شاہد شکیل قتل، ایک نیک بندہ مار دیا گیا

شاہد شکیل قتل، ایک نیک بندہ مار دیا گیا

مجھے اس کی عادت، مزاج اور برخورداری کا تو تجربہ اور اندازہ تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اتنا زیادہ مقبول بھی ہے اور اپنے شہر اور گاؤں کی پسندیدہ ترین شخصیت ہے۔ فون پر اطلاع کے بعد کہ جسم خاکی میو ہسپتال سے مریدکے ہسپتال پہنچ گیا ہے۔ ہم یہاں سے روانہ ہوئے تو ہمارے پہنچنے تک پوسٹ مارٹم کے بعد نعش گھر آ چکی تھی اور غسل دیا جا رہا تھا تاکہ اسے اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچایا جائے۔ گلی میں قدم رکھا تو گھر تک راستہ ملنا مشکل ہو گیا کہ مرد و زن کا ایک ہجوم تھا، لوگ جمع تھے اور خواتین گھر کی طرف جا رہی تھیں، ہر کوئی سوگوار نظر آیا اور اکثر کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ لوگ دو دو چار چار کی ٹولیوں میں کھڑے اسی کے حوالے سے گفتگو کررہے تھے۔ ہر کوئی افسردہ اور اس واردات کو ظلم اور بہیمانہ کارروائی قرار دے کر انتظامیہ کی نااہلی اور پولیس کی غفلت کا ذکر کررہا تھا، راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھے تو اسی حشر کا سامنا کرنا پڑا جو متوقع تھا، بچے بلک رہے تھے۔ بھائی دھاڑیں مار رہے اور دوست زار و قطار رو رہے تھے، ایسے میں کسے صبر آ سکتا ہے۔ ہمارے اشک رواں ہونا بھی قدرتی بات تھی، بھائی گلے مل رہے تھے اور واویلا کررہے تھے۔

شاہدشکیل کا قتل کوئی معمولی واردات نہیں، یہ تو وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہم نے درست اندازہ لگایا تھا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ ہے، بتایا گیا کہ شاہدشکیل رات کو دوستوں سے ہلکی پھلکی گپ کے بعد اپنے بڑے بھائی جمشید کے گھر چلا گیا دیر تک وہاں رہا، واپس گھر آکر سو گیا، صبح فجر کی نماز سے ذرا قبل دروازہ کی گھنٹی بجی، شاہدشکیل کی اہلیہ نے اٹھ کر جانا چاہا تو اس نے روک دیا اور خود جا کر آواز دے کر پوچھا کہ کون ہے۔ جواب میں دریافت کیا گیا:’’تم شاہدشکیل ہو؟ جواب اثبات میں پا کرآنے والے نے نام بتایا، شاید یہ نام کوئی جانا پہچانا تھا یا پھر نام پوچھ لینے کے بعد تسلی ہو گئی تھی۔ اس نے بغل والا چھوٹا دروازہ کھولا، جونہی دروازہ کھلا باہر کھڑے شخص نے رائفل سیدھی کرکے فائر کر دیا، یہ ایک ہی فائر کارگر تھا، جو شاہدشکیل کے پیٹ سے آر پار ہو گیا۔ فائر کی آواز پر بیوی تڑپ کر باہر آئی تو وہ گیراج میں گرا پڑا تھا، بیوی نے باہر نکل کر کسی کو بلانے کی کوشش کی تو شاہد شکیل نے ہاتھ سے روکا مت جاؤ، باہر قاتل ہو سکتے ہیں وہ تمہیں بھی مار دیں گے۔

بیوی برداشت نہ کر سکی دوپٹہ زخم پر باندھ کر باہر نکلی اور شور مچایا، پل کی پل میں اردگرد کے محلے دار آ گئے انہی میں ایک ڈاکٹر بھی تھے۔ انہوں نے جلدی سے پائیوڈین لگا کر دوپٹے ہی کی پٹی باندھی۔ اسی اثناء میں شاہدشکیل کے بھتیجے کو خبر ہوئی وہ آ گیا۔ اس کے برادر نسبتی کو خبر دی گئی اور محلے دار کار میں ڈال کر مریدکے ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے۔ اس اثناء میں وہ یہی کہتا تھا، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ڈاکٹر مجھے بچا لو، پھر کلمہ پڑھنا شروع کیا۔ ہسپتال پہنچنے تک اس کے برادر نسبتی ظفر آ گئے۔ معمولی طبی امداد کے بعد اسے لاہور میوہسپتال ریفر کر دیا گیا کہ خون رک نہیں رہا تھا، ظفر کے مطابق شاہد شکیل نے اس سے بھی چھوٹے چھوٹے بچوں ہی کا ذکر کیا اور پھر کہا میرا بچنا مشکل اور کلمہ پڑھتے پڑھتے بے ہوش ہو گیا۔ صرف اتنا بتا سکا کہ دروازہ کھلوانے والے نے اس کے نام کی تصدیق کرکے اپنا نام ریاض بتایا ار پھر اپنا کام کرکے چلتا بنا۔ قاتل نے منہ پر کپڑے سے نقاب لگا رکھا تھا، میوہسپتال پہنچتے پہنچتے وہ اللہ کو پیارا ہو چکا تھا، مریدکے پولیس کی روایتی تیا ری تھی، حالانکہ وہ ایک معروف شخص تھا۔

میوہسپتال سے گھر اطلاع دی گئی تو وہاں سے لواحقین میں سے ایک فرد نے تھانے سے متعلقہ پولیس والوں کو گاڑی میں ساتھ لیا اور میوہسپتال پہنچے۔ ضابطے کی کارروائی کے بعد اسے مریدکے ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔پھر وہی جو ہونا تھا، پوسٹ مارٹم کے بعد نعش حوالے کر دی گئی۔

شاہدشکیل میری اہلیہ مرحومہ کی سگی پھوپھی کا بیٹا تھا، اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا، میری اہلیہ اور پھر میرے بچوں سے اس کی بڑی دوستی تھی، بڑا نرم خو اور ادب سے بات کرنے والا تھا۔ خاندان کے تمام کام اس نے نمٹائے۔ اپنے آبائی گاؤں اور مریدکے میں بہت مقبول تھا، ہر کسی کے کام آٹا، سب کو سلام کرتا، چاول کی آڑھت خوب چل رہی تھی، ہر ایک سے پوچھا سب ہی تعریف کررہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اس کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں تھا اور نہ کبھی ایسی نوبت آئی نہ کوئی لین دین کا معاملہ تھا کہ اس نے کسی کے دینے نہیں، لینے ہی تھے اور ان کے لئے بھی اصرار نہیں کرتا تھا، چند دوستوں کی محفل تھی جہاں بیٹھ کر گپ لگا لیتا۔

جنازے کا وقت آیا تو دوسرا ہی نظارہ تھا، پوری جامع مسجد بھر گئی، پھر بھی لوگ بچے ہوئے تھے، ان سب نے وضو خانے اور گلی میں کھڑے ہو کر نماز مغفرت ادا کی۔ ان میں مریدکے سے ہر طبقہ فکر کے لوگ تھے،ہر سیاسی جماعت، دینی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لوگ بھی تھے۔ یہاں سے جنازہ آبائی گاؤں پٹیالہ دوست محمد لے جایا گیا تو وہاں بھی ایک ہجوم منتظر تھا، پورا گاؤں مسجد میں جمع تھا۔ یہاں بھی سینکڑوں لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی اور پھر اسے آبائی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

گھر واپس آئے تو دوسری خبر منتظر تھی۔ شاہد شکیل کے والد محمد رمضان بیٹے کی دردناک موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکے اور وہ بھی چل بسے۔ ہم سب ان کی میت گھر پر چھوڑنے کے بعد رات کو واپس آئے اور اب تدفین کے لئے گاؤں روانہ ہو رہے ہیں، ایک ہی وقت میں دو صدمے برداشت تو کرنا ہے۔ شاہدشکیل یوں تو رشتے میں میرا برادر نسبتی تھا لیکن ادب، لحاظ اور تعلقات کے حوالے سے سگا تھا کہ میری بیوی بھی اسے بہت پیار کرتی تھی اور بچے بھی اس سے بہت مانوس تھے۔ اب قاتل اپنا کام کر گیا۔ معصوم بچے یتیم اور نوجوان بیوی بیوہ ہو گئی۔ ظالموں کا کیا گیا، کیا ان کو آرام کی نیند آ گئی ہوگی۔ اللہ جاننے والا، مہربان ہے، ایسے نیک بندے کا بدلہ وہی لے گا۔

مزید : کالم


loading...