سعودی عرب میں گاڑی چلانے والوں کیلئے انتہائی ضروری معلومات، بڑی خوشخبری آگی

سعودی عرب میں گاڑی چلانے والوں کیلئے انتہائی ضروری معلومات، بڑی خوشخبری آگی
سعودی عرب میں گاڑی چلانے والوں کیلئے انتہائی ضروری معلومات، بڑی خوشخبری آگی

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں گاڑی چلانے والے اکثر افراد قوانین سے آگاہی نہ ہونے کہ وجہ سے بے جا مسائل میں مبتلاءہو جاتے ہیں، جن میں گرفتاری بھی شامل ہے۔ ’عرب نیوز‘ کے مطابق گرفتاری صرف مخصوص صورتحال میں ممکن ہے، جس کی تفصیلی وضاحت ٹریفک ایکسپریٹ مسائد الربیش نے پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کسی بھی ڈرائیور کو محض اس صورت میں گرفتار کرسکتی ہے کہ جب اس نے ایک ہی ہجری سال کے دوران کسی ٹریفک قانون کی کم از کم دو دفعہ خلاف ورزی کی ہو، اور اس کے باوجود گرفتاری سے پہلے عدالت کا حکم نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ 

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اکثر ٹریفک پولیس اہلکاروں کو اس نظام کے بارے میں مکمل علم نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی چار بنیادی اقسام ہیں۔ پہلی قسم کی خلاف ورزی کا جرمانہ 500 ریال سے شروع ہوکر 900 ریال تک ہے، جبکہ گاڑی بھی تحویل میں لی جاسکتی ہے۔ دوسری قسم کا جرمانہ 300 ریال سے 500 ریال ہے، جبکہ اس میں بھی گاڑی تحویل میں لی جاسکتی ہے۔ تیسری قسم 150 ریال سے 300 ریال تک ہے، جس میں گاڑی تحویل میں نہیں لی جاسکتی، جبکہ چوتھی قسم میں جرمانہ 100 ریال سے 150 ریال ہے، اور اس میں بھی گاڑی ضبط نہیں کی جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریفک قوانین کی کل 73 خلاف ورزیاں قانون میں بیان کی گئی ہیں، جن میں سے 9 میں گاڑی ضبط کی جاسکتی ہے۔ سرخ اشارے کی خلاف ورزی، منشیات کے زیر اثر ڈرائیونگ، غلط سمت میں ڈرائیونگ، اوور سپیڈنگ اور غلط اوور ٹیکنگ وغیرہ ان میں سے اہم ترین ہیں۔ اگر ان نو میں سے کوئی خلاف ورزی ایک ہی ہجری سال میں دو دفعہ کی جائے تو اس صورت میں عدالت کے حکم نامے کے بعد ڈرائیور کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

قوانین کی خلاف ورزی کی الیکٹرانک مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور ایک ہی قانون کی دو دفعہ خلاف ورزی کے بعد 30 دن کے اندر معاملہ عدالت کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ عدالتی حکم نامہ جاری ہونے کے بعد ڈرائیور کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -