وہ خاتون جس نے زندگی میں صرف ایک تبدیلی کرکے سوشل میڈیا کے ذریعے 38 کلو چربی پگھلاڈالی، موٹے افراد کو کامیابی کیلئے مفید مشورہ بھی دے دیا

وہ خاتون جس نے زندگی میں صرف ایک تبدیلی کرکے سوشل میڈیا کے ذریعے 38 کلو چربی ...
وہ خاتون جس نے زندگی میں صرف ایک تبدیلی کرکے سوشل میڈیا کے ذریعے 38 کلو چربی پگھلاڈالی، موٹے افراد کو کامیابی کیلئے مفید مشورہ بھی دے دیا

  

لندن(نیوزڈیسک)آپ نے ورزش یا خوارک میں کمی کے ذریعے لوگوں کو وزن کم کرتے ہوئے دیکھا یا سنا ہوگا لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسی خاتون کے بارے میں بتائیں گے جس نے اپنی زندگی میں صرف ایک تبدیلی اور سوشل میڈیا کی مدد سے 38کلوگرام چربی پگھلا لی۔

سکاٹ لینڈ کی 24سالہ اشلیگ مُن کا کہنا ہے کہ ساری عمر اس کا وزن بہت زیادہ تھا اور وہ مختلف طرح کی بیماریوں کا شکار ہوچکی تھی لیکن پھر اس نے اپنی خوارک میں ایک بنیادی تبدیلی کی اور صرف سبزیاں کھانے لگی۔یہ تبدیلی بہت ہی کارگر ثابت ہوئی اور اس کا وزن تیزی سے کم ہونے لگا اور جو کپڑے اس نے خواب میں بھی نہیں پہنے تھے اب وہ بھی زیب تن کرتی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کی دو سالہ بیٹی اسے ایک بھاری بھرکم ماں کے طور پر دیکھے جو ہروقت گندبلا کھاتی ہو اور اس چیز کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے اپنے وزن میں کمی کرنے کی ٹھانی۔اس کا کہنا ہے کہ جب جنوری 2014ءمیں اس کی بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا وزن 101کلوہوچکا تھا اور وہ کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کرسکتی تھی۔نومبر2014ءمیں اسے معدے میں شدید درد کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیااور اس کی بیضہ دانی میں کافی مسائل پیدا ہونے لگے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے انسٹاگرام پر ایک فٹنس ماہر کی ویڈیوز دیکھنا شروع کیں اور وہاں سے غذائیت والے کھانے بنانے سیکھے اور ایسی ڈشز بنائیں جن میں صرف سبزی کا استعمال کیا جاتا تھا۔اس تبدیلی سے قبل اس کا وزن 101کلوگرام تھا لیکن سبزیاں کھانے کے بعد اس کا وزن 38کلوگرام کم ہوگیا۔اس کا کہنا ہے کہ مئی2015ءکے بعد وہ جو بھی کھانا کھاتی تھی اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتی تاکہ لوگوں کے کمنٹ سے اسے علم ہوسکے کہ جو وہ کھارہی ہے کیا اس میں غذائیت اور فوائد موجود ہیں کہ نہیں ۔اس کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس نے کبھی بھی سبزیوں کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اور صرف چپس،فروزن کھانے،میٹھائیاں اور فاسٹ فوڈ کھاتی تھی جس کی وجہ سے اس کا وزن خوفناک حد تک بڑھ گیا اور اب اس کی غذا میں صرف سبزیاں ہی موجود ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -