمیشن کے لئے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے تووہ کر لی جائے۔ حکومت کو اکثریت حاصل ہے یقیناًدوسری جماعتیں بھی جو اسمبلی میں موجود ہیں اس ایشو پر حکومت کا ساتھ دیں گی۔ اس طرح معاملہ حل ہو سکتا ہے اور معاملے کو حل کرنے کی طرف ہی توجہ دی جانی چاہئے، کیونکہ یہ اتنا آسان نہیں جتنا حکومت نے سمجھ لیا ہے۔ تحریک انصاف کے پاس بہت زیادہ سٹریٹ پاور موجود ہے۔ وہ دوبارہ سڑکوں پر آئے اور دھرنا سیاست شروع کی تو بہت زیادہ نقصان ہو گا جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔

مزید : کالم


loading...