کارکنوں کے قتل پر متحدہ کا سندھ اسمبلی میں ہنگامہ ،شدید نعرے بازی ،علامتی واک آﺅٹ

کارکنوں کے قتل پر متحدہ کا سندھ اسمبلی میں ہنگامہ ،شدید نعرے بازی ،علامتی ...

                                     کراچی(سٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کا کارکنان کی ہلاکت پر احتجاج،ایوان سے علامتی واک آو¿ٹ،سندھ میں امن و امان کا معاملہ فوج کے سپرد کرنے کا مطالبہ۔بدھ کو سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا تو ایم کیو ایم کے اراکین نے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی شروع کر دی جس کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ ایم کیو ایم کے ارکان کا موقف تھا کہ کہ ان کے کارکنان کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ایم کیو ایم کے ارکان نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا اور اسمبلی سے علامتی واک آو¿ٹ بھی کیا جو کچھ دیر بعد ختم کر کے واپس آگئے۔ ایم کیو ایم ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے،ظالموں جواب دو ظلم کا حساب دو جیسے نعرے بھی لگائے۔سپیکر کا کہنا تھاکہ بغیر تحریک پیش کیے بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ایم کیو ایم ارکان کے واک آوٹ پر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے کہاکہ ایم کیو ایم نے خود آپریشن کا مطالبہ کیا تو اب اس احتجاج کا کیا جواز ہے ۔۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید سردار احمد نے کہا کہ سندھ کی حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہمارے لوگوں کو مارا جا رہا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔سندھ میں لاءاینڈ آرڈر فوج کے حوالے کیا جائے۔خواجہ اظہارالحسن نے کہا ہے کہ سندھ میں حکومت کی رٹ نہیں ہے،صوبہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔سندھ اسمبلی کے باہر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ حکومت کو معلوم ہی نہیں کہ کراچی میں آپریشن ہورہاہے،سندھ میں حکومت کی رٹ نہیں ہے،کراچی سے کشمور تک اپنی آواز کو آگے بڑھاتے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں میرٹ کو نظراندازکیاجارہاہے،سندھ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ سندھ میں قتل عام روکنے کیلئے فوج کی ضرورت پڑی تو لے لی جائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...