غیرت کے نام پر قتل کا اطلاق نہیں ہو گا ،قائمہ کمیٹی نے 3ترمیمی بلوں کی منظوری دیدی

غیرت کے نام پر قتل کا اطلاق نہیں ہو گا ،قائمہ کمیٹی نے 3ترمیمی بلوں کی منظوری ...

                                               اسلام آباد(مانٹیرنگ ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے غیرت کے نام پرقتل پر دیت کے اطلاق کے خاتمے کی ترمیم ، دوران حراست ہلاکتوں،تشدد اور ریپ کی روک تھام اور موٹر وہیکل ترمیمی بل متفقہ طورپر منظور کرلئے، دوران حراست ریپ کرنے والے کو عمر قید اور 30لاکھ جرمانہ جبکہ تشدد کرنے والے کو 5 سے 10 سال کی قید اور10 لاکھ جرمانہ کی تجویز دی گئی ہے، بلوچستان سے اغواءہونے والی دو چیکوسلواکین خواتین کے معاملہ پر ہوم سیکرٹری بلوچستان کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا، ڈی جی پاسپورٹ محمدصفدر کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ رواں سال مئی تک مینویل پاسپورٹ منسوخ کرتے ہوئے دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں سے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجراءشروع کردیا جائے گا۔بدھ کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل سعود عزیز نے بتایا کہ 13 مارچ 2013ءکو ایران کے راستے پاکستان میں دو چیکوسلواکین خواتین داخل ہوئیں جو کوئٹہ سے ہوتے ہوئے بھارت جانا چاہتی تھیں ان خواتین کو بس سے نامعلوم افراد نے اتار کر اغواءکرلیا، بس ڈرائیور کے بیان کے مطابق اغواءکار ایف سی کی وردیوں میں ملبوس تھے جو ان خواتین کو بس سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔ جے آئی ٹی بھی ان خواتین کا سراغ لگانے میں ناکام رہی اور اب ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوئی ہے ۔ چاغی کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے کمیٹی کو ارسال کیے گئے تحریر ی بیان میں بتایا گیا ہے کہ چیکوسلواکین خواتین سے متعلق انٹیلی جنس اداروں کے پاس کوئی معلومات نہیں اور یہ معاملہ لیویز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں غیر ملکی خواتین کے اغواءکے معاملہ پر ہوم سیکرٹری بلوچستان کو طلب کرلیا۔ کمیٹی نے سینیٹر صغریٰ امام کی طرف سے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی روک تھام کیلئے پیش کی گئی ترمیم کو متفقہ طورپر منظورکرلیا، ترمیم میں غیرت کے نام پر قتل کو دیت سے آزاد کرایا گیا ہے اور کمیٹی کی طرف سے منظور کردہ ترمیم کے مطابق دیت کا اطلاق غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات پر نہیں ہوگا۔ کمیٹی نے فرحت اللہ بابر کی طرف سے دوران حراست ہلاکتوں،تشدد اور ریپ کی روک تھام سے متعلق پیش کردہ بل پر تفصیلی بحث کے بعد اسے متفقہ طورپر منظور کرلیا۔ کمیٹی نے سینیٹر طاہر حسین مشہدی کی طرف سے پیش کردہ موٹروہیکل ترمیمی بل2012ءکو بھی متفقہ طورپر منظور کرلیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...