عالمی برادری کو پاکستان کا ساتھ دینا ہو گا

عالمی برادری کو پاکستان کا ساتھ دینا ہو گا

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ کوئی اچھا یا بُرا نہیں تمام طالبان دہشت گرد ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہاربھی کیا کہ خطے سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ یہاں ان کی مرادپاکستانی طالبان ہیں، افغان طالبان ہر گز نہیں ہیں، ان سے ہمارا کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔پاکستانی طالبان کے خلاف بلاتخصیص کارروائی کی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کی کسی کارروائی کے لئے پاکستان اور افغانستان کی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کی جا سکے۔ امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہاکہ سانحہ پشاور نے پوری قوم کو متحد کر دیا، سیاسی قیادت بھی ایک میز پر بیٹھ گئی اور اتفاق رائے سے بہت سے فیصلے کئے گئے۔ سانحہ پشاور کے بعد سیکیورٹی انتظامات مزید بہتر کئے گئے ہیں ،سکولوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے،لیکن دنیا میں دہشت گردی کا واقعہ کب اور کہاں ہو جائے؟ اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا، اس کی تازہ ترین مثال پیرس کا واقعہ ہے، اس کے علاوہ امریکہ جیسے ملک میں بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پوری دنیا کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہاکہ دہشت گرد یہ رائے رکھتے ہیں کہ پوری دنیا ہی ان کی دشمن ہے ، اس لئے پوری دنیا کو اس کے خلاف ہاتھ ملانا ہوں گے اور ان کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ پاک افغان تعلقات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے مثبت ہی تھے خاص طور پر نئی حکومت کے قیام کے بعد، لیکن سانح�ۂ پشاور کی وجہ سے ان میں اور بھی زیادہ تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے باور کرایا کہ فوجی عدالتیں عارضی بندوبست ہیں۔

پاک فوج کا دوسری افواج کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیں عراق اور پھر افغانستان میں طویل عرصے تک موجود رہیں،ایساف اور نیٹو فورسز کے پاس طاقت اور وسائل ان سے کہیں زیادہ تھے، پھر بھی اس کے مقابلے میں اگر پاک فوج کی کارکردگی دیکھی جائے تو وہ یقیناًقابل تحسین ہے۔اسی انٹرویو کے دوران جب نمائندہ سی این این نے ان سے سول کیا کہ کیا پاک فوج میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ بلا امتیاز دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے آخری دہشت گرد کا خاتمہ کرے تو فوجی ترجمان نے انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاک فوج اور پاکستانی قوم کی توہین قرار دیدیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔پاک فوج بہت سے اہداف حاصل کرچکی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ بڑھا رہی ہے۔ افغان سرحد سے ملحقہ ایک چھوٹی سی پٹی کے سوا شمالی وزیرستان کا بڑا علاقہ کلیئر کر لیا گیا ہے۔ فضائی کارروائی کے بعد دشمنوں کے خلاف گراؤنڈ آپریشن بھی کیا جائے گا۔

اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ دہشت گردی صرف پاکستان ہی کا نہیں، بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔تاریخ دہشت گردی کے ہولناک واقعات سے بھری پڑی ہے، تمام تر وسائل اور سیکیورٹی انتظامات کے باوجود پیرس میں شدت پسندوں نے بارہ لوگوں کو ہلاک کر دیا، امریکہ کو ترقی یافتہ اور باوسائل ملک ہونے کے باوجود نائن الیون کا سانحہ برداشت کرنا پڑا، روس میں سکول میں بچوں کو یر غمال بنایا گیا، نائیجیریا میں بوکو حرام کے شدت پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں،داعش کا سایہ بھی ہر طرف منڈلا رہا ہے، ممبئی حملوں کی مثال بھی سب کے سامنے ہے اور برطانیہ بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں 16 دسمبرکو دہشت گردوں نے جس طرح معصوم بچوں کو نشانہ بنایا اس کی مثال نہیں ملتی۔اس وقت پاکستان کو بد ترین دہشت گردی کا سامنا ہے، اسی لئے پاکستان عالمی برادری کے تعاون کا متمنی ہے۔

اسی حوالے سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے برطانیہ کا دورہ کیا،انہوں نے وزیراعظم اور دوسری اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کیں اوربرطانوی حکام کو باور کرایا کہ وہاں سے جو لوگ بیٹھ کر پاکستان میں تخریب کاریاں کر رہے ہیں، ان کے ہاتھ پکڑنا ضروری ہیں۔پاکستان میں کالعدم تنظیم حزب التحریر اور بلوچستان میں فساد پھیلانے والے عوامل کی برطانیہ سے فنڈنگ کو روکا جائے۔ عالمی برادری کو دہشت گردی سے متعلق اپنی کارکردگی کی تفصیلات واضح کرنے کے لئے ہی انہوں نے اس سے قبل امریکہ کا دورہ کیا تھا وہاں بھی انہوں نے بہت سی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔اس کے علاوہ افغانستان سے بھی رابطے جاری ہیں،سیاسی و فوجی سطح پرملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا، اس کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی حال ہی میں افغانستان گئے، وہاں سے بھی آرمی چیف اور ایساف کمانڈر پاکستان آئے۔اس کے لئے علاوہ کور کمانڈر پشاور جنرل ہدایت الرحمان بھی افغانستان گئے اور جنوبی کمان کے کماندار لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ بھی وہاں پہنچ رہے ہیں۔

لیکن یہاں یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ اگر کسی کے ذہن میںیہ گمان ہے کہ پاک فوج میں دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہیں، تو وہ شدید غلطی پر ہے۔ شمالی وزیرستان میں جاری کامیاب آپریشن ضربِ عضب پاک فوج کی شجاعت اور صلاحیت کا مُنہ بولتا ثبوت ہے، شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ صاف ہو چکا ہے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ تن تنہا نہیں لڑ سکتا، اس کے وسائل محدود ہیں اوردہشت گردی کے خاتمے کے لئے اسے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی نیت اور کارکردگی پریقین کرنا ہو گا اوردہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پاکستان کا ساتھ بھی دینا ہو گا۔

مزید : اداریہ


loading...