ایشیا کے قلب میں اتحاد کی دھڑکن!

ایشیا کے قلب میں اتحاد کی دھڑکن!
ایشیا کے قلب میں اتحاد کی دھڑکن!

  


افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات سے امید کی کرن نظر آتی ہے کہ اب قابض فوجیں نکل چکی ہیں اور وہاں ماضی میں کی جانے والی 1990 ء کی طرز کی سازشوں کا اعادہ ممکن نہیں ہے۔افغانوں کے مستقبل کا تعین کرنے کیلئے نئے ابھرنے والے عوامل کا تجزیہ کرتے وقت ماضی میں کی جانے والی سازشوں کو ذہن میں رکھنا لازم ہے جو سوویٹ یونین کی پسپائی کے بعد پر امن انتقال اقتدار کی را ہ میں حائل ہوئی تھیں اور نتیجے میں افغانستان خانہ جنگی کا شکا ر ہو ا تھا ۔ طالبان سے تو جان چھڑا لی گئی لیکن افغانستان قابض فوجوں کے نرغے میں چلا گیا۔قابض فوجوں کی تیرہ سالہ ظالمانہ جنگ اب اپنے اختتام کو پہنچی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ سازشیں بھی دم توڑ چکی ہیں جو ملک میں ان کی حسب منشاء حکومت سازی کی راہ میں رکاوٹ تھیں اوراب یہی امرجنگ سے تباہ حال ملک میں قیام امن کی ضمانت ہے۔حال ہی میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی Heart of Asia Conference بلاشبہ پرامن افغانستان کی نوید ثابت ہوگی اوربہت جلدافغانستان میں امن و استحکام کا نیا دورشروع ہوگا جس کا اظہار ان اہم عوامل سے بخوبی ہوتاہے :

*طالبان اس جنگ میں فاتح کی حیثیت سے ابھرے ہیں اور انہوں نے مقصد سے پرخلوص وابستگی اور سیاسی بصیرت سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ قوم کو ان کی حقیقی منزل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وہ صدر اشرف غنی کی زیر قیادت قائم ہونے والی نئی حکومت سے مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہیں جو بڑ ی خوش آئند بات ہے۔

*ملا عمر کے وہ الفاظ افغان قوم کی لگن کی صحیح ترجمانی اور منزل کا تعین کرتے ہیں‘ جومیں نے متعددبار اپنے مضامین میں دوہرائے ہیں کہ ’’جب قابض فوجیں یہاں سے نکل جائیں گی توہم آزاد فضامیں ایسے فیصلے کریں گے جو پوری قوم کیلئے قابل قبول ہوں گے۔ہم دشمنوں کی چالوں میں نہیں آئیں گے‘ جنہوں نے ماضی میں ہمارے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کیا۔‘‘

*پیرس کے Foundation for Strategic Research نامی ادارے کے زیر اہتمام دسمبر 2012ء میں انٹرا افغان ڈائیلاگ (Intra-Afghan Dialogue) منعقد ہوئے تھے جن میں طالبانٍ ‘شمالی اتحاد اور صدر کرزئی کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔اس میٹنگ میں ملا عمر کے عزم کی تائید کی گئی اور 2015 ء تک قیام امن کاروڈ میپ بھی تیار کیا گیاہے، جس میں امریکہ کی منظوری سے پاکستان کیلئے بھی ایک کردار معین کیا گیا ہے۔اس میٹنگ میں اس عزم کا بھی اعادہ کیاگیا ہے کہ : ’’ہم متحد رہتے ہوئے وسیع البنیاد حکومت کے قیام اور افغانستان میں قیام امن کی کوششیں کرتے رہیں گے۔‘‘حالیہ اقدامات انہی کوششوں کا سلسلہ ہیں۔

* صدر اشرف غنی کی زیر قیادت قائم ہونے والی نئی افغان حکومت نے ایسے تمام مثبت اقدامات اٹھائے ہیں جن سے پیرس میں منعقد ہونے والی میٹنگ کے دوران کئے گئے فیصلوں کی تائیدہوتی ہے۔یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

*افغانستان کے صدر جناب اشرف غنی نے واضح کردیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ منفرد انداز سے کیا جائے گا۔ جس میں اپنے چھ قریبی ہمسایہ ممالک ‘ پاکستان‘ ایران‘ چین‘ روس اور وسطی ایشیائی ممالک سے بہت ہی قریبی رابطہ رکھا جائے گا۔انہوں نے دیگر تمام ممالک سے اپنے اقدامات کی تائید کی توقع ہے۔

*ایک عرصہ بعد پاکستان اور افغانستان کے نظریاتی اور تہذیبی روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں جس سے بیرونی طاقتوں کی جانب سے دونوں برادر ممالک کے باہمی معاملات میں مداخلت کے امکانات ختم ہو ں گے ۔

*حالات کے ستم سے مجبور امریکہ نے اپنا تذویراتی مرکز ایشیاء پیسیفک کی جانب منتقل کر دیا ہے‘ اب ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے سبب ‘صدر اشرف غنی کے پاکستان سے قریبی تعلقات استوار کرنے کے اقدامات اور ’’ایشیاء کے قلب میں اتحاد قائم کرنے کے نظریے ‘‘کے پیش نظرامریکہ نے حالا ت سے سمجھوتہ کرنے کی راہ اختیار کر لی ہے، جبکہ بھارت کو ایشیائی بحرالکاہل کے اتحاد میں چین کے خلاف اہم شراکت دار کا کردار سونپا گیا ہے‘ جیسا کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کو حاصل ہے۔

یہ بڑے مثبت اشارے ہیں جو افغانستان کے پرامن مسقبل کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں امن و استحکام قائم ہونے کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچیں گے اور بھارت اور اتحادیوں کی سازشوں سے حکومتی سرپرستی میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں جاری دہشت گردی کا سلسلہ بھی ختم ہوگا ۔اس طرح امریکہ کا بھارت کو کابل سے ڈھاکہ تک علاقائی موثر طاقت بنانے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گااورافغانستان کے قریبی چھ ممالک کے درمیان علاقائی امن قائم ہونے کے سبب ایشیاء کے قلب میں طاقت کا توازن بھی قائم ہو گا جو عالمی امن کے لئے بھی اشد ضروری ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہداف ایک نئے انداز سے متعین کئے جارہے ہیں جو کسی اعتبار سے معذرت خواہانہ نہیں ہیں۔جنرل راحیل شریف کا کابل جاکر بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف 2005 ء سے جاری سازشی نیٹ ورک کو بند کرانے اور پاکستانی دہشت گردوں کی افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کی کارروائیوں کو ختم کرانے کی درخواست کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح جنرل راحیل نے برطانیہ جاکر حکومت کو بتایا کہ ’’ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ان کی سرزمین سے’ لندن پلان ‘ کی صدا بلند ہوئی ہے ۔‘‘ ہمارے پاس اس امر کے ٹھوس ثبوت ہیں کہ پاکستان دشمن عناصر کو وہاں نہ صرف ٹھکانے دیے جاتے ہیں بلکہ ان کو سرمایہ بھی فراہم کیا جاتا ہے اس سلسلے کو اب ختم ہونا چاہئے۔ اس سے قبل انہوں نے دو ہفتے کاامریکہ کا بھی دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے امریکی اکابرین کو ایشیاء کے قلب میں ابھرنے والے نئے حقائق سے آگاہ کرنے کے علاوہ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات و اہداف سے بھی آگاہ کیا اور سمجھایا، یہاں تک کہ وہ سمجھ گئے۔ اورجب جان کیری پاکستان کے دورے پرآئے تو امریکی سوچ میں رونما ہونے والی تبدیلی بآسانی دیکھی جا سکتی تھی۔امریکہ کی اپنی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر پر ان کی خارجہ پالیسی کے اقدامات مکمل طور پر بھارت نواز تھے جبکہ انہوں نے پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا پرانا مطالبہ دہراتے ہوئے حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی پر بھی زور دیا۔یوں لگتا ہے کہ امریکیوں کی نظر میں شایدہم ابھی تک افغانستان کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے پر عمل پیرا ہیں۔ اب مناسب وقت ہے کہ امریکہ خطے کے ابھرتے ہوئے نئے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں حالات کے مطابق ہم آہنگی پیدا کرے۔خصوصأ اس وقت جب دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے قریب ہے او ر انشاء اللہ‘ اختتامی اہداف بھی ایشیاء کے قلب کے ممالک کے اہداف سے ہم آہنگ ہو ں گے جونہ صرف خطے میں امن و استحکام کیلئے ایک اہم ضرورت ہے بلکہ عالمی امن کیلئے طاقت سے حاصل ہونے والے توازن کومرکزیت بھی حاصل ہوگی۔یہ مثبت تبدیلیاں عالمی امن کیلئے بہت اہم ہیں۔

مزید : کالم


loading...