انٹی کرپشن کی کاروائیاں چھوٹے ملازمین تک محدود ،افسران سے مک مکا

انٹی کرپشن کی کاروائیاں چھوٹے ملازمین تک محدود ،افسران سے مک مکا

لاہور(عامر بٹ سے)صوبہ بھر میں بدعنوانی کی روک تھام کیلئے قائم انٹی کرپشن کی کاروائیاں چھوٹے ملازمین تک محدود ہو کر رہ گئیں ہیں ،میگا کرپشن کیسز مک مکااور اپنے مفادات کیلئے وقف کر دیئے گئے ،متاثرین کی تذلیل کرتے ہوئے سرعام انتظامی سیٹوں پر تعینات کرپٹ سرکاری ملازمین محکمہ انٹی کرپشن کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ،رشوت وصولی کے خاتمہ کیلئے قائم کئے جانے والے محکمے کے ملازمین اور افسران کی کثیر تعداد کو رشوت کی لت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،سائلین کو در بدر کی ٹھوکریں اور طفل تسلیاں رہ گئیں ،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق محکمہ انٹی کرپشن میں آشیانہ ہاؤسنگ سکیم پروجیکٹ میں کروڑوں روپے کی ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا تاہم با اثر سیاست دانوں اور پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے پر فائل دبا دی گئی،مذکورہ فائل پر تحقیقات کرنے والے بعض انٹی کرپشن ملازمین کے تبادلے بھی کئے جاچکے ہیں،اس طرح رنگ روڈ کی حدود میں آنے والی زمینوں کو ایکوائر کرنے کے دوران کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں،ریونیو سٹاف سمیت محکمہ ہائی وے کے انتظامی افسران کی اکثریت کے خلاف 6سالوں کے دوران تاحال کوئی کاروائی نہ کی جاسکی ہے،ایڈیشنل کمشنر کی ذمہ داری میں کی جانے والی ایف آئی آر بھی سرخ فیتے کی نذ ر ہوگئیں،ایجوکیشن ٹاؤن کے نام پر پنجاب بھر کے اساتذہ کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹنے والے مافیا سے نہ ریکوری کی جاسکی ہے اور نہ ہی اس میں ملوث سرکاری افسران و ملازمین کا تعین کیا جا سکا،جس سے میگا کرپشن کیس بھی التواء کا شکار ہیں، لیکوڈ یشن بورڈ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں سے مرکزی ملزم سابق چیئرمین بریگیڈیئر فاروق مان کے خلاف درج کئے جانے والے مقدمات کی فائلیں بھی دبا دی گئیں ہیں ایم این اے غلام سرور کی جعلی ڈگری کیس ،پولیس بلڈنگز کی تعمیرات میں ناقص میٹریل کے استعمال سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کے گھپلوں اور شہر میں غیرقانونی طور پر قائم ہائی رائز عمارتوں کے مالکان کے خلاف درج کئے جانے والے مقدمات بھی منظر عام سے اوجھل ہو چکے ہیں ،رجسٹریشن برانچوں میں 50کروڑ سے زائد سرکاری زمینوں کا غبن کر نے والے مقدمات کی تاحال گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے اور فائل جوں کی توں حالت میں پڑی ہے اس طرح پی آئی اے کوآپریٹو سوسائٹی ،باغ ارم کوآپریٹو سوسائٹی ،ملٹری اکاؤنٹس کو آپریٹو سوسائٹیوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں جن میں محکمہ کوآپریٹو کے متعدد افسران ملازمین اور سوسائٹی انتطامیہ کی کثیر تعداد شامل ہیں وہ کیسز بھی ردی کی ٹوکری میں تبدیل ہوچکے ہیں ،ٹریفک وارڈنز کی بھرتی سمیت محکمہ آبپاشی میں 150سے زائد جعلی بھرتیوں اور حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائیاں سردخانے کی نذر ہو گی،سوتر مل کی 400کنال سرکاری اراضی کی بند ر بانٹ اور زینت لیبارٹری اراضی کے جعلی پی ٹی ڈی کیس بھی ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں ،محکمہ انٹی کرپشن میں آنے والے متاثرین کی بڑی تعداد انٹی کرپشن میں لوٹ مار پالیسی اور ڈیپوٹیشن پر آنے والے ملازمین کی رشوت وصولی پریکٹس دیکھ کر توبہ توبہ کر اٹھی ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ انٹی کرپشن میں انوسٹی گیشن آفیسروں کے ساتھ منسلک سٹاف ناصر ف متاثرین نے بھی پیسے بٹوررہا ہے بلکہ شہریوں کی جانب سے مہیا کئے جانے واے ثبوتوں کی فوٹوکاپیاں ملزمان تک پہنچا کر وہاں سے اپنی الگ دیہاڑی لگا رہا ہے ،یہاں پر مانیٹرنگ کا سسٹم غیر فعال ہونے ہونے کے باعث انٹی کرپشن ملازمین نے اپنا (سائیڈ بزنس )چلا رکھاہے ،تاہم انٹی کرپشن لاہور ریجن حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ انٹی کرپشن کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد تما م الزامات کے جواب مل جائے گی محکمہ انٹی کرپشن میں ریکارڈ کمپیوٹرائز ہو رہا ہے سائلین کو 20سے 30 دنوں میں انصاف مہیا کیا جارہا ہے انوسٹی گیشن آفیسروں کمی کے باوجود بھی بروقت انصاف مہیا کیا جارہا ہے الزمات بے بنیاد ہیں، سائلین الزامات ثابت کریں ،محکمہ انٹی کرپشن میں ایسے ملازمین کی کوئی گنجائش نہیں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...