کسی کو عوام سے جینے کا حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہائیکورٹ

کسی کو عوام سے جینے کا حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہائیکورٹ

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پٹرول بحران کے خلاف دائردرخواستوں کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ کسی کو عوام سے جینے کا حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پٹرول بحران کی وجہ سے عوام کے حقوق بری طرح متاثر ہوئے ہیں، پٹرول بحران کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے ، یہ ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس سید منصور علی شاہ نے حکومت سے 24گھنٹوں کے اندر پٹرول کی دوسالہ طلب و رسد کاریکارڈ طلب کر لیاہے جبکہ حکم جاری کیا ہے کہ ممبر اوگرا اور وزارت پٹرولیم کے جوائنٹ سیکرٹری آئندہ تاریخ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔صفدر شاہین پیرزادہ اور گوہر نواز سندھو ایڈووکیٹس کی اس ضمن میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں عرفان نے موقف اختیار کیا کہ پٹرول بحران پیدا ہونے کی وجہ طلب میں اچانک اضافہ ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پٹرول کی طلب ساڑھے 12 ہزار ٹن سے بڑھ کر 40ہزار ٹن ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا، اندازہ نہیں تھا کہ بحران اس حد تک چلا جائے گا جس پر عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں حکومت کو پٹرول بحران کا علم ہی نہیں تھا، پٹرول بحران کی وجہ سے عوام کے حقوق بری طرح متاثر ہوئے ہیں، بچے سکول نہیں جا پا رہے جبکہ ملازمت پیشہ افراد کو مشکلات کا سامنا ہے،عدالت نے مزید قرار دیا کہ پٹرول بحران کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے، آخر پتہ تو چلے کہ کس کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہواہے، کسی کو عوام سے جینے کا حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عدالت نے مزید سماعت آج22جنوری تک ملتوی کردی ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...