شیخ رشید نے متروکہ املاک کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے: قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

شیخ رشید نے متروکہ املاک کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے: قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
شیخ رشید نے متروکہ املاک کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے: قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کو آگاہ کیا گیا کہ عوامی مسلم لیگ کے سر براہ رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد نے لال حویلی کے ساتھ متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ملک بھر میں متروکہ وقف املاک کی زمینوں پرناجائز قبضہ کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چاروں صوبوں سے بورڈکی اراضی اور امارات پر ناجائز قبضے کی رپورٹ ما نگتے ہوئے حکو مت کو ہدایت کی کہ بورڈ کے تما م اثاثوں پر قبضے ختم کرا کے اسے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال میں لانے کے اقدامات کئے جائیں۔

کمیٹی نے متروکہ وقف املاک کی لیز پر دی جانے والی زمینوں کا کرایہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق بڑھا نے کی بھی ہدایت کردی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر حمداللہ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔مقامی اخبار نوائے وقت کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ کے سربراہ صدیق الفاروق نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہو ئے انکشاف کیا کہ شیخ رشید نے لال حویلی کیساتھ متروکہ املاک کے پانچ مرلہ کے پلاٹ اور چھ کمروں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور کرایہ داروں کو بھگا دیا گیا ہے۔ ڈی آئی خان شہر کے دل میں 65 کنال زمین پر قبضہ ہے اور انکشاف کیا کہ ڈیڑھ کینال کمرشل جگہ کا کرایہ صرف 750 روپے ماہانہ ہے۔ ننکانہ صاحب کی 19 ہزار ایکٹر زرعی زمین کا ٹھیکہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق نہیں۔

کراچی میں گردوارہ بنانے کیلئے زمین فراہم کی جائیگا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ چھ سالوں میں 2 لاکھ 71ہزار سے زائد اقلیتی زائرین پاکستان آئے راجہ رنجیت سنگھ کی برسی سمیت ہندوں اور سکھوں کے چھ تہواروں پر انہیں پاکستان آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ پنجہ صاحب کی نہر کے نزیک شمشان گھاٹ بنایا جا رہا ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ بورڈ کی پنجاب میں 11 ہزار 279، سندھ میں 3 ہزار 144، کے پی میں 1231 اور بلوچستان میں 195 عمارتیں ہیں اسی طرح پنجاب میں 85 ہزار 331 ایکڑ، سندھ میں 21 ہزار 735، کے پی میں 2 ہزار 301 اور بلوچستان میں 2 ایکٹر اراضی بورڈ کی ملکیت ہے۔

 رواں سال کی پہلی ششماہی میں 1 ارب 46 کروڑ 17 لاکھ روپے سے زائد آمدن ہوئی جو ایک ریکارڈ ہے۔ بورڈ نے کاروباری اداروں اور بینکوں میں 3 ارب 30 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی۔ چیئرمین سینیٹر خافظ حمد اللہ نے کہا کہ متروکہ املاک کی زمینیں بلوچستان کی صوبائی حکومت کے حوالے نہ کی جائیں۔ صوبائی وزراءنے بہت سی سرکاری زمینوں پر پہلے ہی قبضہ کر لیا ہے۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا متروکہ املاک کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جائیں۔

وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک متروکہ املاک کا معاملہ مشرکہ مفادات کونسل میں نہیں لے جایا جا رہا۔ اس بار حج پالیسی کے نفاذ سے قبل پارلیمانی کمیٹیوں سے منظوری لی گئی۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں متروکہ املاک کی نامعلوم زمینوں، زیر قبضہ جائیداوں، حکومت کی آمدن کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔

مزید : اسلام آباد


loading...