لٹیروں نے اے ٹی ایم لوٹنے کے لیے نیا طریقہ ایجاد کر لیا

لٹیروں نے اے ٹی ایم لوٹنے کے لیے نیا طریقہ ایجاد کر لیا
لٹیروں نے اے ٹی ایم لوٹنے کے لیے نیا طریقہ ایجاد کر لیا

  


لاہور (ویب ڈیسک) اے ٹی ایم کو لوٹ کر پیسے بنانا کوئی نئی بات نہیں، پہلے لٹیرے گن پوائنٹ پر اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے والوں کو لوٹتے تھے اب ہیکر یہی کام اے ٹی ایم کو ہیک کرکے کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہیکرز نے جو نیا ”طریقہ“ متعارف کرایا ہے وہ سمارٹ فون ہے۔ سمارٹ فون کو اے ٹی ایم اور کمپیوٹر کے درمیان کمانڈ فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی واردات کرنے کیلئے ہیکر ایسی اے ٹی ایم کا رخ کرتے ہیں جو عوامی مقامات سے ہٹ کر ہو اور وہاں زیادہ رش نہ ہو کیونکہ یہ کارروائی اے ٹی ایم یعنی موقع واردات پر ہی ہوتی ہے۔

سام سنگ کا وہ فون جس سے ایپل کو شدید غصہ آجائے گا ،جاننے کیلئے کلک کریں

ہیکر سب سے پہلے تو اے ٹی ایم کے کیش ڈسپنسر کو اے ٹی ایم کمپیوٹر سے الگ کرکے ایک وائرس زدہ سمارٹ فون سے جوڑ دیتے ہیں۔ سمارٹ فون کی جگہ سرکٹ بورڈ اور یو ایس بی کنکشن بھی استعمال کیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی طرح ممکن ہو تو اے ٹی ایم مشین کے کمپیوٹر کے سی ڈی روم پر ہی نقب لگا کر اپنا ڈیٹا اپ لوڈ کردیا جاتا ہے۔ اس طرح کے طریقہ واردات کو بلیک باکس اٹیک کہا جاتا ہے۔ بہت سی اے ٹی ایم بنانے والی کمپنیاں اس طرح کی واردات سے نمٹنے کیلئے نئے پیچیز متعارف کرارہی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...