بے سہارا افراد کی خدمت صحیح معنوں میں انسانیت کی معراج ہے، چودھری سرور

بے سہارا افراد کی خدمت صحیح معنوں میں انسانیت کی معراج ہے، چودھری سرور

گوجرانوالہ،کامونکے،سادھوکی (بیورورپورٹ، نمائندگان) گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ بے سہارا اور معاشی مسائل کا شکار افراد کی فلاح و بہبود ہی صحیح معنوں میں انسانیت کی خدمت اور معراج ہے ہم تعلیمات نبوی ؐ کی روشنی میں بے سہارا اور دکھی انسانیت کی خدمت میں فعال کردار اداکر کے فلاح دارین حاصل کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سلام میرج ہال کامونکی میں رحمانی برادری ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام50 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ کمشنر گوجر انوالہ ڈویژن شمائل احمد خواجہ ‘ نذیر خاں سواتی‘ اسسٹنٹ کمشنر کامونکی محسن بلال‘ ٹی ایم او کامونکی محمداسلم گھمن‘ چیئرمین رحمانی ویلفیئرٹرسٹ کامونکی سیٹھ عبدالرب عدنا ن ‘مرکزی صدر رحمانی ویلفیئر ٹرسٹ سیف اللہ ضیاء‘ مرکزی صدر طارق محمود طارق‘ ‘ میاں عبدالشکور‘ محمداصغر پہلوان ‘ سیٹھ محمد ارشد‘ محمد اقبال چودھری‘ محمد عابد صدیق‘ سماجی کارکن آصف اقبال دھدرا‘ سیٹھ خالد ‘ معززین علاقہ ‘دولہا و دلہنوں کے علاوہ ہزاوں کی تعداد میں مرد و خواتین نے تقریب میں شر کت کی۔ گورنر پنجاب چودھری سرور نے ازدواجی بندھن میں بندھنے والے جوڑوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ سلیمانی ویلفیئرٹرسٹ نے سنت نبویؐ کا عملی پرچار کرکے فلا حی اقدام کی روشن بنیاد قائم کی جوکہ معاشرے کے تمام مسلمانوں کیلئے قابل تقلید روائت ہے اورصوبہ بھر میں ایسی روایات روز روش کی طرح عیاں ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ گروپ بندی اور فرقہ واریت سے ہٹ کر ایسے فلاحی اقدامات کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان کے تمام مسلمانوں کو ایسے فلاحی کاموں کے لئے مشترکہ جدو جہد کرنی چاہیئے اس سے صوبائی تعصبات کا خاتمہ ہو گا اور خدا کی رضا بھی حاصل ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل جل کر ملکی و قومی سلامتی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہو گا کیونکہ تمام مسائل کا حل متحد ہونے میں مضمر ہے۔انہو ں نے کہا کہ آج پاکستان جن مسائل کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات اور حضورؐ کے راہنما اور سنہری اصولوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے مزیدحضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کے نقش قدم پر چلنا چھوڑ دیا ہے اور ان کے فرمان کو بھلا کر مسلمان مسلمان کو قتل کر رہا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ سانحہ پشاور انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ فعل تھا تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے انہو ں نے کہا کہ 16 دسمبر کو جہاں ظلم و بربریت کی داستان لکھی گئی تھی وہاں سکول کے اساتذہ و عملہ نے شجاعت و بہادری کی داستاں بھی رقم کی مزید اعتزاز احسن نے ہنگو میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے دہشت گردوں سے سکول کے دو ہزار بچوں کی جانیں بچالیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم میں اگر یہی جذبہ معجزن رہا تو دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کر دیں گے آج ہم دولت سے محبت چھوڑ کر انسانوں سے محبت شروع کر دیں اور تعلیمات نبوی ؐ پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہوں تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں اور فلاح دارین بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

چودہری سرور

مزید : صفحہ آخر


loading...