رقصِ ابلیس

رقصِ ابلیس

وہ ایک منظرہی تو تھا،جس کو دیکھتے سارے گزر گئے، مگر میں وہیں رہ گیا،کئی راتوں کے لیے،افلاس ایک ایسا مرض ہے چمٹ جائے تو چھوڑتا ہی نہیں،گورکی دیواروں تک پیچھا کرتا ہے،افلاس انسان کوکفرتک لے جاتا ہے،سسکتی زندگی کے نوحے کیا ہوتے ہیں کسی مفلس کے آنگن میں جاکے دیکھ، ہر دن جی کے مرنا ہو تو غربت کے دلدل میں اتر کے دیکھ، وہ ایک منظرہی تھا جس نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، روح بیقرار ہے،کیا ہم واقعی ہی اسی دین کے ماننے والے ہیں مساوات جس کی تعلیمات کا جزوِ لازم ہے،تو پھر یہ تفریق کیوں؟کئی امراء سے سنا کہ تفریق ہم نے نہیں خدا نے پیدا کی ہے ،جھوٹے مکار ہیں ،تفریق تم نے پیدا کی ،اس نے تو مساوات کا درس دیا وہ منظراس شہر کی ایک ایسی بستی کا تھا ،جس کے باسی ہزاروں روپے کافی پینے پر لٹادیتے ہیں ،پیرانہ سالی میں اجلے سفید لباس میں وہ بزرگ کوڑے کے اک ڈھیر سے اپنا ’’رزق تلاش ،،کررہا تھا ،کئی راتیں بیت گئیں وہ منظرسونے نہیں دیتا ،بے حسی سی بے حسی اور حاکم وقت ہیں کہ انہیں اپنے دھندوں سے فرصت نہیں ،کل تک جسے خدمت کہتے تھے اب وہ کاروبار ٹہرا کہ چہرے بے نقاب ہوچکے ،دلکش نقابوں کے پیچھے چھپے مکروہ اور بدصورت چہرے،لاکھوں نہیں کروڑوں بے کسی اور لاچاری کی زندگی بسرکرنے پر مجبورہیں ،کوئی بندوق پکڑکر بدلہ لینے پر اتر آتا ہے تو کوئی اپنے ہی ہاتھوں اپنے جگرگوشوں کو زہر دے کر موت کو گلے لگا لیتا ہے۔

میرے دیس کے شاہی مفتیان کرام کوئی ایسا فتویٰ دے دو کہ خودسوزی حلال ہو جائے کہ اب زندگی کا بوجھ سہا نہیں جاتا ان لاچاروں سے،اے منصفو تم ہی کوئی حکم جاری کرو،اے اہل دانش کوئی تدبیرکرو،اے خانقاہوں میں بیٹھے چارہ گروتم ہی کوئی چارہ کرو ،کوئی تو آوازاٹھاؤ کہ مردوں کے دیس میں کوئی زندہ بچا بھی ہے کہ نہیں ،میرے شہرمیں اب نوحہ گر بھی نہ رہے کہ احساس دلاتے،اب کوئی ساغر، کوئی جالب کوئی منیربھی تو نہیں رہا،اسے مفلسی کے دردکا احساس ہوہی نہیں سکتا جو آگ کے دریا سے گزرا نہ ہو جس کی روح تک نہ جھلسی ہو ،بڑے ہوٹلوں میں بیٹھ کر غربت کی بات کرتے ہیں منافق اور پھر کروڑوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر اربوں کے بنگلوں میں چلے جاتے ہیں ،مفلسی کا شکار بچوں کے حق کی بات کرنے والوں کے کتوں کی خوراک تک درآمدہوتی ہے ،بچوں کی مشقت پر چیخ وپکار کرنے والی بیگمات کے گھروں میں غلاموں سے بدترزندگی گزارتے ہیں نوعمرملازم بچے،دکھاوے کے لیے مسجدیں بنوانے ،سا ل کے سال عمرے اور حج کرنے والے سیٹھ اپنے ورکروں کو ان کا حق دینے میں جس بے ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ شرمناک ہے۔

لاکھوں روپے روز کما کر دینے والے ورکرکو مہینے میں دس ہزاردیکر بھی احسان کیا جاتا ہے،ان کو لوگوں کا ڈرنہ ہو تو یہ خود کو ’’خدا‘‘تک بنا لیں، مگر بے بس ہیں ،فرعون خدائی کا دعویدار ہوا تو ابلیس پہنچ گیا کہ خدا بننے کے لیے نبی کا ہونا بھی لازم ہے تو فرعون کو پریشانی لاحق ہوئی ابلیس بولا پریشان کیوں ہوتے ہو تم خدا ہوئے تو میں تیرا نبی ،باغ میں سیرکرتے ابلیس نے ایک انار توڑکر فرعون کو پیش کیا اور کہا کہ واپس درخت پر لگا دو تو فرعون لگا برا بھلا کہنے ابلیس کو کہ کیسے ممکن ہے انار کو درخت پر واپس لگادیا جائے، ابلیس نے ہاتھ بڑھایا اور انار کو اس کی جگہ واپس لگا دیا اور بولا اتنی طاقت رکھنے کے باجود آج تک خدائی کا دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی ،آج کا ’’سیٹھ،، تو ابلیس سے بھی بدترہے کہ اسے حیاء ہے رب سے، مگر اسے تو حیا بھی نہیں ،موسیٰ علیہ السلام کو طور پر حکم ہوا کہ جا جو راندۂ درگاہ ہوا اس سے مل جب موسیٰ علیہ السلام پہنچے تو لگا چہرہ پیٹنے کہ میں ملعون اور مقبول آپ کا یہاں کیا کام تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا زیادہ مکر و فریب نہ کر جس نے تجھے راندۂ درگاہ کیا اسی کے حکم پہ آیا ہوں حکم سرکاری ہے تو ابلیس نے آنے کا مقصد معلوم کیا موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے فرشتوں کو تعلیم کیا معلم رہے ملائکہ کے ،علم وفضل میں بلند مرتبہ رہے سو تعلیم لینے آیا ہوں۔

ابلیس پلٹا اور گویا ہوا موسیٰ ’’ مَیں‘‘ نہ کہنا کہیں تمہاری ’’مَیں‘‘تمہیں میری طرح نہ کردے اب جاؤ یہی تمہاری تعلیم ہے ،یہاں ہرکوئی مَیں مَیں کرتا پھرتا ہے ،اکڑتا ایسے ہے کہ زمین کو ہی پھاڑڈالے گا ،غرور،تکبر کا یہ عالم کہ کسی مفلس کو انسان سمجھنے کو تیار نہیں، مگر بھول میں ہے کہ جب فناء کے بے رحم ہاتھ دبوچتے ہیں تو پرتکبر سرخاک میں ملادیئے جاتے ہیں کوئی نام لینے والا نہیں بچتا جب حی القیوم کی ذات جلال میں آتی ہے تو ریت کے ذروں کی طرح سب کو اڑا لے جاتی ہے کس کی مجال ہے، جو اس کے معاملے میں پربھی مارسکے،وہ ازل سے ہے وہ ابدتک ہے،میرے مفلس رفیق افلاس سے نہ گھبرا اور آزمائش کو مصیبت کہہ کرخود کو مشکل میں نہ ڈال کہ آزمائش ہمیشہ اپنوں کی کی جاتی ہے اس جہان فانی کے افلاس کو خاطرمیں نہ لا ابدی حیات کے اس سرور کے تصورسے مسرورہو جس کو فنا نہیں ،ان کا انجام آیا ہی چاہتا ہے جو خطاوار ہیں، جنہوں نے مخلوق کو غلام بنایا کہ عمرفاروقؓ جن کے نام سے قیصرو کسریٰ کی سلطنتیں کانپتی تھی نے ارشاد فرمایا:’’تم نے ان کو کب سے غلام بنالیا جب کہ ان ماؤں نے انہیں آزادجنا، نوح انسانی نوحہ گر ہے ،خدا کی اس زمین پر رقص ابلیس جاری ہے پوری دنیا کی صرف ساڑھے پانچ فیصددولت دنیا کے 90فیصد کے قریب انسان نما مخلوق کے پاس ہے، جبکہ ایک فیصد اقلیت پوری نسل انسان کو معاشی طور پر غلام بنائے ہوئے ہے یہ اعداد و شمار میرے نہیں، بلکہ مغربی اداروں کے ہیں۔

آکسفیم نامی ادارے نے خبردار کیا کہ آنے والے سال میں دنیا کی 99 فیصد دولت ایک فیصد اقلیت کے پاس چلی جائے گی ادارے کی تحقیق کے مطابق 2009ء سے ان امراء کی دولت میں فی کس اوسط اضافہ 27لاکھ ڈالر سالانہ ہے، دنیا کے معاشی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ یہ تمام انسانیت کے مفادات کے لیے کام کر سکے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا کو ایک بڑی خونریزی کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ جب غربت اور افلاس کا شکار یہ فاقہ کش اس شخص کو بھی گردن زنی ٹھہرائیں گے، جس کا لباس صاف ہوگا،کیا تمہیں یاد نہیں فرانس کے فاقہ مست کہ گردن مارنے سے پہلے ہاتھ دیکھے جاتے تھے اور نرم ہاتھ ہی ثبوت کے لیے کافی تھا،برسوں سے جگانے کی کوشش کر رہے ہیں سمجھانے کی بے سود کوششیں کہ یہ ایک فیصد اقلیت ایک خاندان کی مانند ہے جس کا کوئی دین، مذہب، رنگ،نسل ،زبان یا وطن نہیں یہ ایک خاندان ہے ابلیس کے ان چیلوں کا دین پیسہ، ایمان پیسہ ہے، بے پناہ دولت غربت سے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے، دنیا کی آبادی کے محض ایک فیصد نے گزشتہ بیس سال کے دوران اپنی آمدن میں60 فیصد تک اضافہ کیا، دنیا کے سو امیر ترین افراد گزشتہ سال 240ارب ڈالر کی خالص آمدن سے لطف اندوز ہوئے جبکہ دنیا میں انتہائی غریب افراد نے ایک اعشاریہ دو پانچ ڈالر روزانہ میں گزر بسر کیا’ اب ہم زیادہ دیر تک یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ چند ایک کے لیے دولت پیدا کرنے سے لامحالہ بہت ساروں کو فائدہ پہنچتا ہے ، بہت زیادہ اس کا الٹ ہونا سچ ہے،سرفہرست ایک فیصد کے ہاتھ میں وسائل جمع ہونے سے معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور ہر کسی کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے اور اس میں معاشی سیڑھی کے آخری پائیدان پر کھڑے افراد سب سے زیادہ مشکل سے دوچار ہوتے ہیں، کئی دہائیوں سے بڑھتی ہوئی غیر مساوی تقسیم کو واپس کرنے کے لیے ایک عالمی سمجھوتہ کیا جانا لازم ہوگیا ہے اگر ہم بڑی تباہی سے بچنا چاہتے ہیں تو، دنیا میں ٹیکس کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے۔اب بھی وقت ہے،نظام میں اصلاحات کی جائیں تاکہ یہ صرف عالمی اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے مفادات کے لیے کام کرے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یاد رکھنا چاہیے کہ بارود کے فلیتے کو آگ لگ چکی ہے۔

انسانیت دشمن سرمایہدارانہ نظام کے حاشیہ برداروں کی سازشوں کے برعکس اب انسان نفرتیں ختم کر کے ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں، جنگیں، مذہب وملت کے نام پر نفرتیں اور تقسیم یہ اسی ایک فیصد اقلیت کی کارستانیاں ہیں کہ نوح انسانی ان میں الجھی رہے اور ہم اِسی طرح لوٹتے رہیں،عالمی لٹیروں کے نعرے الگ الگ ہو سکتے ہیں، مگر مقصد ایک ہے ،پوری دنیا میں کٹھ پتلی حکمران لائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان معاشی درندوں کے مفادات کا تحفظ کریں اور اب یہ بے رحمی چھوٹے سرمایہ کاروں اور ’’سیٹھ مافیا،،میں بھی سرایت کرچکی ،مگر ایک نظام اس خالق کائنات کا بھی ہے جو کہ اک لمحے میں عرش کو فرش تک لانے کی قدرت رکھتا ہے ،یاد رکھو کہ کوڑا برسنے کے قریب ہے ،جلد وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے جب تمہاری گردن بھی شاہ لوئیس کی طرح کسی کلہاڑے کے نیچے ہوگی اور پھرتمہارا سر ان فاقہ مستوں کے قدموں میں ہوگا،تمہاری ساری تدبیریں تم پر ہی الٹا دی جائیں گی، پھر تم موت کی بھیک مانگو گے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

وہ یوم حساب آیا ہی چاہتا ہے جب تمہاری نسلوں میں سے بھی کسی کو بخشا نہیں جائے گا کہ سانپ کے بچے بھی سانپ کی ہی فطرت رکھتے ہیں اور رقص ابلیس اب ختم ہونے کو ہے،دنیا کے فاقہ کشوں کی آنکھوں میں انتقام کے انگار دیکھے ہیں مگر تم انہیں دیکھ سکتے ہو نہ محسوس کرسکتے ہو ،دنیا کے معاشی عفریت اپنی دولت کو بچانے کے لیے پوری نوع انسانی کو تیسری عالمی جنگ کی جانب سے دکھیل رہے ہیں ،میدان کارزارتو دہائیوں پہلے سجا لیا گیا اب تابوت میں آخری کیل لگنے جارہا ہے ۔

مزید : کالم


loading...