ایڈووکیٹ جنرل سے عدلیہ کے بجٹ سے متعلق پنجاب حکومت کے اختیارات پر معاونت طلب

ایڈووکیٹ جنرل سے عدلیہ کے بجٹ سے متعلق پنجاب حکومت کے اختیارات پر معاونت طلب

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی ملازمین کو جوڈیشل اور ایڈہاک الاؤنس فراہم نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پرایڈووکیٹ جنرل سے عدلیہ کے بجٹ سے متعلق پنجاب حکومت کے اختیارات پر معاونت طلب کر لی ہے۔جسٹس سید منصور علی شاہ نے عدالتی ملازمین کو جوڈیشل اور ایڈہاک الاؤنس فراہم نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکیل اظہرصدیق اور میاں بلال نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ اوردیگر صوبوں کی ہائیکورٹس کو جوڈیشل اور ایڈہاک الاؤنس ادا کر دیا گیا ہے مگر لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے ملازمین کو یہ الاؤنس نہیں دیا جا رہا ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حنیف کھٹانہ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے عدالت میں موقف اختیا رکیا کہ آئینی طور پر کوئی صوبائی حکومت وزیر اعظم کے حکم کی پابند نہیں ہے، پنجاب حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے ، عدالتی ملازمین کو الاؤنسز کی مد میں رقم زیادہ ہے جو یکمشت ادا نہیں کی جا سکتی، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر عدلیہ کو اپنے بجٹ کے لئے فنڈز کی ضرورت پڑے تو حکومت کو اس پر فیصلہ کرنے کاکس حد تک اختیار ہے ؟جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ اس نقطے پر حکومت سے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے جس پر عدالت نے مزید سماعت 26 جنوری تک ملتوی کر دی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...