بھارتی حکمرانوں کی مسلم کش پالیسیاں

بھارتی حکمرانوں کی مسلم کش پالیسیاں
بھارتی حکمرانوں کی مسلم کش پالیسیاں

  


بھارت میں جب سے انتہاء پسند بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، وہاں مسلمان اور دوسری اقلیتوں کا عرصہ حیات تنگ کرتے ہوئے سیکولر ہونے کے دعویدار بھارتی معاشرے کو مکمل طور پر ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں جبکہ بھارتی حکمران سیاست دان فخریہ اعلانات کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے اور یہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تو خود مسلم دشمنی کی علامت ہیں جو بھارتی ریاست گجرات میں اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران مسلم کش فسادات میں خود بھی شریک ہوئے جس پر ان کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے۔ بی جے پی کی جانب سے گزشتہ بھارتی انتخابات میں مودی کو وزیراعظم کے لئے نامزد کئے جانے سے انکے سابقہ کردار کی بنیاد پر ہی بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمان اقلیتوں میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوگئی تھی اور یہ باتیں زبانِ زدعام تھیں کہ مودی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں بھارت کا سیکولر چہرہ بگڑ جائے گا۔ بی جے پی نے تو انتخابی مہم کے دوران اپنا منشور ہی پاکستان اور مسلمان دشمنی کی بنیاد پر تیار کیا، جس پر انتخابی مہم کے دوران ہی عملی جامہ بھی پہنایا جانے لگا۔ سمجھوتہ ایکسپریس اور دوستی بس پر حملے کئے گئے، بھارت جانے والے پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں کا گھیراؤ کرکے ان کا ناطقہ بند کیا گیا اور پاکستان کے ہائی کمیشن آفس پر بھی چڑھائی کی گئی، جو اس امر کا واضح پیغام تھا کہ بی جے پی کے اقتدار کے دوران پاکستان بھارت سے کسی خیر کی توقع نہ رکھے۔ بھارتی مسلمان اقلیتیں بھی اسی تناظر میں خوف کا شکار ہوئیں، جبکہ مسلمانوں کے خلاف بی جے پی کے انتہاء پسندانہ رویئے نے مقبوضہ کشمیر میں ہندو تسلط سے آزادی کی لہر کو بھی تیز کر دیا اور کشمیری لیڈران نے ہر عالمی فورم سے رجوع کر کے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے سیکولر بھارت کا اصل چہرہ دکھانا شروع کردیا۔

جب مودی اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنے پارٹی منشور اور طے کردہ حکمت عملی کے عین مطابق پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی بڑھانے کے اقدامات شروع کر دیئے۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر پاکستان کی چیک پوسٹوں اور نواحی آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، جس میں پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ نواحی آبادیوں کے ہزاروں لوگ اپنے گھر بار اور مال مویشی چھوڑ کر نقل مکانی کرچکے ہیں۔ چند ہفتے قبل تو تمام سفارتی ادب آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے فلیگ میٹنگ کے لئے بلائے گئے دو پاکستانی اہلکاروں کو بے دردی سے فائرنگ کرکے شہید کر دیا اور پوری ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعہ کا الزام بھی پاکستان پر عائد کر دیا۔

’’آہنسا‘‘ کے پرچارک مودی نے پاکستان کے ساتھ ہی چھیڑچھاڑ کا سلسلہ شروع نہیں کیا، بلکہ حکومتی سرپرستی میں بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے کی پالیسی پر بھی عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔ گزشتہ ماہ دو سو مسلمان گھرانوں اور ایک سو عیسائی گھرانوں کو جبراً ہندو بنانے کی خبریں عالمی میڈیا پر آئیں تو اس پر حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کی جانب سے بھی سخت احتجاج کیا گیا اور اقلیتوں کو جبراً ہندو بنانے کی اس پالیسی کی اقوام متحدہ میں بھی صدائے بازگشت سنی گئی جبکہ بھارت کی جانب سے اس پالیسی کے جواز میں یہ بودی دلیل دی گئی کہ ہندو بنائی جانے والی اقلیتوں کے لوگ پہلے ہندو ہی تھے اس لئے وہ اپنے دھرم کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آئندہ لوک سبھا اجلاس میں شدھی کے معاملہ میں نئی قانون سازی پر زور دیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس میں عیسائی اور مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے کے لئے وشوا ہندو پریشد نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اس پر کابینہ کے اجلاس میں سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ پروفیسر راج ناتھ سنگھ نے اجلاس کو بتایا ہے کہ وی ایچ پی کے سربراہ ڈاکٹر پروین توگڑیا نے ملک کے20سے زائد مقامات پر عیسائی اور مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے کے لئے جلسے رکھے تھے، جو تمام کے تمام منسوخ کروا دیئے گئے ہیں اور وی ایچ پی کے سربراہ کو وارننگ دی گئی ہے کہ وہ اپنے شدھی کے عزائم سے باز رہیں۔ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں سب کو آزادی سے اپنے اپنے مذہب کے ساتھ جینے کا حق ہے۔

اسی طرح مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جس کے تحت بھارتی آئین کی دفعہ 370 میں ترمیم کرکے ہندوؤں کو بھی مقبوضہ کشمیر میں متروکہ جائیدادیں خریدنے کا حق دے دیا گیا۔ اس آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کر کے اس کی مسلمان ریاست کی شناخت ختم کرنے کا ہے تاکہ تقسیم ہند کے ایجنڈا کے تحت مسلمان اکثریت کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کے حق سے محروم کیا جا سکے۔ بی جے پی حکومت کی اس جابرانہ پالیسی کے خلاف بھی کشمیری عوام کی جانب سے سخت مزاحمت کی جا رہی ہے اور دنیا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ بی جے پی نے کشمیری عوام کو محض حق خودارادیت کے محروم کرنے کے لئے وادی کشمیر کی اصل ہیئت تبدیل کررہی ہے۔ بی جے پی کو اپنی اس پالیسی کا خمیازہ مقبوضہ کشمیر کے حالیہ انتخابات میں اپنی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا، جبکہ اس کا انتقام مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کرکے لیا ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے سینئر رہنما سبرامینیم سوامی نے ایک بار پھر ایودھیا میں شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2016ء میں رام مندر کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے مندر کی تعمیر کے ضمن میں ان سے 2016ء تک کا وقت مانگا ہے۔ مندر کی تعمیر کے لئے پارلیمان میں ووٹنگ کی ضرورت نہیں، اس کے لئے صرف صدر کی جانب سے ایک پریس ریلیز بھی کافی ہے اور یہ پریس ریلیز کابینہ تیار کر سکتی ہے۔ برسوں سے ہم مندر کی تعمیر کا انتظار کر رہے ہیں آخر ہم کتنا انتظار کریں گے۔

مزید : کالم


loading...