دہشتگردوں کو تلاش کر کے ختم کرنے کا حق رکھتے ہیں ،اوباما

دہشتگردوں کو تلاش کر کے ختم کرنے کا حق رکھتے ہیں ،اوباما

                                       واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی صدر بارک اوبامہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے سکول سے پیرس کی گلیوں تک ان افراد کے ساتھ کھڑے ہیں جو دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں، کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ان دہشت گردوں کو تلاش کرکے نشانہ بنانے اور ختم کرنے کا حق رکھتے ہیں اور ان کا نیٹ ورک توڑ کر ہی دم لیں گے۔بارک اوبامہ کے کانگریس سے خطاب میں ملکی حوالے سے جو تین اہم باتیں واضح طور پر سامنے آئی ہیں ان میں امیر ترین افراد اور بنکوں پرٹیکس میں اضافہ، تعلیم ، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے ذریعے متوسط طبقے کی مدد اور مخالف ری پبلکن پارٹی کے خلاف یلغار شامل ہیں۔ امریکی وقت کے مطابق منگل کی رات نو بجے کے قریب انہوں نے اس کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنا چھٹا روایتی سالانہ ” سٹیٹ آف یونین “خطاب کیا جس کی صدارت سینیٹ کے چیئرمین اور ملک کے نائب صدر جو بیڈن اور اکثریتی ری پبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہنر نے کی۔ یہ تقریر ایک گھنٹہ جاری رہی ۔اس خطاب میں بارک اوبامہ نے اپنے عہد صدارت کے باقی دو سالوں کے ایجنڈے کے خاص خاص نکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں جو کانگریس وجود میں آئی ہے اس میں مخالف ری پبلکن پارٹی نے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے یہ ذکر کرنے کی بجائے الٹا طنز کی کہ وہ دو مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں اور وہ جو آئندہ دو سال کا منصوبہ بے نقاب کر رہے ہیںوہ ان کا انتخابی ایجنڈا نہیں ہے۔ صدر اوبامہ نے چند ہفتوں تک اپنی انتظامیہ کی طرف سے پیش ہونے والے بجٹ کا خاکہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مخالف ری پبلکن پارٹی کی اکثریت والی کانگریس سے محاذ آرائی جاری رکھی اوریہ پیغام دیا کہ وہ اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے یلغار کی پالیسی اپنائیں گے۔ صدر اوبامہ کی تقریر کا زیادہ زور داخلی معاملات اور خصوصاً معیشت پر رہا ۔ انہوں نے قوم کو نوید دی کہ ملک پر سے بحرانوںکا سایہ گزر گیا ہے اور ان کی کامیاب پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور ایک تجربے کی تیز ترین ترقی گزشتہ برس ہوئی ہے۔ بیرونی محاذ پر انہوںنے عراق کے بعد افغانستان میں جنگ کے کامیاب اختتام کا کریڈٹ لیا۔ صدر اوبامہ نے جنگوں سے باہر نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر گوانتا ناصوبے کی جیل کو بند کرنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا اورکانگریس کو متنبہ کی کہ وہ اس سلسلے میں رکاوٹیں نہ ڈالے۔ صدر اوبامہ نے نام نہاد ”اسلامی مملکت “کے بڑھتے ہوئے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے خاتمے کے لئے عراق اور شام میں مزید امریکی فوجی بھیجنے پڑیںگے۔ انہوںنے اس سلسلے میں کانگریس سے مدد کا مطالبہ کیا۔ صدراوبامہ نے کیو با سے تعلقات بہتر بنانے کا بھی کریڈٹ لیا۔ ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے پر جاری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اس سلسلے میں اہم ڈپلومیٹک کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کانگریس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اس مرحلے پر ایران پر مزید اقتصادی پابندیاںلگائیںتو اس سے انتظامیہ کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ یقینا کانگریس کی طرف سے پابندیوں کے اقدام کو ویٹو کر دیںگے۔صدراوبامہ نے زیادہ امیر خاندانوں اوربڑے بنکوں پر آئندے عشرے میں320ارب ڈالر کے ٹیکس لگانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر ”کپیٹل گین“ ٹیکس کی شرح بڑھا کر 28فیصد کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اضافی آمدنی متوسط طبقے اور نسبتاً کم آمدنی والے طبقے کو تعلیم ،صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے ذریعے سہولتیں فراہم کرنے پر خرچ ہوتی۔تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت امریکہ میں بارہوں جماعت تک ہائی سکول کی تعلیم مفت ہے اب ملک بھر میں مفت تعلیم میں مزید دو سال کا اضافہ کردیا جائیگا اور اس کا دائرہ کمیونٹی کے بچوں میں انڈر گریجو یٹ ڈگری تک بڑھ جائے گا صدر اوبامہ نے معیشت میں بہتری کے بعد ملازمتوں میں اضافے کا کریڈ ٹ لیا انہوں نے میڈیکل انشورنس کی ااپنی پالیسی کو جاری رکھنے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لئے کم از کم اجرت کی شرح بڑھا نے اور دیگر فلاحی سہولتوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا انہوں نے فخر سے بتایا کہ اب بے روز گار افراد کی شرح 5.6فیصد ہو گئی ہے انہوں نے خوشخبری دی کہ کامیاب میڈیکل ریسرچ کے نتیجے میں ہم کینسر اور ذیا بطیس کی بیماریوں کے مکمل علاج کے قریب پہنچ چکے ہیں صدر اوباما نے ایک طرف ری پبلیکن پارٹی کو ” بہتر سیاست “ کر نے کی تلقین کی اور دوسری طرف دو مرتبہ ویٹو کا لفظ استعمال کیا ۔ایک مرتبہ ایران کے حوالے سے اور دوسری مرتبہ امیگریشن کے حوالے سے ۔انہوں نے خبر دار کیا کہ انہوں نے لاکھوں غیر ملکی تارکین وطن کو معافی دینے کا جو انتظامی ایکشن لیا تھا اگر اس کے خلاف کوئی بل منظور کیا گیا تو و ہ اسے ویٹو کر دینگے ۔صدر اوبامہ نے اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بتایا کہ ہم اپنی فوجی قوت کو مضبوط ڈپلو میسی کے ہمرا ہ ملاکر چل رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ہم پاکستان کے سکول سے پیر س کی گلیوں تک ان تمام افراد کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں جو دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں ہم ان دہشت گردوں کو تلاش کر کے نشانہ بنانے اور ختم کر نے کا حق رکھتے ہیں اور ہم ان کے نیٹ ورکس توڑ کر ہی دم لیں گے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...