ہائیکورٹ، دہشتگردی مقدمات میں 4مجرمان کی سزائے موت ، ایک مجرم کی عمر قید برقرار

ہائیکورٹ، دہشتگردی مقدمات میں 4مجرمان کی سزائے موت ، ایک مجرم کی عمر قید ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مختلف بنچوں نے 5الگ الگ مقدمات میں دہشت گردوں کومتعلقہ عدالتوں سے ملنے والی موت اور عمر قید کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے ان کی اپیلیں خارج کردیں۔عدالت عالیہ نے انسداد دہشت گردی کی متعلقہ عدالتوں سے مجرموں کو ملنے والی سزائے موت کی بھی توثیق کردی ہے ۔پہلے مقدمہ میں جسٹس عبدالسمیع خان اور جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تہرے قتل کے مجرم گوجرانوالہ کے محمد حسین عرف کاکاکی اپیل مستر کرتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ملنے والی سزا ئے موت کی توثیق کردی ۔محمد حسین عرف کاکا نے لڑکی کا رشتہ نہ دینے پر 2000 ء میں سلمیٰ بی بی ، ابراہیم اوراصغرکو قتل جبکہ اشرف کو زخمی کردیا تھا ۔ اس مقدمہ میں 2001میں انسداد دہشت گردی کی عدالت گوجرانوالہ نے محمد حسین عرف کاکا کو تین افراد کے قتل کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا جس کے خلاف اس نے اپیل دائر کی تھی۔جسٹس عبدالسمیع خان اور جسٹس صداقت علی خان پر مشتمل اسی ڈویژن بنچ نے ایک دوسرے مقدمہ میں گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے صہیب احسان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی سے ملنے والی دوبار سزائے موت برقرار رکھی ۔2008میں مجرم صہیب احسان نے بچوں کی لڑائی کی رنجش پر نوید اور اکبر کوفائرنگ کر کے قتل کردیا تھاجس پر فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسے 2011میں دو مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا تھا ۔مجرم کا موقف تھا کہ اس کے شریک ملزم نعیم الحق کو بری کردیا گیا ہے ،ان ہی شہادتوں کی بناء پر اسے بھی بری کیا جائے اور یہ کہ اپیل کنندہ ایم فل زوالوجی کا طالب علم ہے اور اس کے خلاف سابقہ کوئی پولیس ریکارڈ بھی موجود نہیں ۔تیسرے مقدمہ میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس چودھری مشتاق پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دہشت گردی کے مقدمہ کے مجرم مشتاق احمد کی اپیل خارج کرتے ہوئے اسے ماتحت عدالت سے ملنے والی سزائے موت کی تصدیق کردی ،مجرم نے جہانیاں ضلع خانیوال میں 3پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا جس پر ملتان کی انسداددہشت گردی کی عدالت نے نومبر 2011 میں اسے 4مرتبہ سزائے موت اور 6لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی ۔ دہشت گردی کے چوتھے مقدمہ میں جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس چودھری مشتاق پر مشتمل اسی ڈویژن بنچ نے ڈی جی خان کچہری میں زیر حراست ملزم قاسم کو فائرنگ کر کے قتل کرنے والے مجرم محمد فاروق کی اپیل خارج کرتے ہوئے اسے ڈی جی خان کی انسداددہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ملنے والی دومرتبہ سزائے موت کا حکم برقرار رکھا ۔مجرم کو فروری 2013 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دوبار سزائے موت کے ساتھ ساتھ 2لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی ۔دہشت گردی کے پانچویں مقدمہ میں جسٹس سید افتخار حسین شاہ اور جسٹس ذوالقرنین سلیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے خودکش جیکٹ سمیت گرفتار ہونے والے کالعدم تنظیم کے رکن خالد سیف اللہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے اسے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کاعمر قید بامشقت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔کالعدم تنظیم کا رکن خالد سیف اللہ2008میں ایوب پارک راولپنڈی کے علاقے سے خودکش جیکٹ سمیت گرفتار ہوا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کیا اور ملزم کو راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...