مشرف میڈکل کے لیے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوئے

مشرف میڈکل کے لیے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوئے
مشرف میڈکل کے لیے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوئے

  


کراچی (ویب ڈیسک) حکومت بلوچستان کی درخواست پر بنائے گئے سرکاری میڈیکل بورڈ میں سابق صدر جنرل (ر پرویز مشرف پیش نہیں ہوئے جس کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے دوبارہ طبی معائنے کے لئے میدیکل بورڈ تشکیل دئیے جانے کا امکان ہے۔ مقامی اخبار نئی بات کے مطابق محکمہ صحت نے سروسز ہسپتال میں پرویز مشرف کے میڈیکل بورڈ بورڈ کر ہائی رسک قرار دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ کے ارکان کو پی این ایس شفاءہسپتال یا سابق صدر پرویز مشرف کے گھر جاکر طبی معائنے کرنے کا کہا ہے۔

اس سے قبل حکومت بلوچستان کی درخواست پر محکمہ سندھ نے سابق صدر پرویز مشرف کو طبی معائنے کے لئے سندھ گورنمنٹ سروسز ہسپتال میں ہونے والے سرکاری میڈیکل بورڈ پیش ہونے کی درخواست کی تھی۔ بدھ کوسروسز ہسپتال میں صبح 11 بجے میڈیکل بورڈ کے سربراہ آرتھو پیڈک سرجن پروفیسر انیس بھٹی، سیکرٹری ڈکٹر محمد توفیق چوہدری، پروفیسر جنید اشرف، پروفیسر مراتب علی، پروفیسر طارق محمود، ضیاءالدین ہسپتال کے ڈاکٹر امتیاز ہاشمی، آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹر لکھنا والا، پروفیسر خالدہ سومرو، پروفیسر نواز لاشاری، ڈاکٹر خالد محمود اور ڈاکٹر رخشندہ جبیں سروس ہسپتال پہنچ گئے اور دوپہر ساڑھے 12 بجے تک سابق صدر کا انتظار کیا گیا جس کے بعد میڈیکل بورڈ ملتوی کردیا گیا اور بورڈ کے ارکان ہسپتال سے روانہ ہوگئے۔

 بورڈ کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد توفیق نے سیکرٹری صحت سندھ کو تحریری طور پر سابق صدر پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے کیا طلاع دی اور سیکرٹری صحت کے نام مکتوب میں "Did not appear befor special medical board on 21st jan" کی عبارت تحریر کی۔ دریں اثناءذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیکرٹری صحت افتخار شالوانی نے سابق صدر پرویز مشرف کے طبی معائنے کے لئے دوبارہ میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔

مزید : کراچی


loading...