جنرل باجوہ کی امان پور کو سرزنش!

جنرل باجوہ کی امان پور کو سرزنش!
جنرل باجوہ کی امان پور کو سرزنش!

  


اس سے پہلے کہ میں اپنے جنرل عاصم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس سرزنش کی کچھ تفصیل قارئین کے سامنے رکھوں، جو آج کے کالم کا موضوع ہے ،گزشتہ دنوں اور بھی ایسے واقعات دنیا میں رونما ہوئے جو مسلم امہ کی انگڑائی کی علامات میں شمار کئے جا سکتے ہیں، مثلاً:

*۔۔۔ پیرس میں چارلی ایبڈو کے دفاتر پر اسلام کے جانثاروں کا حملہ کہ جس کے بعد فرار ہوتے ہوئے حملہ آوروں میں کسی نے فرانسیسی زبان میں نعرہ لگاتے ہوئے یہ جملہ کہا تھا۔ ’’آج ہم نے حضرت محمد ﷺ کا انتقام لے لیا ہے۔‘‘

یہ جملہ اہلِ یورپ کے لئے چشم کشا ہونا چاہیے تھا لیکن اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ یورپ والوں نے اسلام کے خلاف مظاہرے کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ فرانسیسی دارالحکومت میں (کہا جاتا ہے کہ ) دس لاکھ کا ہجوم اکٹھا کیا گیا اور اس بات کا ثبوت فراہم کیا کہ مغرب اور اسلام میں جو تہذیبی اور مذہبی بُعدالمشرقین ہے، وہ کبھی نہیں سمٹے گا۔ مسلمانوں کی ساڑھے چودہ برسوں کی تاریخ میں اَن گنت مواقع ایسے آئے جب مسلمانوں نے عیسائیوں کو اپنی فراخ دلی، مذہبی رواداری اور کشادہ ظرفی کے ثبوت فراہم کئے، لیکن اہلِ صلیب کی طرف سے اس کا کوئی مثبت جواب نہ آیا۔ چارلی ایبڈو میگزین نے آنحضورؐ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ بند نہ کیا اور پیرس کے حملے کے بعد بھی اس اخبار کے ایڈیٹروں نے جو پہلا شمارہ نکالا، اس میں رسالت مآبؐ کے خاکے شائع کرکے انتہائی ہٹ دھرمی اور بے شرمی کا مظاہرہ کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ان 10لاکھ مظاہرین میں 40سے زیادہ ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم ’’وغیرہ‘‘ نے بھی شرکت کی۔

اس سلسلہ ء خرافات کو بڑھتے دیکھ کر کئی مسلمان ملکوں کی غیرت بھی کچھ جاگی۔ لیکن ستم یہ ہے کہ اس بیداریء غیرت کے مظاہرے اس طرح کئے گئے ہیں کہ اپنے ہی ملک کی املاک کو جلا کر راکھ کر ڈالا گیا۔ اگر فرانسیسی سفارت خانوں کے سامنے مظاہروں تک بات محدود رہتی تو ایک بات بھی تھی لیکن پاکستان، نائیجریا اور کئی دوسرے اسلامی ممالک نے اپنے ہی گھر کا گھر پھونک کر تماشا دیکھا اور دنیا کو بتایا کہ دیکھو ہم مسلمان اپنی ’’غیرت مندی‘‘ کا مظاہرہ اس طرح کیا کرتے ہیں۔۔۔ اقبال نے ’’پنجابی مسلمان‘‘ (اب پاکستانی مسلمان) کی اس ’’بیداریء غیرت‘‘ کو درج ذیل اشعار میں ’’خراج تحسین‘‘ پیش کیا تھا:

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت

کرلے کہیں منزل، تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا

ہو کھیل مریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے

یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

*۔۔۔ مگر اس بار تو پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ کچھ یورپی عیسائی بھی اپنے نشیمن کی شاخوں سے اتر آئے اور چارلی ایبڈو کے پھندوں کی کھل کر مخالفت کرنے لگے۔ حیرت اور مسرت کی بات یہ تھی کہ ان عیسائی پرندوں کے مذہبی شہباز جناب پوپ فرانسس نے بھی مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ فلپائن میں کسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک قریبی ساتھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’اگر یہ شخص مجھے ماں کی گالی دے گا تو اس کے منہ پر مکہ مار کر اس کو سیدھا کر دوں گا‘‘۔۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اپنے مفتیء اعظم کی یہ بات سن کر یورپی (اور امریکی) دنیا پر ایک ایسی خاموشی چھا گئی جس کی مثال عصرِ حاضر یا دورِ گزشتہ میں نہیں ملتی۔۔۔ یہ صلیبی موقف چارلی ایبڈو کے دس لاکھ مظاہرین اور 40سے زیادہ ممالک کے رہنماؤں کے منہ پر ایسا طمانچہ تھا جس پر وہ لوگ احتجاج بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس طمانچے کو سب سے پہلے جرمنی کی انجیلا مارکر نے رجسٹر کیا اور اپنے ملک میں ہونے والی اُن مسلم ریلیوں کے منتظمین کا ساتھ دیا جو چارلی ایبڈو میں شائع آنحضورؐ کے توہین آمیز اور شرانگیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف نکالی گئیں۔۔۔ اس حوالے کے پس منظر میں دیکھیں تو کراچی اور ڈریسڈن کی ریلیاں ایک ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور یہ ایک انقلابی تبدیلی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق فرانس میں 50لاکھ، جرمنی میں 40لاکھ اور برطانیہ میں 30لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ لیکن اس کثیر مسلم آبادی کا کوئی فائدہ اس لئے نہیں کہ اس کی آواز صدا بصحرا ہے۔ کس فرد بشر کو خبر نہیں کہ 18ویں صدی عیسوی سے لے کر 20صدی عیسوی کے وسط تک برطانیہ کے مٹھی بھر گورے برصغیر ہندو پاک کی کروڑوں کی خاکی آبادی پر مسلط رہے؟

اس ’’تمہید‘‘ کے بعد اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔۔۔ سی این این (CNN) کی ایک مشہور اینکر کا نام کرسٹین امان پور ہے۔ اس کو آپ نے بھی بارہا سی این این پر مختلف روپوں میں ’’جلوہ گر‘‘ دیکھا ہو گا۔ اس کی زیادہ شہرت دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں سے انٹرویو کے دوران حد سے بڑھی ہوئی اس کی وہ بے باکی (Boldness) ہے جو بعض اوقات صحافتی حدود سے نکل نکل جاتی ہے۔ اس کا چہرہ تو لمبوترا سا ہے لیکن منہ اتنا وسیع و عریض ہے کہ اس کو لگام دینا مشکل ہو جانا ہے۔ یہ تو خدا بھلا کرے اپنے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہ انہوں نے امان پور کو انٹرویو کے آغاز ہی میں سخت ڈانٹ پلا کر ٹوک دیا۔

19جنوری 2015ء کو جنرل باجوہ سے انٹرویو کے دوران امان پور نے ان سے سوال کیا: ’’کیا پاکستان میں اتنی قابلیت اور صلاحیت ہے کہ وہ اپنے ملک سے آخری دہشت گرد کا بھی خاتمہ کر سکتا ہے‘‘؟ جنرل باجوہ نے اس کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا: ’’اس قسم کے سوال کرنا پاکستانی عوام اور پاکستان کی مسلح افواج کی توہین ہے! اس کو سمجھا کرو اور اس کا خیال رکھا کروبی بی!‘‘۔

ظاہر ہے ایسے سوال پر جنرل صاحب کو غصہ تو آیا ہوگا لیکن ان کی منصبی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ غصے کو ایک طرف رکھ کر امان پور کو جواب دیں کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پاکستان کے عوام دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے کیا کیا انتظامات کررہے ہیں اور مزید کیا کیا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’دیکھئے میڈم امان پور ! پاکستان کی مسلح افواج بغیر کسی امتیاز کے دہشت گردوں کے ہر گروپ سے نمٹ رہی ہیں اور اس کا صفایا کر رہی ہیں۔ ہمارے لئے کوئی اچھا دہشت گرد یا بُرا دہشت گرد نہیں۔ پاکستان آرمی اپنے مقصودات (Objectives) کے بارے میں بہت کلیئر اور واشگاف نقطہء نظر رکھتی ہے۔ ہم کسی رنگ و نسل کے امتیاز کے قائل نہیں۔ ہم ہر نوع کے دہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں‘‘۔

اس کے بعد امان پور نے فوجی عدالتوں کا مسئلہ اٹھایا۔ دراصل فوجی عدالتوں کا قیام اور جمہوری حکومت سے ان کو دو سال کی آئینی مدت دینے کی خبر نے امریکی ایڈمنسٹریشن کو بوکھلا کے رکھ دیا ہے۔ 13برس تک ناٹو اور ایساف افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑتے رہے اور اب ان کو رسوا ہو کر افغانستان کے گلی کوچوں سے نکلنا پڑ گیا ہے۔ امریکیوں کو یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں اوباما ایڈمنسٹریشن نے مستقبل قریب کی جو پالیسی بنائی تھی وہ ناکام ہو رہی ہے۔ کرزئی جا چکا ہے اور اشرف غنی آ چکا ہے۔ چین اور روس، امریکی خلا کو پُر کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ ابھی تک دنیا کو کچھ معلوم نہیں کہ آئندہ افغانستان کا اونٹ قوموں کی برادری کی قطار میں کس کروٹ بیٹھے گا۔ اس ہفتے 26جنوری کو صدر امریکہ بھارت کے یوم جمہوریہ پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے دہلی تشریف لے جا رہے ہیں۔ بھارت کے مبصروں اور تجزیہ نگاروں کو آشا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ’’ہر قسم کی یک جہتی‘‘ کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان میں بھارت کی مسلح افواج کے ساتھ ’’یکجہتی‘‘ بھی شامل ہوگی۔ اس ’’ایکتا‘‘ میں دو عسکری موضوعات پر زیادہ زور دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائلٹ کے جہازوں (ڈرنوں) کی ترویج و توسیع کا موضوع ہے اور دوسرا C-130 ملٹری ائر کرافٹ کو بھارت میں اسمبل اور پروڈیوس کرنے کا پروگرام ہے۔ ان دو پروگراموں کے علاوہ دیکھتے ہیں اوباما، بھارت کے اپنے نئے اتحادی کو اور کیا کیا سبز باغ دکھاتے ہیں اور کتنے ڈالر بٹورتے ہیں۔ یادش بخیر امریکن صدور نے مختلف اوقات اور مختلف ادوار میں پاکستان کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلا تھا۔ اس پر ہمارے میڈیا میں بہت کچھ آتا رہتا ہے۔ مجھے زیادہ قلم گھسیٹنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیکھا جائے کہ پاکستان، امریکہ کی اس سٹرٹیجک گیم میں اپنا رول کس طرح نبھاتا ہے اور اس سٹرٹیجک شطرنج کی بساط پر اپنے مہرے کس ’’مغلائی بصیرت‘‘ سے کھیلتا ہے۔

مزید : کالم


loading...