شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کا عمل فروری میں شروع ہو گا ،عبدالقادر بلوچ

شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کا عمل فروری میں شروع ہو گا ،عبدالقادر ...

                               اسلام آباد(اے این این) وفاقی وزیر سرحدی امور عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کا عمل وسط فروری میں شروع،بے گھر افراد کے لئے100ارب روپے درکار ہونگے،اتنی رقم کا بندوبست حکومت کے لئے مشکل ہے،پوری قوم اور مخیر حضرات حصہ ڈالیں،دہشتگردوں کو کہیں چھپنے نہیں دیں گے،اصل ضرب عضب آپریشن گلی ،محلوں میں شروع ہوگا، دہشتگردوں کی نرسریوں کو ختم کرنا ہوگا،قبائلی علاقوں کے 98فیصد لوگ دہشتگردوں کو مسترد کر چکے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بھول کر متحدہوگئیں ۔عمران خان حکومت مخالفت میں انتہا کو پہنچ چکے تھے ۔سانحہ پشاور کے بعد انہوں نے دہشتگردی کے خلاف حکومت کو سپورٹ کیا ۔دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا ۔میڈیا دہشتگردوں کے خلاف قوم میں نفرت اجاگر کرے ۔میڈیا کے لوگ ذہنوں کو سنوار سکتے ہیں ۔میڈیا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج ، پولیس او رسول انتظامیہ کی مدد کرے ۔انہوں نے کہاکہ ایک آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان میں جاری ہے جبکہ اصل ضرب عضب پاکستان کے شہروں اور گلیوں میں ہوناہے جہاں دہشتگرد پھیلے ہوئے ہیں ۔وہ ہماری طرح ہیں ان کا لباس اٹھنا بیٹھناہے اور کارروائیاں بھی کرتے ہیں۔ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس کیلئے میڈیا کی مدد کی ضرورت ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کی نرسریوں کو ختم کرنا ہوگا۔فاٹا اورمختلف ایجنسیز میں دہشتگرد پلے ہیں اور وہاں کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں اب فاٹا کے 98فیصد لوگ دہشتگردوں کو مسترد کر چکے ہیں ۔دہشتگردوںکوقبائلی علاقوں میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہاکہ آئی ڈی پیز نے بڑی قربانی دی اپنا گھر بار چھوڑا ،کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کےسکول ہسپتال گھر دکانیں برباد ہوگئے ہیں ۔آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے فنڈز کی ضرورت ہوگی ۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کاعزم ہے کہ متاثرین کے نقصانات کو ہر صورت پورا کریں گے ۔آئی ڈی پیز کیلئے 100ارب روپے کی ضروت ہے ۔ یہ رقم متاثرین کی واپسی اور وہاں ان کے گھروں کو بنانے کیلئے 100درکار ہے، اتنی رقم کا بندوبست کرنا کوئی آسان کام نہیں،حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم بھی اس میں حصہ ڈالے ۔میڈیا اس حوالے سے قوم کومتحرک کرے ۔انہوں نے کہاکہ دھرنوں کی وجہ سے آئی ڈی پیز کا مسئلہ اجاگر نہیں ہوسکا۔جس طریقے سے قوم نے زلزلہ کے موقع پر مدد کی تھی اس طریقے سے آئی ڈی پیز پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔متاثرین کی بحالی کیلئے ہمیں میڈیا کی بھی ضرورت ہے

مزید : صفحہ اول


loading...