پی ایس او کا مالی بحران سے نکلنے کیلئے نادہندگان کیساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

پی ایس او کا مالی بحران سے نکلنے کیلئے نادہندگان کیساتھ سختی سے نمٹنے کا ...

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)پاکستان سٹیٹ آئل نے مالی بحران سے نکلنے کے لیے نادہندگان سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی ایس او نے ڈیمرج (demurrage)چارجز اور کلیمز کی مد میں انشورنس کمپنیوں اور ٹھیکیداروں سے دو سو 40ارب روپے سے زائد وصولی کرنا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ملک میں جاری پٹرول کے بحران کی ایک وجہ پی ایس او کا مالی بحران ہے۔ پی ایس او ایک طرف خود دو سو ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہے ۔ تو دوسری طرف کمپنی نے ایک مختلف سرکاری سیکٹرز سے 5سو ارب روپے سے زائد کی وصولی کرنا ہے۔لیکن سرکاری اداروں سے وصولی کے معاملات سے ہٹ کرکمپنی نے ڈیمرج (demurrage) چارجز اور کلیمز کی مد میں مختلف ٹھیکیداروں اور انشورنس کمپنیوں سے بھی دو سو 40ارب سے زائد کی ریکوری کرنا ہے۔ذرائع سے معلوم ہواہے کہ پی ایس او مقررہ وقت میں ڈلیوری نہ کرنے والے ٹھیکیداروں سے ڈیمرج چارجز وصول کرتی ہے۔تاہم مختلف ٹھیکیدار وں سے پی ایس او نے ایک سو 80ارب روپے ڈیمرج چارجز کی مد میں وصول کرنا ہیں۔ اسی طرح دوران ترسیل شپمنٹ کے نقصان پر کمپنی ٹھیکیدار سے کلم وصول کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ جبکہ ٹھیکیدار ایسے کلیمز کی ادائیگی کے لیے نیشنل انشورنس کمپنی جیسی انشورنس کمپنیوں سے معاہدہ کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق پی ایس اونے ٹھیکیدار کے ذریعے سینکڑوں ٹرک افغانستان بھجوائے ۔ جن میں سے لگ بھگ دو سو ٹرکوں کے عوض80کروڑ روپے کے کلیمز داخل کروائے گئے۔ان میں زیادہ تر کلیمز مینگل برادر نامی کمپنی کے متعلق تھے۔معلوم ہواہے کہ پی ایس او کی انتظامیہ نے مالی بحران سے نکلنے کے لیے نادہندگان سے سختی سے نمٹنے اور ریکوری کاعمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے پی ایس اوکے ترجمان کا کہناتھاکہ نادہندگان سے ریکوری کی جاری ہے۔ اور موجودہ صورتحال میں نادہندگان کو کسی قسم کی چھوٹ نہیں دی جاسکتی اور ریکوری کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...