دنیا کا وہ اسلامی ملک جہاں پولیس نے زبردستی ہزاروں مردوں کی داڑھی شیو کردی

دنیا کا وہ اسلامی ملک جہاں پولیس نے زبردستی ہزاروں مردوں کی داڑھی شیو کردی
دنیا کا وہ اسلامی ملک جہاں پولیس نے زبردستی ہزاروں مردوں کی داڑھی شیو کردی

  

دوشنبے(مانیٹرنگ ڈیسک) کسی بھی ملک کے حکمرانوں کے لیے اپنے خلاف اٹھنے والی انقلاب کی تحریک بھیانک خواب ہوتی ہے اور سبھی ممالک انقلاب پسندی کے خیالات کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے اقدامات کرتے رہتے ہیں مگرمسلم اکثریتی ملک تاجکستان نے اس سلسلے میں ایک انتہائی شرمناک کام کر ڈالا ہے۔ تاجک پولیس نے 13ہزار سے زائد مردوں کی زبردستی داڑھیاں منڈھوا دی ہیں اور 1700سے زائد خواتین کو سکارف اور حجاب پہننے سے روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے سکارف فروخت کرنے والی 160دکانیں بھی بند کروا دی ہیں۔یہ اقدامات ملک کے جنوب مغربی علاقے خطلون میں اٹھائے گئے ہیں۔ خطلون پولیس کے سربراہ بہرام شریف زادہ نے ایک پریس کانفرنس میں ان اقدامات کا اعتراف کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کتنے فیصد کنواری سعودی لڑکیاں شادی شدہ مردوں سے شادی کیلئے تیار ہیں؟ سروے کے ایسے نتائج کہ شادی شدہ مرد خوشی سے نہال ہوگئے

تاجکستان میں اس وقت سیکولرحکمران برسراقتدار ہیں اور افغانستان کا ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے اس کے شہر بھی افغانستان کی بعض روایات اپنا لیتے ہیں۔ تاجک حکومت اپنے شہریوں کو ان روایات سے حتی الامکان دور رکھنے کی کوششیں کرتی رہتی ہے۔ داڑھی کو بھی تاجک حکومت افغانستان میں جاری شدت پسندی کی علامت سمجھتی ہے اس لیے اپنے ملک میں لوگوں کی داڑھیاں مونڈھ رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ انقلابی تحریک سے بچا جا سکے۔ گزشتہ ہفتے تاجکستان کی پارلیمنٹ میں شہریوں کے عربی ناموں اور فرسٹ کزنز کی آپس میں شادی پر پابندی عائد کرنے کے لیے ووٹنگ ہوئی اور اس قانون کو منظور کر لیا گیا تھا۔ تاجک صدر امام علی رحمان جلد اس پر دستخط کریں گے جس کے بعد یہ قانون ملک بھر میں لاگو ہو جائے گا۔

گزشتہ سال ستمبر میں تاجک سپریم کورٹ نے ملک کی واحد رجسٹرڈ اسلامی سیاسی جماعت ”اسلامک رینائسنس پارٹی“(Islamic Renaissance Party)پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ واضح رہے کہ صدر امام علی رحمان 1994ءسے تاجکستان پر حکمرانی کر رہے ہیں اور ان کے موجودہ دور صدارت کی مدت 2020ءمیں ختم ہو گی۔ گزشتہ سال دسمبر میں تاجک پارلیمنٹ امام علی رحمان کو ”لیڈر آف دی نیشن“قرار دیتے ہوئے انہیں اور ان کی فیملی کو مقدمات سے تاحیات استثنیٰ دے چکی ہے۔ تاجکستان نے تقریباً دو دہائیاں قبل سوویت یونین سے آزادی حاصل کی تھی، مگر اب بھی اس کا زیادہ تر انحصار روس پر ہے کیونکہ اکثر تاجک باشندے روزگار کے لیے روس کا رخ کرتے ہیں۔ اس وقت تاجکستان کی آبادی تقریباً70لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -