کباب کی ’’دہشت گردی‘‘

کباب کی ’’دہشت گردی‘‘
کباب کی ’’دہشت گردی‘‘

  


گزشتہ کئی سالوں سے مغرب داڑھی اور حجاب کے متعلق فوبیا کا شکار ہے۔ ہر داڑھی والے کو خوف یا شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور کسی نہ کسی انداز سے حجاب کے متعلق الرجک ہونے کا اظہار کیا جاتا ہے مگر اب فرانس میں کباب نے ایک نئی ’’دہشت گردی‘‘ شروع کر دی ہے۔ دائیں بازو کے سیاستدانوں کو کباب ایک خطرناک قسم کا دہشت گرد نظر آتا ہے جو ان کی شناخت اور تہذیب کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ قومی اور مقامی سیاست میں کباب کے خلاف تقریریں ہو رہی ہیں اور اس کے خلاف کارروائیاں کرنے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مگر کباب ہے کہ مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ نوجوان اسے ذوق و شوق سے کھاتے ہیں اور کہا جا سکتا ہے کہ فرانس میں کبابی نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

بچپن میں ہم بعض حضرات پر کبابی اور شرابی کے الزامات سنتے آئے ہیں۔ شرابی پر اعتراض کی سمجھ توآتی تھی مگر کبابی کا جرم سمجھ سے باہر تھا۔ مگر پھر کسی نے بتایا کہ کباب شراب کی محبت کی وجہ سے بدنام ہے۔۔ شراب پینے والے اکثر کباب کھاتے ہوئے پائے جاتے ہیں اس لیے کباب بھی بدنام ہو گیا ہے۔ مگر یہ الزام ہمیں ہمیشہ اس لطیفے کی طرح لگا یہاں رشتہ کرنے کے لیے لڑکے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے لڑکی کے باپ نے لڑکے کے اس چچا سے رابطہ کیا جو اپنے بھائی اور اس کی اولاد کے متعلق خاصی خطرناک رائے رکھتا تھا۔ چچا نے اپنے بھتیجے کی شان بیان کرتے ہوئے کہا ’’لڑکا بہت اچھا ہے مگر کبھی کبھی پیاز کھا لیتا ہے‘‘۔

’’پیاز کھا لیتا ہے۔ اس کا کیا مطلب؟ ‘‘

’’بھئی جب کبھی شراب پیتا ہے تو اچھے بیٹوں کی طرح اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے والدین کو علم نہ ہو اس لیے منہ کی بو چھپانے کے لیے پیاز کھا لیتا ہے‘‘۔

پوچھنے والے کو حیرت کا ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے کہا ’’تو لڑکا شراب پیتا ہے‘‘۔ ’’اوہ ہو! اس نے شراب کیا پینی ہے۔ کبھی ڈاکہ وغیرہ ڈالنا ہو تو شراب پی لیتا تھا۔ بنیادی طور پر شریف اور بزدل ہے۔ اس لیے حوصلے کے لیے شراب پی لیتا ہے‘‘۔

’’تو وہ ڈاکے بھی ڈالتا ہے‘‘۔

’’ڈاکے اس نے کیا ڈالنے ہیں! قتل کے الزام میں وہ جیل میں گیا تھا وہاں کچھ ڈاکوؤں سے دوستی ہو گئی۔ اب مروت میں وہ کبھی کبھار ان کے ساتھ ڈاکے ڈالنے چلا جاتا ہے‘‘۔

’’اس نے قتل بھی کیا تھا‘‘؟

’’ایک دن جوئے کے اڈے پر جھگڑا ہو گیا۔ اس سے بھی قتل ہو گیا‘‘۔ ’’تو وہ جوا بھی کھیلتا ہے‘‘۔

’’یہ آپ کیسے سوال کر رہے ہیں۔ بڑا شریف بچہ ہے۔ بس کبھی کبھار پیاز کھا لیتا ہے۔ اب اگر آپ اتنی سی بات پر رشتہ سے انکار کریں گے تو یہ آپ کی زیادتی ہوگی‘‘۔

فرانس میں کباب کے متعلق جس طرح مبالغہ آرائی ہو رہی ہے اس سے یہ لطیفہ ہمیں کچھ زیادہ یاد آ رہا ہے۔ کباب برگر اور پیزے کے بعد فرانس میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ اور یہ ڈیڑھ ارب یورو کا کاروبار بن گیا ہے۔ فرانس بھر میں کباب کی دکانیں بڑی تعداد میں کھل رہی ہیں اور چٹ پٹے لذیذ کباب نوجوانوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ فرانس میں کباب ترک لے کر آئے۔ قدیم یونانی شاعر ہومر نے اپنی تحریروں میں کباب کا ذکر کیا ہے۔ ترک ماہر لسانیات سیوان نیسایان کا کہنا ہے کہ کباب کا لفظ کباپ سے آیا ہے جس کا مطلب فرائی کرنا ہے۔ کباب بکرے، گائے اور بکری کے ہوتے ہیں اور 1377ء کے ترکی کے لوک قصہ یوسف میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ روایات کے مطابق کباب قدیم ایرانیوں کی ایجاد ہے جو گو شت کو اپنی تلوار پر ڈال کر اسے کھلی آگ پر گرل (Grill) کرتے تھے۔ کباب ایران میں خاصے مقبول رہے ہیں۔ یہاں یہ چاولوں کے ساتھ کھائے جاتے ہیں اور انہیں چلو کباب کا نام دیا جاتا ہے جو ایران کی قومی ڈش ہے۔ ہمارے دوست افضل علوی کو ایران میں وقت گزارنے کا موقعہ ملا اور وہ دعوتوں میں چلو کباب کھا کھا کر خاصے تنگ آ گئے تھے۔

فرانس میں کباب جس طرح دہشت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت جرمنی یا انگلینڈ میں نہیں ہے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکیل تین مختلف موقعوں پر کباب کھاتی ہوئی نظر آئی ہیں جبکہ برطانوی اپوزیشن لیڈر تو باقاعدہ کبابوں کی تعریف کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صنعت سے وابستہ افراد کی محنت اور عزم صمیم کی بدولت ایک اعلی درجے کی غذا معقول نرخوں پر دستیاب ہے۔ مگر فرانس میں کوئی بھی اہم سیاستدان کباب کے ساتھ ایسی محبت کا اظہار نہیں کرتا۔ کباب کی صنعت سے وابستہ ایک بزنس مین الہان ارسلان کا کہنا ہے ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ کباب کی تعریفیں ہوں یا اسے فرانسیسی قومی ڈش بنا لیا جائے کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ تاہم ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ فرانس میں اس کے ساتھ جو دشمنوں جیسا سلوک ہوتا ہے اس میں تبدیلی آئے‘‘۔

فرانس میں یہ اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ کبابوں کی جن دکانوں پر رش ہوتا ہے ان پر منی لانڈرنگ کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اسی طرح کباب کی دکانوں پر بھاری جرمانے عائد کئے جاتے ہیں جبکہ کھانے کی دوسری دکانوں پر ایسی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مگر فرانس میں کباب بڑا سخت جان واقع ہوا ہے۔ اس کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانس میں کبابوں کی مقبولیت کو کلچرل ’’اسلامائزیشن‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں مشرقی فرانس کے ایک شہر میں ایک مسجد کے ساتھ کباب کی دکان کو تباہ کر دیا گیا۔ نیشنل فرنٹ پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ فرانس کے کئی تاریخی شہر کبابوں کی بدولت مشرقی شہر وں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

فرانسیسی اپنے لذیذ کھانوں کی وجہ سے دنیا میں معروف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جنت میں باورچی فرانسیسی ہوں گے جبکہ جہنم میں بدذائقہ کھانوں کی سزا دینے کے لیے باورچی خانہ انگریزوں کے سپرد کر دیا جائے گا۔ فرانس میں کباب فوبیا انتخابات میں خاص طور پر نظر آیا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں دائیں بازو کے دہشت پسندوں نے کباب کے خلاف خوب دل بھر کر بھڑاس نکالی۔ العربیہ ڈاٹ کام کے مطابق فرانس کے جنوبی شہر بیزبیہ کی میئرشپ کے امیدوار اوپیرمیز کی ویب سائٹ پر 2013ء میں شارہا فوٹر نامی ایک شخص کا مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے 2047ء کے فرانسیسی معاشرے کی تصویر کشی کی ہے۔ اس میں فرانسیسی معاشرے پر مشرقی روایات غالب نظر آتی ہیں ۔ اس میں تمام عورتیں حجاب اوڑھتی ہیں۔ برگر اور پیزا جیسے مقامی کھانے قصہ ماضی بن چکے ہیں اور لوگ صرف کباب کھاتے ہیں۔ کباب کی ایک دکان کے مالک کے مطابق فرانس میں آپ کباب کو ہدف تنقید بنا کر مسلمانوں کے خلاف ایک لفظ کہے بغیر انہیں برا بھلا کہہ سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فرانس میں کباب کی مخالفت ہو رہی ہے مگر اس کے باوجود اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں ملک بھر میں 300 ملین کباب کھائے جاتے ہیں اور یہاں کباب سازی کی ایک ایسی چین بھی ہے جس میں کم سے کم دس ہزار کباب سنٹر کام کر رہے ہیں۔ اور اب یہ ڈیڑھ ارب یورو کا کاروبار بن چکا ہے۔ مگر جتنی تیزی کے ساتھ فرانس میں کباب کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے یہ خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے سالوں میں مسلمانوں کو یہاں زیادہ تعصب اور نفرت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ تہذیبوں کی جنگ کئی انداز سے جاری و ساری ہے۔

***

مزید : کالم


loading...