بے چارگی

بے چارگی
بے چارگی

  


قدرت کے کیا کہنے ہر برائی سے نیکی اور ہر مشکل میں راحت کے پہلو نکال لیتی ہے اور بے چارگی کے احساس سے بھی سبق دیتی ہے۔

اپ پٹرول ہی کی سنئے اس کی عدم دستیابی نے سوچ کے کیسے کیسے دریچے کھولے ہیں وہ تمام لوگ جو جمعے کو آدھی چھٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میری طرح پٹرول پمپ پر قطاروں میں لگے اور جب باری آنے کی اُمید پیدا ہوئی یعنی پٹرول پمپ کی حدود میں داخل ہونا ہی چاہتے تھے کہ جمعہ کی آخری اذان شروع ہوئی کتنا اچھا ہوا تمام پٹرول کی امیدواروں کو کعبہ مرے پیچھے ہے کلیساء مرے آگے کی سمجھ ضرور آئی ہوگی اور پہلا مصرعہ انہوں نے کچھ یوں پڑھا ہوگا

پٹرول مجھے روکے ہے تو بلاتا ہے مجھے جمعہ

جمعہ میرے پیچھے ہے پٹرول مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے

جن لوگوں کو حالت جنگ کی سمجھ یا شعور نہیں جو 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے بعد پیدا ہوئے، انہیں کیا معلوم کہ جنگ کے دنوں میں بلیک آؤٹ ہوتا ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور پٹرول نایاب ہوجاتا ہے۔ مریض ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتے، لوگوں کو گھروں میں رہنے اور بغیر ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ہمیں وزیر پٹرولیم کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے عوام کو حالت جنگ کا مفہوم سمجھا دیا ہے اور یقیناً اس کے پیچھے اُن کی فراست ہوگی کہ اگر ہندوستان حملہ کردے تو میں اُس وقت کا ماحول پہلے ہی پیدا کرکے دکھا دوں۔ جناب عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو ہی وزیر پٹرولیم کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جو کام دھرنے نہ کرسکے وہ کام وزیر موصوف نے پورے ملک کا پہیہ جام کرواکے کردیا ہے۔ عوام جو جمہوریت کی بحالی کے بعد اپنے آپ کو حاکم سمجھنے لگے تھے وزیر صاحب نے آٹے، چینی اور سی این جی، ایل پی جی کی قطاروں میں لگنے والے عوام کی کمزور یادداشت کی وجہ سے اُسے بھی اس کی حیثیت یاد دلائی ہے کہ تم محکوم مجبور اور بے بس تھے اور ہو تمہاری حیثیت یہ ہے کہ تین تین چار چار گھنٹے قطاروں میں دھکے کھاؤ، مریضوں کو ہسپتالوں میں لے جانے کے لئے لوگوں کی منتیں کرو۔ امریکہ کو بھی وزیر موصوف کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ اس نے تو صرف مشرف کو یہ دھمکی دی تھی کہ پاکستان نے اگر افغان جنگ میں ہمارا ساتھ نہ دیا تو اُسے پتھر کے دور میں لے جائیں گے۔ وزیر پٹرولیم نے تو یہ دھمکی پوری کردی ہے اور آج پاکستان میں لوگ سائیکل، گھوڑا گاڑی پر سوارہوکر، لالٹینیں اور موم بتیاں جلا کر، لکڑیوں پر ہنڈیا پکا کر پتھر کے دور میں پہنچ چکے ہیں اور الزام امریکہ کی بجائے وزیر پٹرولیم کے سر آرہا ہے۔

وزیر اعظم کو بھی وزیر پٹرولیم کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اُن کی گڈ گورننس کا بھانڈا پھوڑا ہے اور اُن کو اُن کا حکم یاد کروایا ہے کہ وہ تمام وزراء کی کارکردگی کا جائزہ ہر ماہ لیا کریں گے۔ اس لئے میڈیا اور عوام کی ان باتوں پر بالکل کان نہ دھرا جائے کہ وزیر موصوف نااہل ہیں گیس پر بندش کے وقت انہیں یہ سوچنا کیوں بھول گیا کہ اب لوگ سی این جی کی بجائے پٹرول زائد استعمال کریں گے اور الٹا صارفین کا قصور گنوانے بیٹھ گئے۔ وزیراعظم کو اتنے بڑے بحران کے کامیابی سے انعقاد پر اور مجرمانہ غفلت پرشاہد خاقان عباسی کو معطل کرنے کی بجائے شاباش دینی چاہئیے کہ انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کئے لوگوں کو مشکل اشعار کا مفہوم سمجھایا، عوام کو ان کی حیثیت یاد کروائی، حالت جنگ کی ریہرسل کروائی اور اپوزیشن کا کام آسان کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی دیرینہ آرزو بھی پوری کی۔۔۔ اُن کا درجہ تو وزیراعظم کا ہونا چاہیے آخر احمقوں کے ملک میں سب سے بڑا احمق ہی تو اِس عہدے کا اہل ہے۔

مزید : کالم


loading...