سرگودھا میں غیر قانونی طور پر کروڑں کے ٹینڈر جاری

سرگودھا میں غیر قانونی طور پر کروڑں کے ٹینڈر جاری

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)سی اینڈڈبلیو میں سنگین نوعیت کے بے ضاطگی بے نقاب ہوگئی۔سرگودھا میں تخمینے اور تکنیکی منظور ی کے بغیر ہی غیر قانونی طورپر کروڑوں روپے کے ٹینڈر جاری کردیئے۔ایکسئین ، ایس ای اور چیف انجنئیر الزامات کی زد میں آگئے ۔ ذمے داری ایکدوسرے پر ڈالنے لگے۔معلوم ہواہے محکمہ مواصلات وتعمیرات میں ٹینڈروں کی مد میں بے ضابطگی ان دنوں معمول بن گئی ہے۔ایکسئین ، ایس ای اور چیف انجنئیر قواعد وضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے چہیتے ٹھیکیداروں کو نوازتے نظر آتے ہیں۔حال ہی میں اس کی ایک مثال سرگودھا میں سامنے آئی ہے۔ جہاں ایکسئین بلڈنگز سرگودھا حسنین شاہ نے تخمینے اور تکنیکی منظوری کے بغیر ہی سرگودھا میں ایڈیشنل سیشن ججوں کی 6اور سول ججوں کی 4عدالتوں ا ور ججوں کے لیے 6رھائش گاہوں کے دو الگ الگ منصوبوں کے ٹینڈر الاٹ کرنے کے لیے اخبار میں اشتہار دیدیا ۔ اور 19جنوری تک ٹینڈر وصول بھی کرلیے ۔ ذرائع کے مطابق عدالتی دفاتر کی تعمیر کے 4کروڑ 74لاکھ روپے کے اور ججوں کی رھائش گاہوں کے 3کروڑ 70لاکھ کے ان منصوبوں کے ٹینڈر آج اوپن کئے جارہے ہیں۔ جن میں ٹھیکیداروں نے ڈی این آئی ٹی اور تکنیکی منظوری کے بغیر ہی ٹینڈر جمع کروائے ۔ جو خلاف ضابطہ و قانون ہے۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے چیف انجنئیر بلڈنگز ساوتھ پنجاب تنویر انور نے تمام تر ذمے داری متعلقہ سپرنٹنڈنٹ انجنئیر پر ڈالتے ہوئے خود کو بری الذمہ قرار دیا۔ حالانکہ مذکورہ دونوں ٹینڈر کی تکنیکی منظوری دینے کا حتمی اختیار چیف انجنئیر تنویر انور کو ہی حاصل ہے۔ کیونکہ ٹینڈر وں کی مالیت 3کروڑ سے زائد ہے۔ لیکن تنویر انور کا کہنا ہے کہ ان پر کسی قسم کی ذمے داری عائد نہیں ہوتی۔ دوسری طرف سپرنٹنڈنٹ انجنئیر ھائی ویز سرکل سرگودھا شفقت حسین بٹرجو کہ ایس ای بلڈنگز سرگودھا کے اضافی فرائض انجام دے رہے ہیں کا کہناتھا کہ بہت سے معاملات میں انہیں خلاف ضابطہ چلنا پڑتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ اس وقت پنجاب میں بہت سے منصوبے ٹینڈر کے بغیر ہی چل رہے ہیں جو کہ غیر قانونی عمل ہے ۔ لیکن ایسا ہورہا ہے۔ البتہ ایکسئین بلڈنگز سرگودھا حسنین شاہ کا کہناتھا کہ دونوں منصوبوں کی تکنیکی منظوری حاصل کی جاچکی ہے۔اور تکنیکی منظوری و ڈی این آئی ٹی کے بعد ہی اخبار میں اشتہار دیا گیا ہے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔اور ٹی ایس کے بغیر ہی ٹینڈر اوپن کرنے جارہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...